ارشدسلہری

سیاست اور انقلابات عہد کے ہوتے ہیں۔ ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ سمجھ دارسیاسی کارکن اپنی سیاسی حکمت عملی، عہد کے تقاضوں کومد نظر رکھ کر بناتے ہیں اور اپنی سیاست کو جدید حالات سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ نظام بدلنے اور انسانی زندگیوں کو سہل بنانے کےلیئے سیاست اور سیاسی پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ نظریات ذہن سازی کرتے ہیں۔ نظریات کی تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے تمام ترمراحل سیاسی جماعت کے قیام سے قبل مکمل کیئے جاتے ہیں۔ جس طرح پولیس، فوج اور دیگر فورسز کی تربیت کی جاتی ہے اور تربیت مکمل ہونے کے بعد انہیں فرائض سونپ دیئے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعت بھی ایک تربیت یافتہ  پولیٹیکل فورس ہوتی ہے جو اپنے طے کردہ مقاصد کے حصول کےلیئے جدوجہد کرتی ہے۔ نظریات سکھانے اور پڑھانے کے بجائے پولیٹکل فورس عوام کو مسائل کے حل کے لیئے تیار کرتی ہے۔ غلط اور درست میں فرق واضح کرتی ہے۔

سیاسی جماعت کی کامیابی نظریات پر نہیں بلکہ مضبوط اور واضح بیانیے، جامع حکمت عملی اور ہم خیال لوگوں کی بدولت ہوتی ہے۔ پاکستان کے تناظر میں موجودہ عہد میں حقیقی سیاسی جماعت کی اشد ضرورت ہے۔ حکمران جماعت سمیت پارلیمانی جماعتوں کے تضادات کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ امکانات واضح ہیں کہ کیا ہوگا۔ اس لیئے ضرورت اس امر کی ہے کہ متبادل سیاسی قیادت کی تعمیر کی جائے۔ نظریات کی نظریات سے لڑائی، کارکنان کی کارکنان سے لڑائی، ووٹر کی ووٹر سے لڑائی اور محض اختلافات ہی اختلافات مزید انتشار کا موجب بن رہے ہیں۔ جس کا فائدہ غیر سیاسی قوتوں کو ہورہا ہے۔ غیرسیاسی قوتیں یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سیاسی فورسز اس قابل نہیں کہ کچھ بہتر کام کر سکیں۔ یہ بات عوام کو بھی اپیل کرتی ہے۔ عام عوام بھی سیاسی قوتوں سے شاکی ہیں۔ قومی قیادت کا فقدان واضح ہے۔ ملک اس وقت قیاد ت کے بحران سے دوچار ہے۔ موجودہ پارلیمانی جماعتوں اور سیاسی قیادت کے بارے میں تمام تر امکانات عوام کے سامنے آچکے ہیں۔ عوام سمجھ چکے ہیں کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔

نظریات کے پرچارک بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کی نظریاتی تعلیم و تربیت کی تاریخ میں نظریہ کے عالم، دانشور اور جدوجہد کرنے والےاپنی تمام تر زندگی جدوجہد کرتے کرتے موت کے منہ میں چلے گئے مگر حالات بد سے بدتر ہوئے ہیں۔ نئی صبح طلوع نہیں ہوئی۔ قابل غور اور قابل فکر امر ہے کہ تسلسل جاری ہے۔ پیش رو کی تقلید کا عمل جوں کا توں ہے۔ نہ وہ بدلے تھے اور نہ ہم بدلے ہیں۔

ہم کیا کہیں احباب کیا کارِ نمایاں کر گئے، “بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے” ہمارا بھی یہی حال ہے۔ نظریاتی بنے، پرچارک بنے، جدوجہد کی اور مرگئے۔ احباب ذرا توجہ فرمائیں! تو ہم واقعی مر رہے ہیں۔ ڈاکٹر لال خان تک کئی نام، اب نہیں رہے۔ ذرا سوچیں اور ضرور سوچیں! ہمیں اس گھن چکر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی کارکن بننے کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت کے طور پر سامنے آنے اور ابھرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ سچائی پر قائم ہیں، آپ کو موجودہ حالات پر تشویش ہے، آپ فکر کرتے ہیں، آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو خودساختہ یا پیش رو کے بنائے دائروں سے باہر نکلیں۔ پہل خود کریں!  دائرہ توڑ دیں! دائروں کی قید جیل سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ یہ زنجیریں جو آپ نے خود پہنی ہیں یا پہنائی گئی ہیں یہ توڑنی ہوں گی۔ تقریریں، مباحثے، سیمینار، مضامین، شاعری ، نظمیں، شوشل میڈیا ایکٹوازم تب ہی کام آئے گا جب تمام ہم خیال قوتیں ایک بیانیہ پر بات کر رہے ہوں۔ اپنی اپنی ہانکنے سے قافلہ بنے گا، نہ راستہ ملے گا اور نہ نشان منزل دکھائی دے گا۔ ہم خیال لوگوں کی جڑت، مضبوط بیانیہ اور جامع حکمت عملی سے ہی نئی صبح کی بات کرنے والے امید کی کوئی شمع روشن کر سکتے ہیں۔

Previous articleتم گھر سے باہر نکلتی ہی کیوں ہو؟
Next articleمعاشرہ، سیکس اور ریپسٹ