فخر عالم قریشی

 

گزشتہ دنوں گلگت بلتستان عالمی میڈیا اور ملکی خبروں کی مسلسل ہیڈ لائن میں تھا، اسلیئے نہیں کہ خطہ بےآئین گلگت بلتستان قدرتی حُسن سے مالا مال اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، بلکہ خطے کا پسماندہ علاقہ دیامر میں کچھ طالبانی اسیران نے حکومت کی جانب سے طالبان اور حکومت کے مابین طےشدہ معائدے کی خلاف ورزی اور تاخیری حربے استعمال کرنے پرمسلح دھرنا دیا تھا۔ جس کے باعث درجنوں سیاح اور مقامی لوگ گاڑیوں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کرگیا جب صوبائی وزیر کرنل عبیداللہ اسلام آباد سے گلگت کی طرف براستہ شاہراہ ناران کاغان آرہے تھے تو تھک جل کے مقام پر روڈ بلاک تھا، عین اسی وقت صوبائی وزیر کرنل عبید معمول کا احتجاج سمجھ کر مطالبات حل کرنے کیلئے ہمدردانہ طور پر آگے بڑھے تو احتجاجی مظاہرین کو علم ہوا کہ کیوں نہ کرنل صاحب کی آمد سے فائدہ اٹھائیں کہہ کر کمانڈر عبدالحمید اور ساتھیوں نے صوبائی وزیر کو ساتھ ہی قریب کے ایک کمرے میں لے گئے اور وہاں اپنے مطالبات پیش کرکے معائدے پر عمل در آمد کا پیغام دیا۔

تاہم جب صوبائی وزیر نے مقامی صحافیوں کو بذریعہ کال تمام تر حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے بھی طالبان نے اپنے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بننے کیلئے درخواست کی ہے اور میں مان گیا ہوں۔ جب خبر میڈیا کی زینت بنی تو سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر صوبہ گلگت بلتستان کا پرامن معاشرہ مسلسل افواہوں کی زد میں رہا۔

اطلاع ملتے ہی گلگت بلتستان سول سوسائٹی، اور سماجی تنظیموں سے منسلک کچھ شخصیات جن میں سابق صوبائی حکومتی ترجمان فیض اللہ فراق، علمائے دیامر، اور صدر تھک نیاٹ قومی یوتھ موومنٹ ضیاء اللہ تھکوی موقعے پر پہنچ گئے اور مذاکرات کے ذریعے روڈ بحال کرنے پر بضد رہے تو کچھ کمانڈرز اور مزاکراتی ٹیم کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اگر اس خطے میں تحریک طالبان کی موجودگی پر روشنی ڈالی جائے تو یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ یہاں کچھ سال پہلے تک درجنوں ایسے طالبان بستے تھے جو خود کا تعلق جہادی تنظیم تحریک طالبان سے جوڑتے تھے اور طالبان کے ایک دوسرا گروپ جو یہاں کے پہاڑوں میں آباد ہوا کرتا تھا، کا تعلق امارت اسلامی افغانستان سے تھا۔

صدر تھک نیاٹ قومی یوتھ موومنٹ ضیاء اللہ تھکوی نے شاہراہ بابوسر پر طالبان کی جانب سے دی جانے والی احتجاجی دھرنے کے مذاکرات کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس خطے میں مقامی طالبان کی تعداد 30 سے 40 ہے لیکن اس دھرنے میں اکثر ایسے لوگ بھی تھے جن کا تعلق دوسرے صوبوں سے ہے۔

مجھے خدشہ ہے کہ یہاں بسنے والے طالبان کی اکثریت کا تعلق کوہستان و دیگر علاقوں سے ہے۔ جو پہاڑی دروں سے ہوکہ یہاں پناہ لیئے بیٹھے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئندہ کسی بھی شرپسند کو قومی شاہراہ پر دھرنا دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ضیاء اللہ تھکوی کے انٹریو کے بعد یہ شک کی گنجائش نہیں کہ حالیہ سوات میں طالبان کے دورباہ ایکٹیو ہونے کے بارے میں خبریں حقیقت پر مبنی ہیں۔

جب سوشل میڈیا پر صوبائی وزیر کے اغوا کی خبریں گردش کرنے لگی تو سابق صوبائی حکومتی ترجمان و کالم نگار، فیض اللہ فراق نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ  تھک بابوسر کی مجموعی عوام پرامن، مہمان نواز اور خطے کے امن سے وفادار ہیں۔ ہم کرنل ( ر) عبید صاحب کو باعزت ، سلامت اور پرامن انداز میں گلگت پہنچانے میں پورا کردار ادا کریں گے، تمام حالات معمول پر ہیں۔ دیامر کے اسیران کے سلسلے میں کچھ مطالبات ہیں جن کی جلد یقین دہانی ہوگی۔ میں ذاتی طور پر اس جرگے کا حصہ ہوں۔ سوشل میڈیا پر صوبائی وزیر کے اغوا بارے چلنے والی بہت ساری منفی خبروں کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔

