عابد حسین

بحثیت صحافی اور سوشل ایکٹیوسٹ میں سب سے پہلے اپنے اردگر جہاں بھی، جس پر بھی اور جس کے ہاتھوں بھی کسی پر ظلم ہوتا ہے اس پر تنقید بھی کرتا ہوں اور صاحبان اختیار سے مطالبہ بھی کرتا ہوں کہ معاملات حل کیئے جائیں۔ پہلے اپنی استطاعت کے مطابق خاندان، گھر بار، گلی محلے، اپنے علاقے کے بارے میں بات کرنی چاہیے اور ظلم کے خلاف اٹھ کڑا ہونا چاہیے۔ اس کے بعد اپنے ہمسائے میں دیکھنا چاہیے۔ خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان ہو یا کوئی اور جگہ جیسے افغانستان، کشمیر یا پھر دنیا میں جہاں بھی ظلم ہو اس کے خلاف آواز اٹھانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔

فلسطین میں کئی روز  بربریت جاری رہی لیکن عرب ممالک خصوصی طور پر سعودی عرب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور کیسے انہیں کوئی فکر ہوکہ امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب نیکسس کسی سے ڈھکی چھپی بات تو ہے نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اسرائیلی مظالم کے خلاف اور فلسطین کے حق میں احتجاج اب تک جاری ہے لیکن اسلامی ممالک کے نمائندے یا تو میڈیا پر آکر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہے ہیں یا بیانات سے کام چلارہے ہیں۔ ترک صدر بھی ولن کی طرح  ”ہاتھ توڑ دوں گا“ جیسے ڈائیلاگ سنا رہا ہے کیونکہ اس سے زیادہ کچھ بھی کرنے سے اسرائیل کے ساتھ ٹریڈ اور یورپین یونین کی ممبرشپ کے حصول کی کوشش کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہاں! درپردہ ایران ضرور روسی ہتھیار حماس اور حزب اللہ وغیرہ کو فراہم کررہا ہے۔

پاکستانی عوام اور ریاست کے کردار میں فرق ہے۔ عوام تو انتہائی قدم اٹھانے کے حق میں ہیں لیکن ریاست اور اس کے نمائندے سعودی عرب اور امریکہ کی وجہ سے مجبور نظر آتے ہیں۔ جن اسلامی ممالک نے میڈیا پر دوسرے اسلامی ممالک کے نمائندوں سے رابطہ کیا ہے وہ رابطے بھی صرف رابطوں کی حد تک ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جب سلطنت عثمانیہ کا سقوط ہوا اورعربوں نے برطانوی سازش کا شکار ہو کر ترک خلافت سے بغاوت کی تو ارض فلسطین انگریز کے ہاتھ آ گئی۔ یہود، جن کا آبائی وطن یہی ارض مقدس تھا، ہمیشہ سے اس خطہ پہ حسرت کی نگاہ جمائے بیٹھے تھے۔ ہٹلر کے یہودیوں پر مظالم نے یورپ میں ایک گِلٹ پیدا کر دیا اور ایسے میں جب Zionist  یہودیوں کے لیئے  ایک وطن کی تجویز سامنے لائے تو یورپ فوراً  اس پر آمادہ ہو گیا۔

مگر اس وقت خود فلسطینی کیا کر رہے تھے؟ یورپ سے جانے والے یہودیوں نے فلسطینیوں سے منہ مانگی  قیمت پر مہنگے داموں یہ زمینں خریدیں۔ باچا خان کہتے ہیں کہ زمینیں بیچتے وقت عربوں کا جواز تھا کہ  چودھویں صدی ختم ہو رہی ہے اور قیامت آنے والی ہے۔ سو ہم تو یہودیوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں عین قیامت سے قبل مہنگی زمین بیچ کر۔ واللہ اعلم مگر وقت نے ثابت کیا کہ بے وقوف کون ہے۔ جب برطانیہ اپنے گلے سے مصیبت یہ کہہ  کر اتارتے ہوا نکلا کہ وہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت میں ناکام رہا ہے تو اشک نازیوں نے فلسطینیوں کو کئی علاقوں سے بھیڑوں کی طرح نکال باہر کیا اور وہ ایک کمزور سی مزاحمت بھی نہ  کر سکے۔ اب یہود وہاں ایک مستحکم قبضہ رکھتے تھے اور حکمت کا تقاضا تھا کہ بدلتے وقت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا مگر مسلم لیڈرز اس حکمت سے محروم نکلے۔ یہود نے شروع میں بہت کم کا مطالبہ کیا مگر اسے نخوت سے ٹھکرا دیا گیا۔ اقوام متحدہ نے ایک ایسا حل تجویز کیا کہ دو تہائی زمین فلسطین کی ہوتی مگر ہم تو اپنی تاریخ کے نشے میں دھت تھے۔ بِغیر تیاری، ”مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی“  گاتے ہوئے اسرائیل سے جنگ چھیڑی گئی اور کل عرب قوم نے تاریخ کی بدترین ذلت اٹھائی اور مزید علاقے گنوا دیے۔ اس ذلت نے انور سادات کو نفسیاتی مریض بنا دیا اور اسرائیل کو مزید نڈر۔

