عابد حسین

امن کا خواہاں کوئی نہیں ہر ایک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ پہلے افغان سرزمین پر روس اور امریکی جنگ لڑی گئی، امریکی مفادات کے تحفظ کے لیئے سی آئی اے، عرب شیوخ اور آئی ایس آئی نے مل کر القاعدہ اور طالبان بنائی۔ اب جب چین ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور امریکہ نے افغان سرزمین سے انخلاء کرلیا ہے تو اب اسی طالبان کو دوبارہ استعمال کیا جارہا ہے۔ اس بار امریکہ اور چین کی اقتصادی سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ طالبان جو کسی زمانے میں امریکہ کے ڈئیر تھے اب چین کے قریب ہونے لگے ہیں۔ آج طالبان کے بانی اور چین کے وزیر خارجہ کی ملاقات اور پھر چین کی جانب سے طالبان کی مشروط حمایت و امداد کا اعلان خطے کے امن کے لیئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ 

چین نے واضح طور پر طالبان کی مدد اور حمایت کے بدلے میں شرائط رکھ دئیے ہیں کہ افغان طالبان سنکیانگ میں ایغوروں کی حمایت نہیں کریں گے، ہندوستان کا افغانستان میں کردار محدود ہوگا، افغان سرزمین کسی بھی ایسے عمل کے لیئے استعمال نہیں کی جائے گی جس میں چین کے مفادات کو نقصان کا خدشہ ہو۔ اگر افغان طالبان افغانستان یا اس کے کچھ حصے پر قابض ہوکر حکومت قائم کرتی ہے اور چین کی مدد یا حمایت حاصل کرتی ہے تو پاکستان نے جس طرح پہلے امریکی اتحادی ہونے اور ڈالرز کے عوض طالبان کی مدد و حمایت کی تھی بلکل اسی طرح اب چین کی شہد جیسی میٹھی دوستی کی وجہ سے پاکستان ایک بار پھر طالبان کی حمایت کرے گ کیونکہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کبھی بھی چین کو نہ نہیں کہے گا۔ 

دوسری جانب روس، ایران اور ترکی امریکہ کے حریف ہوتے ہوئے بھی طالبان کو ناپسند کرتے ہیں۔ روس اور ترکی نے تو طالبان کو واضح پیغامات دیئے ہیں کہ وہ افغان حکومت کے خلاف فساد بند کریں اور جمہوری طریقے سے افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے لیئے افغان طالبان کی حمایت ایسی ہی ہوگی جیسے وہ ٹی ٹی پی کی حمایت کررہے ہیں کیونکہ القاعدہ اور طالبان نے مل کر ہی ٹی ٹی پی کے قیام کو تسلیم کیا تھا یا تشکیل دیا تھا۔ چین کی حمایت کرنے کے بعد پاکستان خودکار طور پر طالبان کا حمایتی بن جاتا ہے۔ جس کا نقصان یہ ہوگا کہ پاکستان میں طالبان کی ری گروپنگ جو کہ سال بھر پہلے سے ہورہی تھی اور تیزی پکڑے گی۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی واضح پیغام آیا ہے کہ وہ پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سرزمین پر امارت اسلامی کے قیام کی کوششیں کریں گے۔ 

یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ افغانستان کی جمہوری حکومت پاکستان کے امن کے لیئے بہتر ہے۔ افغانستان سے چاہے سفارتی تعلقات جس نوعیت کے بھی ہوں لیکن افغانستان میں طالبان حکومت کا مطلب ہے پاکستان میں پختونخواہ اور بلوچستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کو ڈھیل دینا۔ ریاست پاکستان کے سرکاری یا سیاسی نمائندے یا حکومت اگرچہ قومی، علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر بار بار کہا جا رہا ہے کہ ہم طالبان کو سپورٹ نہیں کررہے لیکن طالبان کے گھر پاکستان میں ہیں، بچے یہاں پڑھتے ہیں۔ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ پھر پاکستان کو ایک دفعہ پناہ گزین کا بوجھ برداشت کرنا پڑیں گا۔ کیونکہ پہلے ہی اقوام متحدہ سے سالانہ 133 ملین ڈالرز ملتے ہیں جس کے بدلے مہاجرین کو پناہ دی گئ ہے۔ جبکہ اس بار طالبان کی حمایت یا چین کا طالبان کی حمایت کی وجہ سے ہمیں پھر راضی ہونا پڑیں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ اور خصوصی طور پر قبائلی اضلاع ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آئیں گے۔ پھر سے لوگ آئی ڈی پیز بنیں گے۔ پھر سے سیکیورٹی فورسز پر حملے ہونگے۔ پھر بم دھماکوں کی گونج سنائی دے گی، پھر سے فوجی آپریشنز کیئے جائیں گے اور پھر سے معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