دیامر کا علاقہ اس خطے کا گیٹ وے ہے۔ یہاں کی شاہراہوں پر اس طرح کے دھرنے اسلیئے نا مناسب اور قابل مذمت ہیں کہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے چین، انڈیا اور سنٹرل ایشیا کے ساتھ مشترکہ سرحدیں رکھتا ہے اور زمانہ قدیم سے اسے اہمیت حاصل ہے۔ جب برصغیر میں تاج برطانیہ کا جاہ و حشم عروج پر تھا تو دوسری جانب زار روس اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ہمسایہ کے علاقوں کو نگلتا آگے بڑھ رہا تھا اس دوران گلگت بلتستان کے پہاڑی درّوں اور دور افتادہ وادیاں روس اور برٹش انڈیا کے کارندوں، جاسوسوں اور تحقیق کاروں کا سوانگ بھر کر آنے والوں کی رزم گاہ بن گیا تھا جسے تاریخ میں ’’گریٹ گیم‘‘ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسلئے یہ خطہ ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔

تھور یوتھ آرگنائزیشن کے چیئرمین فدااللہ راج نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی قیمت پر اس خطے کو بدامنی کی جانب دھکیلنے نہیں دیں گے۔ شرپسند گروہوں کو اپنے مطالبات ٹیبل ٹاک کے ذریعے منوانا چاہیئے ناکہ شاہراہوں پر دھرنا دےکر انہوں نے کہا کہ حکومت نے پورے گلگت بلتستان میں دہشتگردی اور اینٹی اسٹیٹ سرگرمیوں ملوث کرداروں کو معافی دےکر جیلوں سے رہا کیا ہے تو دیامر کے اسیران کے مطالبات بھی حل ہونے چاہیئے تاکہ خطے میں بننے والے میگا منصوبے اس بدامنی کے شکار نا ہوں۔

تحریک انصاف کے صوبائی وزیر کرنل عبیداللہ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ طالبانی اسیران کے تمام مطالبات جائز ہیں۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے سے قبل حکومت اور ادارے معائدے کی پاسداری کرتے ہوئے جلد ز جلد مطالبات کو حل کرنے کیلئے آگے بڑھیں۔

اسی معائدے کی روشنی میں کچھ طالبان کمانڈرز نے اسلح چھوڑ کر حکومت کے سامنے سرنڈر ہوگئے۔ جو شیعہ افراد کو قتل کرنے سمیت دیامر کے کئی اسکولوں کو جلانے میں ملوث تھے۔ انہوں کہا کہ ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے، لہذا ہم اپنی کیئے پر نادم ہیں اور حکومت وقت سے عام معافی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکومت نے انہیں پیس پراسیز کے ذریعے سہولیات بھی دیں ہیں۔

جبکہ 15کمانڈرز پر مشتمل دوسرے گروپ نے تاحال گرفتاری نہیں دی،انکا کہنا ہے کہ پہلے ہمارے ساتھ کیئے گئے معائدات پر عمل کریں۔ بعد میں ہم خود کو سرنڈر کریں گے۔ تاہم معاہدے کے اہم شرائط میں  شدت پسندوں نے تمام اپنے بے گناہ ساتھی جو کہ جیلوں میں ہیں یا عدالتوں سے سزا یافتہ تھے کو مرحلہ وار رہائی دینے اور جو مفرور یا اشتہاری قرار دیے گئے تھے کو قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار نہیں کرینگے۔ نیز قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب شدت پسندوں کو اپنے علاقے میں آزادانہ گھومنے پھرنے ، اپنے فیملی ممبرز کیساتھ ملنے اور رشتہ داروں کے غم اور خوشی میں شرکت کیساتھ ان کے خلاف مقدمات کو ختم کرنے کی شرط رکھی گئی۔

اس کے بدلے حکومت نے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شدت پسندوں کو علاقے میں کسی بھی قسم کی دھشت گردی کی واردات نہ کرنے کی شرط کیساتھ مختلف دھشت گردی کی وارداتوں میں جیل میں قید یا سزا یافتہ افراد کو قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ان کو مرحلہ وار رہائی دینے کا وعدہ کیا۔ نیز جو بھی شدت پسند گرفتار نہیں ہوا ہے اس کو گرفتار نہ کرنے معاہدہ طے کیا۔ 