اسرائیل کا یہ مؤقف مزید مضبوط ہو گیا کہ مسلمان یہود کو مٹانا چاہتے ہیں اور اس نے مزید امداد حاصل کر لی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ عرب دہائی دیتے ہیں کہ عرب اسرائیل جنگ سے پہلے والی حالت پہ جایا جائے اور وقت ان پہ ہنس رہا ہے۔ دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہود میں بھی سفادی اور اشک نازی کی تفریق ہے۔ آپ کو بہت سے سفادی یا عرب یہودی، مسلمان عربوں کے ساتھ مل کر فلسطین کے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑتے نظر آئیں گے۔ ہمارے کچھ مہربانوں نے ایک بڑی غلطی یہ کی کہ اسے ایک مذہبی مسئلہ بنا دیا۔ مسلمان کبھی فلسطین کے حاکم تھے، پھر نہ  رہے اور پھر واپس بن گئے۔ مگر یہ ان کے فلسطین پر حکومت کا استحقاق نہیں بن جاتا۔ تاریخ کی بے رحم موج نے ہمیشہ بہت سے نشان مٹائے ہیں۔ یہی ارض فلسطین یہود کا ہزاروں سال پرانا وطن بھی تو ہے۔ ہمارا تو فقط ایک قبلہ اوّل، جو متروک ہو چکا، وہاں ہے۔ ان کا تو پورا مذہب اور تاریخ ہی وہاں کی بنیادوں میں دفن ہے۔ ایسے میں اسے مذہبی کے بجائے سیاسی مسئلہ ہی بنانا چاہیے تھا اور اسی کی بنیاد پر باقی اقوام سے مدد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اسرائیل نے اس ”مسلم اتحاد“ کا خوف دکھا کر دنیا بھر کے یہود سے فنڈز لیئے۔ یورپ اور امریکہ سے مدد لی اور آج عرب خطے کے سینے میں ایک ایسا خنجر ہے جسے نکالنے کی ہمت خود عرب بھی نہیں کر سکتے۔

کیونکہ فلسطین کے مظلوم لوگ جو حریت کی علامت بن چکے، بنا کسی مؤثر مدد کے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیئے اس تنازعے کو ایک عالمگیر سیاسی مسئلہ کے طور پر حل کرنے کی  کوششیں کی جائیں اور اسے ”مسلمان بمقابلہ یہود“ بنا کر محدود نہ  کیا جائے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے جذباتی خول سے باہر نکلیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسے حل کی جانب جائیں جو خطے میں امن لائے اور مزید توسیع پسندی کا راستہ روکے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر ہم یونہی جذباتی نعرے لگاتے رہے تو ہماری اگلی نسل کئی مسلم ممالک کو اسرائیل کا حصہ دیکھے گی۔

انڈونیشیا، مصر، ترکی، ایران اور پاکستان کی بڑی افواج، جدید جنگی ہتھیار، ایٹمی قوت اس وقت بے کار نظر آتے ہیں۔ او آئی سی نامی کینسر زدہ تنظیم بھی بیوہ نظر آرہی ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کے ورچول ہنگامی اجلاس میں عالمی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ سے اسرائیل کو امن پر مجبور کرنے، فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے اور پابندیاں ہٹانے کا روایتی انداز میں مطالبہ کیا گیا ہے۔ امریکہ ببانگ دہل اسرائیل کے حملوں کو درست مان رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سب سے پہلے او آئی سی کا اجلاس بلایا جاتا اور تنظیم اپنامشترکہ اعلامیہ سامنے لاتی۔ جن اسلامی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی یا تجارتی تعلقات ہیں، انہیں ختم کرنے کا اعلان کرتی۔ اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتی۔ اسی طرح عرب لیگ کا اجلاس بلایا جاتا۔ اسرائیل جو کہ عرب لیگ کا ممبر ہے اس کو روکا جاتا اور ووٹنگ کے ذریعے اس کی رکنیت ختم کرنے کی کوشش کی جاتی۔ عرب، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک اسرائیل پر فضائی اور سمندری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے۔ مصر نہر سوئز میں اسرائیلی تجارت کو روکتا۔ عرب لیگ کے ممبر ممالک جن میں زیادہ تر عرب، افریقہ کے اسلامی ممالک ہیں وہ بھی یہی عمل دہراتے۔ اقوام متحدہ جاتے اور اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کرتے کہ اگر اسرائیل کو نہیں روکا گیا تو عرب لیگ اور او آئی سی کے ممبران مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کے فورم پر اسرائیل کے خلاف علامتی اعلان جنگ کریں گے۔

