تسمیہ شفیق

پاکستانی سیاست پیاز جیسی ہے پرت در پرت، تہہ میں کیا موجود ہے جاننے کے لئے کھولتے جائیں اور روتے جائیں۔ طلباء یکجہتی مارچ ایک کامیاب شو رہا۔ اب پاکستان میں ہوتا یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر پتّا بھی نہیں ہلتا تو پھر یہ شو، کیا اس مارچ کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ تھی؟

نہیں! مجھے ایسا نہیں لگتا کہ وہ اس کے پیچھے ہے لیکن اس کے آگے ضرور ہو سکتی ہے۔ مارچ کے دوسرے دن ہی وزیراعظم کا یونین کی بحالی کے حق میں ٹوئیٹ اور سندھ میں بحالی کا اعلان۔ وہ سندھ جس میں ہندو بچیوں کے جبری تبدیلی مذہب جیسے سنگین مسئلے پر ٹھوس اقدام کی آس لگا کے بیٹھے ہیں لیکن وہ ابھی تک یاس وحسرت ہی ہے اور یونین بحالی کے معاملے میں اتنی پُھرتی؟ اور پھر سرکا ر کا دوسری جانب کمال چالاکی سے منتظمین کے خلاف ایف۔آئی۔ار کاٹنا  تاکہ منتظمین کو عدالتی معاملات میں الجھا دیا جائے اور مشال خان شہید کے والد کا نام بھی شامل کردیا گیا تاکہ لوگوں کو نفسیاتی طور پر الجھایا جاۓ۔ تاکہ لوگ ان سے ہمدردی کا اظہار اور سرکار کے اس اقدام پر تنقید کرتے رہے اور کسی دوسری جانب متوجہ نہ ہو سکیں۔ طلباء یونین ہمیشہ حزب اختلاف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں تو کیا جن کی حکومت ہے وہ اس بے خود اور سرفروش حزب اختلاف کا سامنا کرنے کی جرآت کر بیٹھے ہیں جب کہ میڈیا بدستور سنسرشپ کا شکار ہے تو یہ  شاید قابلِ حیرت کم اور قابل شک بات زیادہ ہے۔ تو پھر اس جرآت مندی کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟

میں خود خدشات کا شکار ہوں، خدا کرے وہ بے بنیاد خدشات ہوں لیکن اگر ان میں کچھ حقیقت ہوئی اور اس کے سدِ باب کے لیے بروقت کچھ اقدام نہ کیۓ گۓ تو شاید طلباء سیاست مستقبل میں کچھ گھمبیر مسائل کا شکار ہوسکتی ہے۔ یونین بحالی کی آواز ایک دم اسی سال نہیں اٹھی بلکہ پچھلے چند برسوں سے اس کا اظہار کیا جارہا تھا اور دو تین سالوں میں چند احتجاج بھی ہوۓ۔ یونین سازی پر پابندی کو اظہارِ آزادی پر قدغن تصور کرتے ہوئے کچھ بین الاقوامی دباؤ بھی تھا۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کے لیے خط بھی لکھا تھا۔  ممکن ہے کہ ان حالات کے پیش نظر اس سے پہلے یہ سنگینی کا شکار ہوجائیں اور نظامِ حکمرانی ہاتھ سے نکل جائے سوچا گیا ہو کہ اس مطالبہ کو پورا کیئے دیتے ہیں لیکن اپنے مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے۔ ایک تو اس طرح جب کہ میڈیا پر سنسرشپ کا الزام سر پر ہے تو یونین بحالی سے اس کا تاثر زائل کرنے کی کوشش کی گئی اور دوسرا بحال کر کے ایک مضبوط جواز پیش کر کے پابندی لگائی جائے تاکہ مزید کچھ برسوں میں امور حکمرانی میں خلل واقع نہ ہو۔ طلباء یونین اگر ایک مضبوط “آئینی اور قانونی” اصلاحات کے بغیر بحال ہوتی ہے تو یہ ایک بہت بڑی سیاسی غلطی ہو گی اور اس کا نقصان کتنا سنگین ہوگا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ “آئینی اور قانونی”  تحفظ کے بغیر طلباء یونین کی بحالی کا فائدہ صرف اور صرف کٹھ پتلیوں کو ہو گا اور درسگاہیں خانہ جنگی کا منظر پیش کریں گی۔ کچھ عرصے بعد خدانحواستہ چند لاشیں اٹھانے کے بعد اور ان تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی تو پھر کیا جواز پیش کر کے بحالی کی آواز اٹھائی جائے گی اور اٹھائے گا کون؟

اس سے پہلے حکومت کوئی کمزور ضابطہ اخلاق جاری کرکے الیکشن کا اعلان کردے اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ ایک مضبوط اور جامع پروگرام خود حکومت کو پیش کرے اور اگر حکومت کمزور اصلاحات کی بنیاد پر پابندی ہٹا دے تو مستقبل میں کسی بھی طرح کی کشیدگی کی ذمہ داری اُن پر ہو نہ کہ آئینی حق کے لیے سیاسی جد وجہد کرنے والوں پر۔ اگر اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی اس وقت کو گنوا دیتی ہے اور اس دوران حکومت الیکشن کا اعلان کر دیتی ہے تو پھر دو ہی آپشن رہ جائیں گے ایک تو کمزور ظابطہ اخلاق کے ہوتے ہوۓ الیکشن کا بائیکاٹ کیا جاۓ گا لیکن میدان کو خالی چھوڑنا ایک تو سیاسی طور پر غلط ہو گا اور دوسرا کٹھ پتلیوں کو کھلی چھوٹ مل جاۓ گی اور دوسری جانب اگر حصہ لیتے اور جیت بھی جاتے ہیں تو کچھ تنظیموں کی بد معاشی کو روکنے کے لیے ایک مضبوط آئینی و قانونی تحفظ کی عدم دستیابی میں محض تماشائی کا سا کردار ہو گا۔ جس حق کے لیے ہم سیاسی جد وجہد کر رہے ہیں ضروری ہے کہ ہم سیاسی اور علمی بصیرت کے ذریعے ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش کریں جو آئندہ نسلوں کے لیے باعث رحمت ہو نا کے زحمت۔