مہنازاختر

بلاشبہ مفتی رفیع عثمانی ایک عالمی شہرت یافتہ علمی شخصیت ہیں۔ آپ اپنے اپنے علم و فہم کے مطابق ان سے علمی اختلاف یا اتفاق کا مکمل حق رکھتے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کے روز سے ہی کافر کافر کا شور بپا ہے۔ کئی نیم ملّا اور کٹر مولویوں کو لکھتے کہتے سنا “بھئی آج تو مفتی صاحب نے حد کردی،  ان سے یہ امید نہ تھی، شیعہ کافر تھا، کافر ہے اور بس کافر ہی رہےگا ۔” آپ تو جانتے ہیں کہ پاکستان میں آئے روز کافرفتویٰ ساز فیکٹری متحرک ہوجاتی ہے۔ تو بس سمجھیں کہ “قادیانی کافر ہے” کا سیزن جیسے ہی ختم ہوا ماہ محرم آگیا اور ساتھ ہی “شیعہ کافر ہے” کہنے کا فیشن بھی لوٹ آیا۔ تو اس بار اس فیشن کے دلداہ گروہ کا شکار مفتی رفیع عثمانی صاحب بن گئے۔ محرم کا مہینہ ہے تو وقت کی ضرورت اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گزشتہ جمعہ کو شیعہ سنّی بین المذاہب رواداری کو فروغ دینے کے لیئے مفتی صاحب نے خطبہ جمعہ میں فرمایا: “ہمارا مسلک یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق رہے۔ شیعہ بھی مسلمان ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارے درمیان پھوٹ ڈلوانے کی سازش کو ناکام کیا جائے۔ تقسیم کے وقت شیعہ قوم نے پاکستان کے حق میں اپنا ووٹ دیا بھارت کے ساتھ لڑی جانے والی جنگوں میں شیعہ بھائی ہمارے ساتھ ہر محاذ پر رہے اور ملک کے تحفظ کے لیئے اپنی جانیں قربان کیں۔ مسئلہ قادیانیت پر(یہاں مجھے مفتی صاحب سے اختلاف ہے کہ جہاں امن و آشتی کی بات چل رہی تھی تو یہ حساس مسئلہ اس وقت نہ چھیڑتے۔ جب عاشقان رسولؐ کا نام نہاد ٹولہ پہلے ہی پاکستانی احمدی برادری کے خون کا پیاسا بنا گھوم رہا ہے۔ پر خیر بات شیعہ سنّی مسلکی رواداری کی ہورہی ہے تو اسی نقطے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں) شیعہ علماء نے ہمارا ساتھ دیا۔ اسلام دشمن عناصر جو اسلام و پاکستان کوترقی کرتے نہیں دیکھ سکتے جن کا مقصد اسلام کی جڑیں کمزور کرنا ہے وہ اس مقصد کے لیئے شیعہ سنی پھوٹ ڈلواتے ہیں۔ ایسا کرنا گناہ ہے۔ یاد رکھیے!  “اپنا مسلک چھوڑو نہیں، دوسروں کا مسلک چھیڑو نہیں” (بطور حفظ ماتقدم میں نے یہاں مولانا صاحب کی مکمل تقریر لفظ بہ لفظ نقل کرنے سے گریز کیا ہے) “

میں ایک پکی سیکولر سنّی ہوں اور بخدا مجھے مولانا صاحب کے خطبے میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی کہ میرے ماتھے پر بل پڑ جائیں اور منہ سے جھاگ کی مانند کافرکافر نکلنے لگے۔ اندھا کیا چاہے؟  دوآنکھیں ! تو بس ہم نے بھی مفتی صاحب سے کئی باتوں پر اختلاف کے باوجود ان کی کہی اس اچھی بات پر ان سے مکمل اتفاق کیا۔ مگر آپ تو جانتے ہیں کہ ہم پاکستانی مسلمانوں کا ایک طبقہ ہر وقت کسی بھوکے دیو کی طرح “آدم بو،  آدم بو” کرتا رہتا ہے۔ جہاں موقع ملے مذہب کا نام لے کر کسی کی ایسی تیسی کردو، اسے واجب القتل یا کافر قرار دے دو کون پوچھنے والا ہے۔ ویسے وہ “آدم بو” والی مخلوق تو مجھ پر بھی چڑھ دوڑے گی کہ خود کو سیکولر سنّی قرار دینے سے آپ کی کیا مراد ہے؟  تو وضاحت کردوں، کیونکہ آج کل اپنے عقیدے کی بار بار وضاحت کرنی پڑتی ہے۔ تو قبلہ!  میرے کہنے کا عین وہی مطلب ہے جو مفتی صاحب نے خطبے میں فرمایا “اپنا مسلک چھوڑو نہیں،  دوسروں کا مسلک چھیڑو نہیں” یا یوں کہہ لیجیے “اپنا مذہب چھوڑو مت اور دوسروں کا چھیڑو مت” یا کچھ ایسے سمجھیے “کوئی مذہبی ہے یا ملحد،  منکر ہے یا متشکک مجھے اس سے کیا لینا دینا”  تو سیکولر مذہبی کا مطلب میری ذاتی لغت میں لکم دینکم ولی الدین ہے۔