اگر اس سے بھی کام نہ چلتا تو تمام اسلامی ممالک مشترکہ طور پر اقوام متحدہ سے اپنی رکنیت ختم کرنے کی دھمکی دیتے تو یقیناً ضرور کچھ تبدیلی محسوس ہوتی۔ لیکن نہیں جی ہمیں جنگ تو نہیں کرنی لیکن ایٹم بم اور اسلحے کے انبار پر کھربوں خرچ کرنے ہیں۔ ہمیں جنگ نہیں کرنی لیکن 40 ممالک کی اسلامی اتحادی افواج پالنا ہے۔ ہمیں جنگ نہیں کرنی لیکن قبلہ اول کو آزاد کرانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی اسلامی ملک اسرائیل کو قابض اور فلسطین کو قبلہ اول اور اپنا بھائی سمجھتا ہے تو پھر تو بھائی کے لیئے، دوست کے لیئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ ایک محاورہ ہے کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے۔ حملہ آور جب آتا ہے تو اس کے سامنے لیٹ جانا، امام مہدی کا انتظار کرنا، جنگ نہ کرنے کی بات کرنا، عدم تشدد یا امن کے زمرے میں نہیں بلکہ غلامی اور بزدلی کے زمرے میں آتے ہیں۔

پشتو میں ایک کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ آج میرے اوپر ایسے حالات آئے ہیں تو کل کو تمہاری باری بھی آسکتی ہے۔ خیر چھوڑیں ادھر اسرائیل کو دیکھیں کہ کہہ رہا ہے کہ جب تک حماس اور فلسطین میں موجود کسی بھی جہادی تنظیم کا صفایا نہیں کیا جاتا تب تک وہ رکنے والے نہیں ہیں۔ دوسری جانب تمام بڑی طاقتیں اس کو سپورٹ کررہی ہیں۔  تیسری جانب زبانی جمع خرچ کے مجاہدین، لمبر ون افواج، ایٹمی قوت کے حامل ممالک کو او آئی سی، عرب لیگ، اقوام متحدہ کا اجلاس تک بلانے کی توفیق نہیں ہے۔ چالیس اسلامی ممالک کے اتحادی افواج کی تنظیم ہو، او آئی سی ہو یا عرب لیگ کے مسلم ممالک، سب کے سب حالت نزع میں ہیں۔ جس طرح اقوام متحدہ، امریکہ اور اسرائیل کے حقوق کی پاسدار ہیں اسی طرح اسلامی فوجی اتحاد آل سعود کے غلام ہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی اتنی تنظیمیں اور بہترین افواج ہونے کے باوجود ان میں انتہائی اقدام اٹھانے کی جرأت نہیں تو اس کی بڑی وجہ اسلامی ممالک کی معاشی اور سیکیورٹی صورتحال کی زبوں حالی ہے۔ عرب ممالک اگرچہ بہت امیر ہیں لیکن امارات اور سعودی عرب ایران کے ڈر سے امریکہ اور بلواسطہ اسرائیلی غلامی پر مجبور ہیں۔ ترکی کو اپنی تجارت اور یورپین یونین ممبر شپ کی پڑی ہے جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ کے سامنے لاچار ومجبورہے۔ اس لیئے بحثیت مسلم امہ، بحثیت ریاست ہم بیانات اور احتجاج سے آگے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری ہماری خارجہ پالیسی بھی بے دم ہے۔ جس طرح کشمیر کی سیاسی اور آئینی حثیت بدلنے کے وقت ہم نے صرف بیانات کی حد تک احتجاج کیا، اسی طرح اس وقت مسئلہ فلسطین کے حل کے لیئے آواز اٹھانے کا درست موقع ہے لیکن سب سے پہلے اپنے اندر کا اتحاد و اتفاق ضروری ہے جو کہ نظر نہیں آرہا۔ بہت جلد ساری دنیا دیکھ لے گی کہ بیت المقدس جو کہ اب فلسطین اسرائیل کا مشترکہ مقام ہے۔ اسرائیل کے شہریوں پر بیت المقدس، یروشلم میں آنے پر روک ٹوک نہیں لیکن وہ وقت دور نہیں کہ بیت المقدس اسرائیل کے قبضے میں ھوگا۔ فلسطینیوں کے سامنے ایک اور دیوار کھڑی کردی جائے گی اور پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ امام مہدی علیہ سلام، دنیا کی آخری جنگ، مسیح کی آمد کے انتظار میں سڑتے رہیے لیکن اپنی خارجہ پالیسی، معاشی استحکام پر کھبی بھی توجہ دینے کے بارے میں نہ سوچیں بس خیراتوں اور امدادوں پر پلتے رہیے۔