بوریوال کاکڑ

جنوبی وزیرستان کے ایک گاوں سے تعلق رکھنے والے منظور پشتین سیاست میں خاندانی پس منظر نہ رکھنے کے باوجود تقریبا ایک ہی سال میں اتنا سفر کر گئے کہ جس کے لیے دوسروں نے عشرے لگا لیے ہیں۔

منظور پشتین کے اس طے شدہ سفر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2017 کے اوآخر تک ان کے اپنے ہی علاقے کے لوگ خوف کی وجہ سے ان سے دور رہنا ہی بہتر سمجھتے تھے لیکن اب پشتون بحثیت قوم ان کے پیچھے ایسے چل پڑے ہیں کہ وہی منظور اب نیند کیلیے وقت بمشکل نکال پاتے ہیں جو شایدکبھی تنہائی محسوس کرنے کی وجہ سے سو نہ پایا ہو۔ یا یہ مثال لے لیں کہ بیس ساتھیوں کو اکھٹا کرنے میں اکثر اوقات کامیاب نہ ہونے والے منظور پشتین کے بس میں اب یہ نہ رہا کہ وہ تمام ٹیلیفون کالز اٹھا سکے اور وٹس ایپ پیغامات پڑھ سکے۔

منظور پشتین کا ایک اور کمال یہ ہے کہ پاکستان میں منقسم پشتونخوا وطن کے جو علاقے اس نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھے وہاں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کے آنے سے پہلے ہی ان کو اپنا لیڈر مان لیا تھا۔

ایک طرف اگر پاکستانی میڈیا کی مکمل بائکاٹ اور آنے جانے میں دانستہ ریاستی دشواریاں منظور کو پشتون قوم سے نامنظور کرانے میں بوری طرح ناکام ہوئی ہیں تو دوسری طرف پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف سوات ، صوابی ، چمن ، خانوزئ اور دوسرے شہروں میں نکالی گئی ریلیوں کے شرکاء کی انتہائ کم تعداد ہی نے ثابت کر دیا کہ منظور ہی پشتون قوم کو منظور ہے۔

کمیونیکیشن کی ایک اصول ہے کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ بلاشبہ اہم ہوگا لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ نے وہ بات کس طرح کرنی ہے۔ منظور پشتین کو ملے سپورٹ سے یہی ظاہر ہوتا کہ اس نے حقوق کی بات اسی طرح کی جس طرح تعلیم یافتہ اور حالات سے روشناس نئی نسل چاہتی تھی۔ شاید یہی وہ وجہ ہے کہ منظور پشتین خصوصا نوجوان نسل کے دلوں میں گھر کر بھیٹے ہیں۔

ایک طرف منظور پشتین کے اپنے ” سپنے سپنے ” یعنی صاف اور کھری باتیں اور دوسری طرف سوشل میڈیا کی موجودگی نے بہت کم عرصے میں ان کو ایسی شہرت اور مقبولیت بخشی کہ پشتون سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ان کو سپورٹ کرنے نکلے ہیں۔

منظور پشتین کی مقبولیت جاننے کے لیے شاید ان کے تقریباً چالیس فیس بوک لائیو ویڈیوز پرکھنا ہی کافی ہو۔ یہ صرف اور صرف وہ چالیس ویڈیوز ہیں جن میں منظور پشتین نے اپنے فیسبوک اکاونٹ سے لائیو آکر خطاب کیا ہے۔

میں نے ان چالیس ویڈیوز کا بغور جائزہ لیا اور ان پر ہوئی تمام اکٹیویٹی کا حساب لگالیا۔ یہ ویڈیوز اب تک چھ اعشاریہ چار میلین دفعہ دیکھے جا چکے ہیں۔ ڈھائی لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شئیر کیئے ہیں اور ان پر چار لاکھ سے زیادہ کمنٹ آئیے ہیں۔ اور سب سے دلچسپ پہلو یہ کہ ان پر منظور پشتین کو ایک لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ محبت کے سمبول “سرخ دل” دیے گئے ہیں۔

دل ہمیشہ ان ہی کو دیا جا تا ہے کہ جس پر بھروسہ ہو۔ منظور پشتین نے اتنے سارے دل ہزاروں مظلوم ماووں اور بہنوں کو انکے لادرک کیے گئے اپنوں کو واپس لانے کے وعدے پہ لیے ہیں۔ وہ یہ دل نہیں توڑیں گے۔