عاطف توقیر

ہمارے ہاں آزادیِ اظہارِ رائے پر جب بھی گفتگو ہو بحث کسی نہ کسی طرح جان بوجھ کر ہولوکاسٹ  کے موضوع کی جانب موڑ دی جاتی ہے۔ عام افراد عموماً یہ لفظ سنتے ہیں، بغلیں جھانکنے لگتے ہیں اور بات چوں کہ اور چنانچہ کی نذر ہو جاتی ہے، اور یوں مدعا یہ ہوتا ہے، مغربی دنیا جو آزادی آزادیِ اظہار کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے وہاں ہولوکاسٹ پر بات کرنے کی اجازت تو ہے نہیں مگر وہ ہمیں آزاری رائے پر لیکچر دینے نکل پڑتی ہے۔ ابھی چند روز ہوئے ایسی ہی ایک گفتگو کے دوران کراچی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے یہی جملہ دلیل کے طور پر استعمال کیا۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم عمران خان نے بھی ہولوکاسٹ کے قوانین کو آزادی رائے پر قدغن کے لیئے دلیل کے طور پر استعمال کیا، تو مجھے لگا کہ اس پر ایک وی لاگ میں آپ کو تفصیل سے سمجھا دینا چاہیے تاکہ آپ اندھیرے میں نہ ماریں جائیں۔

یہ بات یاد رکھیے کہ ہولوکاسٹ کے قوانین کو اظہار رائے محدود کرنے سے جوڑنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ، جو نادان ہیں یا جانتے نہیں اور دوسرے وہ جو فکری بد دیانتی کرکے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں۔ یہاں مجھے اس ظلم اور اذیت کو قدرے تفصیل سے بتانا پڑے گا تاکہ آپ اس کی سنگینی کو سمجھ سکیں، اس لیئے بہ راہِ مہربانی برداشت کیجیے گا۔

جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ایڈولف ہٹلر کی قیادت میں لاکھوں انسانوں کو فقط نسل کی بنیاد پر قتل کیا۔ نازی جرمنی میں اس وقت بیانیہ تھا کہ آرینز بہتر انسانی نسل ہیں۔ اس لیئے یہودی یعنی سامی نسل باشندوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ پھر یہی نہیں معذوروں، اپاہج بچوں، بزرگوں حتیٰ کہ بعض صورتوں میں بیماروں تک کو نام نہاد عظیم جرمن ریاست پر بوجھ قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کیا گیا۔ ان لوگوں سے جبری مشقت لی جاتی، خوراک تک ٹھیک سے نہ دی جاتی اور جو جو نازی جرمن ریاست کے کام کا نہ ہوتا، اسے ختم کر دیا جاتا۔ ان لوگوں کو مختلف مقامات پر قائم اذیتی مراکز پہنچایا جاتا، انہیں برہنہ کیا جاتا، ان پر تیز دھار تیزابی پانی پھینکا جاتا تاکہ میل کچلی صاف ہو، پھر انہیں بھٹی میں ڈال کر راکھ کر دیا جاتا۔ لاکھوں انسانوں کو اس طرح قتل کیا گیا۔ اس قتل میں نازی جرمن ریاست بہ راہ راست ملوث تھی۔ اس نے اپنے ہی غیر جرمن نسل شہریوں اور قبضے میں لیئے گئے علاقوں اور ممالک کے شہریوں کے ساتھ نہایت منظم انداز میں یہ مظالم کیئے۔

دوسری عالمی جنگ میں شکست کے بعد جدید جرمن ریاست بنی اور وہاں نیا دستور بنایا گیا، تو اس کی ابتدا اس جملے سے کی گئی یعنی جرمن دستور کا پہلے آرٹیکل کا پہلا جملہ ہے ”   انسانی تکریم کو کبھی نہیں چھوا جا سکتا اور جرمن ریاست اپنی تمام تر طاقت استعمال کرکے اسے یقینی بنائے گی کہ انسانی تکریم پر حرف نہ آئے“  یعنی جرمنی نے بہ طور ریاست اپنے ان جرائم کو قبول کیا۔ ہولوکاسٹ کا قانون یہ ہے کہ چوں کہ قاتل یعنی جرمن ریاست اپنے اس جرم کا اعتراف کرتی ہے اور اپنے اعدادوشمار اور دستاویزات کے مطابق اس نے کم از کم چھ ملین یہودیوں سمیت لاکھوں انسانوں کو قتل کیا ہے، اس لیئے اس نسل کشی سے متاثرہ انسانوں اور ان کے اہل خانہ کے دکھ میں شامل ہونے یا انہیں مزید اذیت اور تکلیف سے بچانے کے لیئے تمام جرمن شہری اس نسل کشی کو نسل کشی ہی سمجھیں گے اور اس قتل عام کا اعتراف کریں گے اور اسے نہ ماننا جرم ہو گا۔

میں خود آؤشوٹس اور ڈاخاؤ کے ان حراستی مراکز کو دیکھ کر آیا ہوں۔ وہاں کی فضا میں اب بھی ایک عجیب طرز کا دکھ اور کرب ہے۔ آپ ان بچوں کا تصور کریں، جنہیں ماں باپ سے الگ کرکے یہاں زندہ آگ میں جھونکا گیا ہوگا۔ اس ماں کا تصور کریں، جسے بچے کے سامنے لے جایا جا رہا ہو گا۔ اس معذور کا تصور کریں، جسے یہی سمجھ نہیں آ رہا ہو گا کہ اس ایک اور ظلم کی کیا وجہ ہے۔ ایسے میں کوئی شخص اٹھے اور قاتل یعنی جرمن ریاست کے اعتراف کے باوجود فقط نفرت انگیزی کے لیئے کہے کہ یہ نسل کشی نہیں ہوئی یا ان انسانوں کو ٹھیک قتل کیا گیا، تو ایسے شخص کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟

