طارق عزیز

میں شرمندہ ہوں! جب سے ہمارے وزیر خارجہ صاحب نے اپنے لبوں سے استحصال کی بات کی ہے۔ پھر سوچا کہ کیا یہ ٹھیک ہے؟ جو خود استحصال کا شکار ہو اور زمانے کے استحصال کی بات کرے۔ موجودہ حکمران ،کروڑوں لوگوں کے استحصال کے ذمہ دار اب ایک بیانیے کے پیچھے اپنے کیئے دھرے چھپا رہے ہیں۔ عوام کو جذباتی نعروں میں الجھا کر اصل میں اُن کا سیاسی و شعوری استحصال کررہے ہیں۔ میں دنیا کی تمام مظلوم اقوام پر ہونے والی بربریت کی مذمت کرتا ہوں اور دُعا گو ہوں کہ ایسی قومیں جو استحصال کا شکار ہیں جلد ظلم و ستم کے شکنجے سے نکل آئیں اور اپنا حق خود ارادیت حاصل کریں۔ البتہ ایک نظر ان اقوام پر جو اپنا حق خود ارادیت تو رکھتے ہیں مگر پھر بھی استحصالی دور سے گزر رہے ہیں، جن میں ہم پیش پیش ہیں۔ پورے ملک میں یومِ استحصال کی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ جو لوگ استحصال لفظ سے ناواقف ہیں اور وہ جنہیں معلوم نہیں کہ استحصال کہاں کہاں ہورہا ہے، کون استحصال کررہا ہے آیا وہ خود اس ناسور کا شکار تو نہیں؟ آیا اس کے اردگرد یا پڑوس میں استحصال تو نہیں ہورہا، کسی دفتر، کالج، روڈ، یا پھر جسمانی یا ذہنی طور پر اس کا شکار تو نہیں؟ آیا یہ جلسے جلوس نکالنے والوں کا تعلق استحصالی گروہ سے تو نہیں؟

اب ان جھنڈیوں کے “سائے تلے”  نعروں پہ خوش ہونے والی عوام کو ان سوالوں سے کیا لینا؟ ان کو تو بس چپڑاسی کی نوکری مل جائے، محلے کے لیئے ٹرانسفارمر کا اعلان کردیا جائے۔ یہ تو بس اگلے الیکشن تک زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگا سکتے ہیں۔ بھئی کوئی یہاں کے مزدوروں  کے استحصال کی بات بھی تو کرے کہ وہ اس وبائی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ ہیں، دو تین مہینوں سے مزدوری نہیں ملی، اتنے قرضے لے چکے ہیں کہ اگلے دو تین مہینوں کی مزدوری بھی ان قرضوں کو چکانے میں نکل جائے گی۔ جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں کھلیں گی۔ وہاں بھی مزدوروں کے بچوں کا ہی استحصال ہوگا۔ سرمایہ دار طبقے کے اپنے اکاؤنٹس بھرے ہیں جو انھیں برسوں چلاسکتے ہیں اور ان کے بچوں کی لاکھوں کی فیس بھی ادا ہوسکتی ہے۔ چلیں یہ استحصال بھی قابل برداشت ہے مگر اس وبائی صورتحال میں جہاں باقی دنیا اپنے لوگوں کے خدمت کرنے میں مصروف ہے اور یہاں  یہ ہیں کہ بولنے اور لکھنے والوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ صحافی محفوظ نہیں ہیں، شعبئہ صحافت کی استحصال کی کہانیاں عام ہوچکی ہیں۔  پچھلے دنوں ایک صحافی انور جان  کا ضلع بارکھان میں قتل ہوا۔ قاتل موقع سے فرار ہوگئے۔ دو ہفتے گزرنے کے باوجود ملزمان کی تلاش نہ ہوسکی۔ ظاہر ہے ملزمان طاقتور ہوں گے یا پولیس بے بس، تبھی مجرمان نہ نظر آتے ہیں اور  نہ پکڑے جاتے ہیں۔

استحصالی حربہ صحافیوں تک ختم نہیں ہوتا یہاں ہر فرد اسی اذیت کا شکار ہے۔ اقلیت بھی ظلم کے شکنجے میں ہیں، عبادت کرنا محال ہوگیا ہے، عبادت گاہ بنانا جرم بن گیا ہے۔ اس نقشے کے اوپر بسنے والی تمام اقوام جو سینکڑوں ہزاروں سالوں سے یہاں آباد ہیں، جو اپنی سیاسی، سماجی، معاشی، و ثقافتی پہچان رکھتے ہیں آج اس نقشے کے اندر ان کی اپنی پہچان کو خطرات لاحق ہیں۔ صوبائی خودمختاری کے باجود احکامات اوپر سے ملتے ہیں، عدلیہ انصاف دلانے میں دیر کرتی ہے۔ سیاسی کارکنان کو حق گوئی پر جان کی بازی ہارنی پڑ جاتی ہے۔ جیلیں سیاسی کارکنان سے بھری ہیں۔ کچھ نہیں بہت سے پاکستانی غائب ہیں۔ اب اس استحصال کے لیئے کہاں کہاں مظاہرے کیئے جائیں؟ سیاہ دن کے لیئے کون سی تاریخ مقرر کی جائے؟ ہربعض گھروں میں ہر دن سیاہ گزرتا ہے۔ ہر عید اپنے پیاروں کی آمد کو تکتے سوگ میں گزر جاتی ہے۔ آپ کب کسی شاہراہ کو مزدوروں کے پسینے کے نام کریں گے، اپنوں کے نام کریں گے؟   اقوام عالم کے سامنے اپنے استحصال زدہ لوگوں کے دکھڑے کب سنائیں گے؟ کب ان کے گمشدہ بچوں کی تصویریں بھی دکھائیں گے؟ کوئی ایسا طبقہ ہی نہیں رہا جو یہاں استحصال کا شکار نہ ہو سوائے طاقت ور کے اور طاقت دشمنوں پر استعمال ہونے کے بجائے اپنوں پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ کاش کہ ہم ایک دن اپنوں کے ظلم کا شکار لوگوں کے لیئے یوم استحصال منائیں۔ 

Previous articleپانچ اگست کے روز ایک منٹ کی خاموشی، سری نگر ہائی وے اور نئے ملی نغمہ پر عوامی رائے عامہ
Next articleلالی گُل کی کہانی