وقاص احمد

“بےخودی بےسبب نہیں غالب
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے”

وطن عزیز کے سدا بہار دانشوروں اور صحافیوں پر ایک عجب جذب و مستی طاری ہے۔ حکومت وقت کی نااہلی پر کوسنے اور اپنے پرانے غلط تجزیوں کا اعتراف اس وقت ان فیشن اور ٹاک شوز کا ہائی ریٹنگ موضوع ہے۔ یہ سدابہار دانشور وہ دو ٹکے کے، بے اوقات، مردہ ضمیر، بکاؤ، دلال، بیغیرت, حرامخور اور بے شرم لوگ ہوتے ہیں جن کی روزی روٹی کو کسی دور حکومت میں لات نہیں پڑتی کیونکہ ان کا پے رول ہی کہیں “اور” منسلک ہوتا ہے (حسن نثار سٹائل کاپی کرنے پر معذرت)۔
غرض جذب و مستی کے یہ نظارے ہمارے لیے تو کچھ نئے نہیں، لیکن ان دانشوروں کو “حال پڑتے” دیکھ کر آل یوتھ کچھ بے حال سے ہو گئے ہیں۔ ان بیچاروں کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ یکایک ان کے سپنوں کے محل کے معماروں کو ہوا کیا ہے؟ یہ اچانک یوٹرن کیوں لیتے جا رہے ہیں؟ اگر آپ کو محفل سماع کا شوق ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا اپنے اپنے ذوق کے مطابق قوالی کے مختلف مصرعوں پر مختلف لوگوں پر وجد طاری ہونے لگتا ہے، مگر قوالی کے نکتہ عروج کا مصرع تو ایسا ہوتا ہے جس پر پوری محفل ہی تڑپنے لگتی ہے۔ آج میں جب اچانک ہی کامران شاہد سے لیکر ہارون رشید، ایاز میر سے لیکر حسن نثار، ڈاکٹر فرخ سلیم سے لیکر شیخ رشید اور مبشرلقمان مارکہ دیگر بےشمار میڈیا نمائندگان جیسے پی ٹی آئی کے جملہ مریدان کو ایک سرشاری کے عالم میں تڑپتے ہوئے دیکھتا ہوں تو خود سے سوال کرتا ہوں کہ کیا محفل اپنے نکتہء عروج کو پہنچ گئی؟ کیا قوال نے اپنا بہترین شعر پیش کردیا؟ کیا یہ تڑپنے والے ہی اتنے کم ظرف ہیں کہ پہلے دوسرے شعر پر ہی بے خود ہوگئے یا پھر “منتظمین محفل سماع” نے قوال اور سامعین کو اپنے اپنے کردار جلدی جلدی نبھانے کی پرچی تھما دی ہے۔
“یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
یہ تیری نظر کا قصور ہے”
شاعر لوگ بھی غضب کے ہیں۔ اس شاعر نے تو بہ الفاظ دیگر ہمیں سمجھا دیا کہ ہلکا ہلکا سرور بے وجہ نہیں ہوتا بلکہ “کسی نا کسی” کی نظر کا ہی قصور ہوتا ہے.