اسے یوں سمجھیے، طالبان نے پاکستان بھر میں دھماکے کیئے، اسکولوں، مسجدوں، درگاہوں، امام بارگاہوں، چوکوں، گرجاگھروں اور دیگر عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا اور ان کارروائیوں کا اعتراف کیا۔ فوجیوں کے سر کاٹ کے ان سے فٹ بال کھیلا۔ اب ایسے میں کوئی شخص اگر یہ کہے کہ یہ قتل ہوئے ہی نہیں، جھوٹ ہے۔ یا آرمی پبلک اسکول میں بچے نہیں مرے بلکہ یہ ایک ڈرامہ ہے یا دہشت گردوں نے فوجیوں کے سر ٹھیک کاٹے، تو ایسے جملے ان متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیئے کس تکلیف اور اذیت کا باعث ہوں گے؟

نیشنل ایکشن پلان میں ملک بھر میں نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی ترویج کے خاتمے کے لیئے لائحہ عمل ترتیب دیا گیا تھا۔ اس کے تحت کوئی شخص اگر نفرت انگیزی یا تشدد کو ہوا دیتا ہے تو اسے دہشت گردی تک کے مقدمے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہولوکاسٹ کا قانون نفرت انگیزی اور نسل پرستی کے خلاف بنایا گیا قانون ہے۔ دنیا کے تمام ہی مہذب معاشروں میں رنگ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر ایک منظم انداز سے انسانوں کا قتل عام اسی انداز کی سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔ ہولوکاسٹ کے قانون ہی میں لکھا ہے کہ اس کا اطلاق ان اعدادوشمار پر ریسرچ اور علمی مباحث پر نہیں ہوتا۔ یعنی فقط متاثرین یا کسی مذہبی اقلیت یا کسی نسل کو نشانہ بنانے یا ہدف بنانے کے لیئے نفرت انگیزی پر مبنی جملے بازی کے انسداد تک محدود ہے۔

اب آپ خود بتائیے کہ اسے آزادیِ رائے سے جوڑنا کوئی درست عمل ہے؟ اس کی مثال تو یہ ہوگئی کہ ٹی وی پر قصور میں زینب بچی کا بہیمانہ قتل ایک سنگین واقعہ پر کوئی شخص بیٹھے اور قاتل کی تعریفیں شروع کر دے اور کہے کہ یہ آزادی رائے ہے۔ ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ فری اسپیچ اور ہیٹ اسپیچ کو مکس کر دینے کا ہے۔ فری اسپیچ کا مطلب ہے آپ اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ مگر نفرت انگیزی یعنی کسی فرد، کسی برادری یا کسی گروہ کو فقط رنگ، نسل، زبان، مذہب یا مسلک کی بنیاد پر اس طرح نشانہ بنانا کہ تشدد کے راستے ہم وار ہو جائیں، کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول فعل ہے۔ نفرت انگیزی کسی صورت آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتی۔

کچھ عرصہ قبل ایک نوجوان نے ایک گالی لکھی اور نیچے لکھا عاطف بھائی آپ آزادی اظہار رائے کا پرچار کرتے ہیں، تو مجھے گالی دینے کی آزادی کیوں نہیں۔ میں نے جواب میں لکھا، بھائی تمہاری آزادی رائے تو ٹھیک ہے، مگر میرے لیئے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ گالی تمہاری رائے ہے؟ تم گالی کو اپنی رائے کہہ رہے ہو؟ جرم کو جواز دینے کے لیئے کسی اور مجرم کے ایک اور جرم کی مثال دینا ایک گندہ اور قبیح راستہ ہے۔ جرم کو جائز بنانے کے لیئے یہ کوئی دلیل نہیں کہ فلاں جگہ بھی تو جرم ہو رہا ہے۔ خیر اس پر کسی اور بیٹھک میں بات کریں گے۔

اہم بات وہی ہے کہ بڑی ریاست اور عظیم قوم وہ نہیں ہوتی جو جرم کرتی ہے اور پھر اس جرم پر پردے ڈالتی ہے یا اس جرم کو جائز سمجھتی ہے۔ بلکہ بڑی ریاست اور عظیم قوم وہ ہوتی ہے، جو جرم کو جرم سمجھتی ہے۔ اس جرم اور اس کی سنگینی کو قبول کرتی ہے اور دوبارہ ویسا جرم کبھی نہ ہونے دینے کو یقینی بناتی ہے۔ بنگال میں ہم نے جو کچھ کیا ہمارے ہاں اسے قبول ہی نہیں کیا جاتا نہ ہی ریاست نے آج تک بنگالیوں سے معذرت کی۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں تفصیل درج ہیں۔ مگر ہمیں یہی بتایا گیا کہ بنگالی غدار تھے اور ان کے خلاف جو کیا گیا اچھا کیا تھا اور ان لاکھوں انسانوں کی نسل کشی اور لاکھوں خواتین کا ریپ کوئی بری چیز نہیں، لیکن جرمنی اپنے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل اور انسانوں کی نسل کشی کی غلیظ کارروائیوں کو تسلیم کرتا ہے اور ان متاثرہ انسانوں کے سامنے سر جھکا کر اپنے اس گھناؤنے جرم کو قبول کرتا ہے۔ دونوں ملک آپ کے سامنے ہیں اور راستہ بھی۔ آپ خود طے کریں کہ کون سا راستہ بہتر ہے۔ 

Previous articleریاست مجھے خوف زدہ کررہی ہے
Next articleورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے اور میڈیکل کے طلبہ کی تشویشناک ذہنی صحت