کہنے کو تو ہم فخر سے کہتے ہیں کہ اس دنیا میں کل ایک اعشاریہ آٹھ ارب مسلمان رہتے ہیں اور ہم دنیا کی کل آبادی کا تقریباً چوبیس فیصد ہیں مگر ذرا سا غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان ایک اعشاریہ آٹھ ارب مسلمانوں کی اکثریت اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتی۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ جب روز محشر منادی ہو گی ” اے کافرو! ” تو سارے مسلمان انسانوں کی صفوں سے باہر آکر “کافر” والے پویلین میں جمع ہوجائیں گے۔ یہ مثال لطیف پیرائے میں ازراہ مذاق پیش کی ہے،  اسے توہین مذہب کے کھاتے میں نہ ڈال دیجیے گا۔ ویسے بھی آج کل ہرطرف کافر کافر کا شور شرابہ چلتا رہتا ہے تو ایسے میں سلمان حیدر کی نظم بڑی یاد آتی ہے:

میں بھی کافر تُو بھی کافر

پھولوں کی خوشبو بھی کافر

لفظوں کا جادُو بھی کافر

یہ بھی کافر وہ بھی کافر

فیض بھی اور منٹو بھی کافر

نُور جہاں کا گانا کافر

مکڈونلڈز کا کھانا کافر

برگر کافر کوک بھی کافر

ہنسنا بدعت جوک بھی کافر

طبلہ کافر ڈھول بھی کافر

پیار بھرے دو بول بھی کافر

سُر بھی کافر تال بھی کافر

بھنگڑا، اتن، دھمال بھی کافر

دھادرا،ٹھمری،بھیرویں کافر

کافی اور خیال بھی کافر

وارث شاہ کی ہیر بھی کافر

چاہت کی زنجیر بھی کافر

زِندہ مُردہ پیر بھی کافر

نذر نیاز کی کھیر بھی کافر

بیٹے کا بستہ بھی کافر

بیٹی کی گُڑیا بھی کافر

ہنسنا رونا کُفر کا سودا

غم کافر خوشیاں بھی کافر

جینز بھی اور گٹار بھی کافر

ٹخنوں سے نیچے باندھو تو

اپنی یہ شلوار بھی کافر

فن بھی اور فنکار بھی کافر

جو میری دھمکی نہ چھاپیں

وہ سارے اخبار بھی کافر

یونیورسٹی کے اندر کافر

ڈارون بھائی کا بندر کافر

فرائڈ پڑھانے والے کافر

مارکس کے سب متوالے کافر

میلے ٹھیلے کُفر کا دھندہ

گانے باجے سارے پھندہ

مندر میں تو بُت ہوتا ہے

مسجد کا بھی حال بُرا ہے

کُچھ مسجد کے باہر کافر

کُچھ مسجد کے اندر کافر

مُسلم مُلک میں اکثر کافر

کافر کافر میں بھی کافر

کافر کافر تُو بھی کافر

ویسے اب تو، سلمان حیدر کی اس نظم کا خالصتاً مولویانہ رد بھی مارکیٹ میں آچکا ہے،  ملاحظہ فرمائیے!  

حق حلال کا منکر کافر

کارِ حرام کا پیکر کافر

مجرے والی نُورِ جہاں ہے

‘خوشبو’ والی پروین شاکر

فیض پاکر آب ِشر کا

منٹو بنا کوٹھوں کا تاجر

یہ بھی کافر وہ بھی کافر

حق حلال کا منکر کافر

کارِ حرام کا پیکر کافر

گانا اور بجانا شر ہے

غیر ذبیحہ کھانا شر ہے

نامحرم سے پیار نبھانا

غیر اللہ کے نام کا کھانا

درگاہوں پر سجدہ روا ہے؟

پیروں کو یہ پوجنا کیا ہے؟

یہ بھی کافر وہ بھی کافر

حق حلال کا منکر کافر

کارِ حرام کا پیکر کافر

مندر میں تو بُت ہوتا ہے

مسجدِ ضرار میں کیا ہوتا ہے

میلہ، ٹھیلہ، عرس روا ہے؟

اسلام کے نام پہ ہے یہ دھندہ

روٹی کمانے کا دھندہ، گندہ

بیچے جو اسلام کو کافر

یہ بھی کافر وہ بھی کافر

حق حلال کا منکر کافر

کارِ حرام کا پیکر کافر

Previous articleمنافقت زندہ باد
Next articleاکبر بگٹی، ریاست لوگوں کو کہاں دھکیل رہی ہے