یہ سب اس لیئے ہوگا کیونکہ ایک تو چین نے طالبان کی مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ جس سے واضح اشارہ مل رہا ہے کہ پہلے تو امریکہ نے القاعدہ اور طالبان کو پاکستان کی مدد سے روس کے خلاف تیار کیا لیکن نقصان افغانوں/ پختونوں، افغانستان اور پختونخواہ کی سرزمین کو اٹھانا پڑا۔ اب کی بار چین اپنی معاشی و تجارتی مفادات کی خاطر مزید یہ کہ ہندوستان کی دشمنی اور ون روڈ ون بیلٹ اینیشیٹیو کی وجہ سے مجبور نظر آتا ہے۔ چاہے کسی کا خون ہی کیوں نہ بہے چین کو امریکہ کے مقابلے میں معاشی طاقت بننا ہے۔ سی پیک کا اگرچہ ماخذ گوادر کو سمجھا جارہا ہے لیکن اصل میں یہ سی پیک چین کا ایک حصہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو بھی ون روڈ ون بیلٹ اینیشیٹیوکا فائدہ ہے لیکن پاکستان اب چین کا معاشی غلام بن چکا ہے۔ سی پیک کی تکمیل بھی چین کے بغیر ہمارے لیئے ممکن نہیں۔ اس لیئے پاکستان کا چین کے ہر فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنا فطری بن جاتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب امریکہ چین اور پاکستان کے اس عالمی معاشی منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار ہوتا نہیں دیکھ سکتا اس لیئے اب کی بار خطے میں چین اور امریکہ کی اقتصادی سرد جنگ تو شروع ہوچکی ہے۔ جبکہ ایکٹیو وار کے لیئے افغانستان اور پختونخواہ کا میدان سجایا جارہا ہے۔ امریکہ اور بھارت کی اپنی کوشش ہوگی کہ اگر طالبان کو برسراقتدار آتے دیکھا تو با امر مجبوری طالبان حکومت کو اپنے مفاد کے لیئے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ چین نے واضح طور پر طالبان نمائندے کو مشروط حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

  امریکہ بغیر امن معاہدے کے بھی افغانستان سے نکل سکتا تھا لیکن اپنی عوام کو جنگ میں فتح باور کرانے کے لیئے امن معاہدے کا ڈرامہ ضروری تھا۔ چین کے حمایت یافتہ طالبان افغانستان میں حکومت قائم کرتے ہیں یا انہیں چین کی مشروط حمایت حاصل ہوتی ہے تو پھر امریکہ ٹی ٹی پی کو ٹریگر کرے گا اور چین، پاکستان حتیٰ کہ افغان طالبان کے خلاف استعمال کرے گا۔ جس کا خمیازہ بلعموم سارے پاکستان اور باالخصوص پختونخواہ اور افغانستان کے عوام کو جنگ، دہشت گردی، خانہ جنگی، بم دھماکوں، تباہ حال انفراسٹکچر، تباہ حال معیشت کے شکل میں بھگتنا پڑے گا۔ سارے معاملے پاکستان بحثیت ریاست کنفیوژ نظر آرہا ہے۔ طالبان کی حمایت نہیں   کررہے لیکن پھر بھی کرتے نظر آرہے ہیں۔ چین کو ناراض نہیں کیا جاسکتا لیکن امریکہ کی طرف سے بھی ٹی ٹی پی کے ذریعے دہشت گردی کا خطرہ بھی ہے۔ 

بحثیت ریاست پاکستان کی نہ تو کوئی واضح خارجہ پالیسی نظر آتی ہے، نا ہی ہمسایوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ، نہ اپنی کوئی دفاعی حکمت عملی اور نہ اپنی عوام کے تحفظ کا کوئی ٹھوس منصوبہ۔ کیونکہ یہاں ریاستی فیصلے حکومت نہیں بلکہ ایک محکمہ کرتا ہے۔ فیصلہ سازی اور خارجہ پالیسی وہی بناتے ہیں۔ ان کے منہ کو خون کا ذائقہ لگ چکا ہے۔ پیسوں کے عوض عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جنگی مشینری کی افادیت صرف جنگ میں اور برسرپیکار رہنے میں ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانوں/ پختونوں کی قسمت میں بدبختی، جنگ، دہشت گردی، علاقہ بدر ہونا، اور ان کا خون بہایا جانا ہی ان کا مقدر ٹہرایا جاچکا ہے۔