حیدر راجپر

متبادل پر جب میں نے پہلا مضمون لکھا تھا تو اس وقت ایک دوست نے مضمون کے حوالے سے اپنی رائے دینے کے بجائے یہ کہا تھا کہ علمی سائٹ پر سگریٹ کی تصویر دیکھ کر بہت عجیب لگا ۔ میں نے جواب میں کہا تھا کہ چائے ، سگریٹ اور لکھنے پڑھنے والوں کے درمیان جو گہرا تعلق ہے وہ شاید آپ نہیں جانتے ۔ ساحر لدھیانوی ، فیض احمد فیض ، جون ایلیا ، منٹو اور کئی ایسے بڑے نام ہیں جو سگریٹ سلگاتے ہوئے لکھتے رہے ۔ میری بات کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ اچھا قلم کار ہونے کے لئے سگریٹ پینا ضروری ہے۔

سگریٹ مضر صحت ہے ، لیکن حد سے زیادہ کام کرنے والا ہر دوسرا شخص یہ بات جانتے ہوئے بھی آپ کو سگریٹ کا عادی ملے گا۔ ویسے بھی یہ میرا ذاتی فعل ہے ، اس لئے آپ کو چاہیے کہ میرے تصویر پر بات کرنے کے بجائے میری تحریر پر بات کریں۔

اب چونکہ حکومت نے سگریٹ کا استعمال کرنے والوں پر گناہ ٹیکس کا اطلاق کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو شاید دوبارہ میری سگریٹ والی یہ عجیب تصویر آپ کو دکھائی نہ دے ۔ لیکن اب ہم بات کرتے ہیں گناہ ٹیکس پر …..

حیرت ہے ان حکمرانوں پر جنہوں نے ٹیکس کا یہ نام ایجاد کیا ۔ بیشک سگریٹ نوشی مضر صحت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ گناہ ٹیکس صرف سگریٹ پر ہی کیوں ؟ اس ملک میں کھانے پینے کی تمام چیزوں سے لے کر دوائیوں تک ہر چیز میں ملاوٹ ہوتی ہے ، لیکن شاید یہ سب چیزیں حکمرانوں کے نزدیک ثواب ہیں اس لئے ملاوٹ کرنے والوں پر گناہ ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور شاید ان تمام مسائل کے چکر میں دکھے کھانا بھی یہاں ثواب ہے جن کی وجہ سے ایک انسان سگریٹ پینے پر مجبور ہوتا ہے ۔

53 COMMENTS

Comments are closed.