فروری 2019 کو ایک مرتبہ پھر صوبائی حکومت عمائدین علاقہ اور طالبان کمانڈرز کے مابین کھنبری کے مقام پر معائدے کے روشنی میں ایک جرگے  کا انعقاد کیا گیا جس میں طالبان کمانڈرز نے دس سال قبل محکوم اللہ نامی کمانڈر کو راولپنڈی سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے کو ہمارے حوالہ کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا۔اور صوبائی حکومت نے مطالبہ جائز قرار دے کر تسلیم کیا۔ انہیں طالبان کمانڈرز کی جانب سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ دیامر میں 2013 کے بعد کچھ وارداتوں میں ملوث مفرور اور بعض جیل میں موجود مبینہ ملزمان کے ساتھ نرمی بھرتی جائے اور انہیں معافی دےکر عام شہری بنایا جائے۔

جن میں قابل ذکر ننگاپربت بیس کیمپ میں غیرملکیوں کی قتل اور دیامر کے مختلف علاقوں میں بچیوں کے اسکولوں کو مبینہ طور پر  اڑانے اور آگ لگانے والے خطرناک مقدمات کے مبینہ ملزمان شامل تھے۔ ساتھ طالبانی کمانڈرز نے یہ بھی بتایا کہ اینٹی اسٹیٹ سرگرمیوں میں ملوث مقامی قوم پرست بابا جان سمیت کئی ساتھیوں کو جب ریاست 9 برس بعد جیل سے رہا کرنے سمیت ان کے ہم خیال کو حکومت کا حصہ بنایا جاسکتا ہے تو ہمیں عام معافی کیوں نہیں دے سکتی۔

یاد رہے اس سے قبل حکومت پاکستان نے شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی اور فضائی آپریشن کیئے،لیکن اس دوران ملک کا سب سے بڑا میگا منصوبہ دیامر بھاشا ڈیم سمیت پاکستان چین اقتصادی راہداری پر کام کے آغاز کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس وقت صوبے میں ن لیگ کی حکومت تھی اور معاہدے میں یہ طے پایا گیا کہ طالبان کو گارنٹی دیدی جائے اور ان کے تمام جائز مطالبات حل کیئے جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ2019 کو طے پانے والے معاہدے کی پاسداری حکومت نے کی ہے یا طالبانی گروہ نے۔

 آئیں! اس پر ایک سرسری نظر دوڑاتے ہیں۔

 سال 2019 میں طے معائدے کے تحت طالبان گروپ نے اب تک کوئی شدت پسندانہ کاروائی نہیں کی جو واضع ہے اور تحریک طالبان دیامر و کوہستان کہنے والے گروپ کے کردار پر نظر ڈالیں تو کوئی واردات تاحال نہیں ہوئی ۔ البتہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یاد دہانی کیلئے ایک سال قبل نائب امیر تھک نالے کے پر فضاء مقام پر اسلحہ سمیت اپنے چند ساتھیوں سمیت سامنے آیا اور مقامی سوشل میڈیا کے ذریعے معاہدے پر عملدرآمد کا تحریری بیان پڑھ کر سنایا ۔ جس سے سوشل میڈیا میں دھوم مچ گئی ۔ لیکن حکومتی سطع پر اس بیان اور یاد دھانی کو نظرانداز کیا گیا ۔ پھر 7 اکتوبر 2022 کو تھک کے قریب اس شدت پسندوں کے گروپ نے معاہدے پر عمل درآمد کے لئے یادھانی کیلئے پھر سے چلاس ناران شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بند کیا۔

طالبان کی جانب سے حالیہ دھرنے میں جہاں سابق صوبائی حکومتی ترجمان فیض اللہ فراق،علمائے دیامر،اور صدر تھک نیاٹ قومی یوتھ موومنٹ ضیاء اللہ تھکوی نے بڑی جرات اور بہادری کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب کروانے اور منوانے کیلئے کردار ادا کیا ہے وہ لائق تحسین اور ناقابل فراموش ہے۔

 6 گھنٹوں کی طویل مذاکرات کے بعد اس معائدے کی روشنی میں طالبانی کمانڈرز نے صوبائی حکومت کو دس دن کا وقت دیا ہے،اگر پھر سے ان کے مطالبات نظر انداز کر دیئے گئے تو ممکنہ طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ اگلی دفعہ جیل میں قید ان طالبان کے ورثاء شاہراہ قراقرم کو بلاک کرکے احتجاجی دھرنا دیں گے۔اور حکومتی کی جانب سے استعمال کی جانے والے تاخیری حربے ایک بڑے ناخوشگوار واقعے کی نوید سنا رہے ہیں۔