وقاص احمد

میڈیا پر کیا ہی سہانا دور گزرا تھا۔ ن لیگ والوں کو بلاتے تھے، ذلیل کرکر کے پوچھا کرتے تھے کہ ”خلائی مخلوق کیا ہے“، یہ نا معلوم افراد کون ہیں، آپ نام کیوں نہیں لیتے؟ یہ محکمہ زراعت آخر کیا بلا ہے؟ کون سی سازش ہورہی ہے آپ کے خلاف؟ کون سا ادارہ سازش کر رہا ہے؟ آپ کھل کر بولیں؟ آپ میں تو خود بولنے کی ہمت نہیں تو ہم ووٹ کو عزت کیسے دیں؟ اور سب سے مزے دار بات کہ اہلیان یوتھ چسکے لے لے کر ایسی ویڈیوز کے ٹوٹے اپنے سوشل میڈیائی پیجز پر اس عنوان کے ساتھ ڈالتے تھے کہ یہ دیکھو! فلاں نے ”ن لیگ“ کی بولتی بند کروا دی، وہ دیکھو! اس کا تو سانس ہی سوکھا ہوا ہے، کیا ہوا پٹواریو! ووٹ کو عزت نہیں دینی کیا؟

پھر آیا ستمگر ستمبر 2020

اب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کرنے والا، صرف اداروں ہی کا نہیں، اشخاص کا نام لے لے کر ٹو دا پوائنٹ بتا رہا ہے کہ کون کون، کس کس جرم کا مرتکب ہوا۔ وہ پس پردہ واقعات جن کی طرف اشارے بھی احتیاط سے ہوتے تھے ان کی تفصیلات بیان کر رہا ہے۔ دھرنے کس نے کروائے ان کا نام لے رہا ہے۔ عدلیہ سے کون فیصلے کرواتا رہا ہے ان کے چہرے تک دکھا رہا ہے۔ تو اب ”آزاد میڈیا“ کی حالت ایسی ہے کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ حاضر سروس تو دور کی بات، ریٹائرڈ شدہ کچرا جرنیل عاصم باجوہ کا نام آجائے تو آوازیں میوٹ کردی جاتی ہیں۔ اپوزیشن کا کوئی بھی رکن کرپشن کے موضوع پر بات کرنے لگے تو بڑے بڑے جغادری حوالدار اینکروں کو زور سے کمرشل بریک آجاتی ہے۔ کبھی پاگلوں کی طرح اپنی ہی دم کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی مودی کی زبان کہہ دیتے ہیں، کبھی سی پیک کے خلاف سازش کہہ کر اپنے آپ کو حوصلے دیتے ہیں، کبھی ”محفوظ پروگرام“ کرنے کی خواہش میں پورا پورا پروگرام پنڈی کے چپڑاسی کو بٹھا کر دیتے ہیں۔

تو قارئین! یہ پڑا ہے آپ کا ”آزاد میڈیا“ اور “بے باک ”صحافی“  کہتے ہیں کہ ناکامی میں بھی ایک آپرچونیٹی ہوتی ہے۔ ملک کی تو واٹ لگا دی پچھلے دو سالوں نے (یہاں سالوں سے مراد برس ہے)۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ پچھلے دو سالوں میں ملک کی واٹ تو لگ گئی لیکن بڑے بڑے رستمِ زماں اپنی چڈی تک ننگے ہو کر سامنے آگئے۔ آپ اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یہ مشکل ترین مرحلہ ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں اور اگر ثابت قدم رہے تو آگے بہتری ہی بہتری ہے۔ چاہے پھر حکومت جس مرضی کی ہو۔ آخر میں دو منٹ کی خاموشی ہمارے ”آزاد میڈیا“ کے لیئے، جن کے خیال میں انہیں ”آزادی بھیک میں نہیں ملی!“

Previous articleکوہِ دامان میں مسائل کے انبار اور سیاسی نمائندگان کی عدم توجہی
Next articleسینہ بند سے سینہ تنگ تک