تو پھر کیا کہیں ہم؟ کیا اسے اختتام کی ابتداء سمجھیں؟ گھوم پھر کر خاں صاحب کا اقتدار اسی چوراہے میں حیران پریشان کھڑا ہے جہاں 2016 میں نوازشریف کا اقتدار کھڑا تھا یا اس سے پہلے بھی بہت سوں کا۔ ابھی تو خاں صاحب کا 2017 بھی آنا ہے اور 2018 بھی۔ خیر ہم جیسے جاہل عامی تو کندھے اچکا کر خاں صاحب کو کہہ سکتے ہیں کہ “خاں صاحب، اسی توانوں پہلے ای دس دتا سی”۔ اور خاں صاحب منہ ایسے لٹکائے کھڑے رہیں گے جیسے کسی کو کہہ رہے ہوں “جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو؟”
یہاں سے آگے کے حالات پر دو تھیوریاں موجود ہیں اور دونوں تھیوریاں ہی مضبوط دلائل رکھتی ہیں۔
تھیوری نمبر ایک کے مطابق خاں صاحب کو لایا ہی اس لئے گیا تھا کہ وہ حسب توقع نااہلی، بد انتظامی اور اقربا پروری کے وہ ریکارڈ قائم کریں کہ غیر جمہوری قوتوں کے نمائندے آرام سے اپنی پرانی ڈفلی بجا سکیں کہ دیکھیں جی یہ جمہورے تو ہوتے ہی نالائق اور کرپٹ ہیں۔ ہمیں ( ٹیکنوکریٹس کو) خدمت کا موقع دیں۔ مثال کے مطابق حسن نثار صاحب یہ کام کھل کر کرنا شروع ہوگئے ہیں، رفتہ رفتہ دوسرے بھی کریں گے۔
تھیوری نمبر دو کے مطابق خاں صاحب کو اسٹیبلشمنٹ نے واقعی تبدیلی کا علمبردار سمجھ لیا تھا۔ اور اسٹیبلشمنٹ کی زنبیل میں جتنے “ماہرین” ٹیکنوکریٹس کے الزام کے ساتھ موجود تھے وہ سارے خاں صاحب کو دان کردیے گئے اور اس ناکام تجربے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے پلے بھی ککھ نہیں بچا۔ پہلے ہی پانچ مہینے کی پرفارمینس دیکھ کر اصل تبدیلی والوں کے ہاتھ پاؤں عقل سمجھ سب پھول گیا ہے۔
بوجوہ میں تھیوری نمبر دو کو زیادہ وزن دیتا ہوں۔ اسحاق ڈار سے تو ان کو یہ مسئلہ تھا کہ وہ ہر سال ان کا بھتہ اتنا نہیں بڑھاتا جتنی ان کی ڈیمانڈ ہے۔ عمران اور اسد عمر سے تو ان کو یہ ڈر لگ رہا ہے کہ جون کے مہینے میں الٹا انہی سے چندہ مانگنے نا پہنچ جائیں۔ شاید کسی حوالداری دماغ میں یہ سوچ کلک ہوئی ہے کہ دو پرندے پکڑنے کے چکر میں ہاتھ میں موجود ایک پرندہ ہی نا نکل جائے۔
ہم اس مقام تک کیسے پہنچے؟ اس پر سیر حاصل گفتگو ہوچکی ہے۔
ہم اس مقام سے آگے کہاں تک پہنچ سکتے ہیں؟ یہ سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔
ہم اس مقام سے واپس کیسے مڑ سکتے ہیں؟ اس پر گفتگو ہوسکتی ہے اور یک نکاتی گفتگو ہوگی۔ نکتہ ہے آئین کی بالادستی اور اپنے کام سے کام۔ اگر آج سب ادارے اپنے اپنے کام میں لگ جائیں تو سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔ احتساب ضرور کریں مگر انصاف کے ساتھ۔ میری حقیر رائے میں اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کی حقیقی سیاسی قوتیں اسی صورتحال سے گزر رہی ہیں جس میں ایک روٹھی ہوئی بیوی اور ایک ضدی، انا پرست شوہر ہو۔ حالانکہ یہ مثال ان پر منطبق نہیں کی جاسکتی مگر مجھے کہنے دیجئے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کا رویہ اس ضدی شوہر کا ہے جو جانتا ہے کہ غلطی اس کی ہے، جو یہ بھی چاہتا ہے کہ لڑائی ختم ہو کر معاملات درست ہوجائیں لیکن غلطی پر ہونے کے باوجود اپنی آنا کی وجہ سے “آئی ایم سوری” کا جملہ اس کے منہ سے نہیں نکل رہا۔
دوسری طرف سیاسی جماعتیں بھی اس روٹھی بیوی کی طرح برتاؤ کر رہی ہیں جنہیں یہ غرض نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ وہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کے منہ سے “آئی ایم سوری” سننا چاہتی ہیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہوں گے مگر اس ضد میں پاکستان مذید تباہ ہوجائے گا۔ مہربانی کریں، دل بڑا کریں۔ اگر ایک فریق صرف اتنا کہہ دے کہ ہم اپنی حدود سے آئیندہ تجاوز نہیں کریں گے اور دوسرا فریق پچھلی تلخیوں کو بھلا کر مل کر کام کرنے پر آمادہ ہوجائے تو سب ٹھیک ہوسکتا ہے۔ باقی رہا سسٹم کی تہطیر کا عمل تو جمہور اور جمہوریت پر تھوڑا سا اعتماد کرلیں، ہم یہ کام کر لیں گے۔ آپ بس اپنا کام کریں