عابدحسین

خبر ہے کہ افغانستان نے 100 طالبان قیدی رہا کردیئے ہیں۔ جو طالبان قیادت اور امریکہ کے درمیان کیئے گئے امن معاہدے کا حصہ ہے پر اس مذاکرات میں افغانستان کی منتخب حکومت کو بائی پاس کیا گیا تھا یا افغان حکومت کو فریق کے طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اب طالبان رہا ہوتے رہیں گے، مریکہ کے ساتھ ٹاس بھی ہوگی اور امریکہ نکل بھی جائے گا۔ طالبان نے پہلے ہی کہا ہے کہ وہ افغان حکومت کو نہیں مانتے، دوسری جانب افغان حکومت بھی طالبان کو حکومت میں حصہ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ اگر حالات اسی نہج پر رہے تو امریکہ کے نکلنے کے بعد افغانستان پھر سے اندرونی خلفشار کی طرف جائے گا، خانہ جنگی ہوگی اور اس طرح افغان  امن اور ترقی کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا۔

اگر امریکہ اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں اور اپنے آپ کو بھی جنگی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو امریکہ کے ساتھ ساتھ  طالبان پر بھی زور دینا ہوگا کہ موجودہ افغان حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کو ہرحال میں یقینی بنایا جائے اور اس کے بعد اگر طالبان کو افغان عوام منتخب کرتی ہے تو بے شک ان کے حکومت میں آنے میں کوئی مذائقہ نہیں ہے۔

افغان جنگ کا نقصان صرف افغان عوام نے اٹھایا ہے جبکہ امریکہ نے صرف موت کا کاروبار کیا ہے تو دوسری جانب طالبان نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے افغانستان کے عوام کو مذہب کے نام پر جنگ کا تحفہ ہی دیا ہے۔

Previous articleعمران بیچارہ کیا کرے؟
Next articleکرونا اور دنیا کا مستقبل