مہناز اختر

مجھے الیکشن میں حصّہ کیوں لینا چاہیے اورمیں اپنا ووٹ کسے دوں؟

جب سے کراچی کی سیاست میں مصنوعی انجینئرنگ کی گئی ہے تب سے Pml-N اور PTI کراچی والوں کو “سیاسی یتیم” سمجھ کر انہیں گود لینے کی فراق میں دکھائی دے رہی ہیں حالانکہ کسی ملک کے باشعور عوام کو سیاسی یتیم کا خطاب دینا انکی تحقیر کے مترادف ہے مگر کراچی کے ووٹرز کو سیاستدان اور میڈیا دونوں ہی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسی نام سے پکارتے ہیں۔

انگریزوں کی شاہی آمریت سے نجات کے صرف گیارہ سالوں بعد انگریزوں کے زمانے کے ایک فوجی آمر نے یہ سوچ کر پاکستان میں مارشل لاء لگادیا کہ پاکستان میں سوائے عزت مآب کے کسی کو حکمرانی کا سلیقہ نہیں تو لیاقت علی خان کے قتل کے بعد پاکستانی جمہوریت کو لگنے والا یہ دوسرا جھٹکا تھا جسکے اثرات کو پاکستا ن آج تک بھگت رہا ہے۔

مطالعہ پاکستان کے مطابق ایوب خان کا دور پاکستان کا سنہری دور تھا حالانکہ پاکستان کی سیاہ تاریخ کا کاتب اول ایوب خان ہی تھا۔ یہی سے پاکستان میں جمہوری اقدار کو کچلنے کی رسم شروع ہوئی تھی اور مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافیوں کا آغازبھی یہی سے ہواتھا ۔ اس وقت مختلف مذاہب اور نسلوں سے تعلق رکھنے والی آبادی پر مشتمل شہرکراچی صحیح معنوں میں پاکستان کے سیکولر تشخص کا علمبردار اور پاکستان کا دارالخلافہ تھا۔ قائد اعظم کا شہر پاکستان میں ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجروں کا سب سے بڑا گہوارہ تھا ۔ جب تک یہ شہر پاکستان کا دارالخلافہ رہتا فوجی اشرافیہ کا پورے پاکستان کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوتا اس لیئے فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے دور میں دارالخلافہ کراچی سے پنڈی منتقل کرکے قائداعظم کے پاکستان کو “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں تبدیل کردیا گیا ۔ مطالعہ پاکستان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی سے دارالخلافہ منتقل کرنے کی وجوہات خالصتاً اسٹریٹیجک تھیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے لیئے قائداعظم کے فیصلوں کو پہلی بار اسی دور میں فوجی بوٹوں کے ذریعے کچلا گیا ۔

قائداعظم کے بعد محترمہ فاطمہ جناح قومی وحدت کا استعارہ تھیں ۔ انہوں نے ایوب خان کی آمریت اور کرپشن کوببانگ دہل چیلنج کیا اور اسکے خلاف بھرپور سیاسی مہم چلا کر 1965 کے الیکشن میں حصّہ لیا لیکن پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی کا سہرا بھی سب سے پہلے ایوب خان کے سر بندھا اور محترمہ کو الیکشن میں شکست ہوئی۔ اسی دور میں فوجی آمر ایوب خان نے پہلی بار یہ نعرہ لگایا تھا کہ مملکت خداداد کو پڑوسی ملک بھارت اور پاکستان کی جمہوری قوتوں سے خطرہ ہے۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان میں اسلام کو سیاست میں گھسیٹ کر محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف مولویوں سے فتوے دلائے گئے کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی حرام ہے ۔

کاش کہ اس وقت محترمہ فاطمہ جناح کو مادر ملت سمجھ کرپاکستان کی بیوروکریسی اور اشرافیہ نے ایوب خان کے بجائے انکا کا ساتھ دیا ہوتا تو پاکستان میں بنگالی اور مہاجر یوں تعصب کا شکار نہ ہوتے اور آگے چل کر مشرقی پاکستان کے بنگالی مسلمان “اسلامی جمہوریہ پاکستان ” پر یوں لعنت بھیج کربنگلہ دیش نہ بناتے ۔ دارالخلافہ کراچی سے پنڈی منتقل نہ ہوا ہوتا تو آج کراچی بھی آباد ہوتا، نہ یحییٰ خان ہوتا نہ ضیاء الحق اور نہ بھٹو کو پھانسی ہوتی، نہ سندھ کو کوٹہ سسٹم کا سرطان لاحق ہوتا اور نہ مہاجر APMSO بناتے ، نہ MQM بنتی اور نہ مہاجروں پر جناح پور کی سازش کا الزام لگتا، نہ کراچی اور حیدرآباد کے مہاجروں کی عزت نفس اور انکی زندگیاں آپریشن کے نام پر بار بارفوجی بوٹوں کے نیچے کچلی جاتی اور انہیں غدار کہا جاتا کیونکہ ماں گھر جوڑنا جانتی ہے۔

کراچی کے ووٹرز کے استحقاق اور اعتماد کو مجروح کرنے میں محکمہ زراعت ، بیوروکریسی بشمول سیاسی جماعتیں سارے ہی برابر کے شریک ہیں۔ مہاجروں کے حقوق کا نعرہ لے کر اٹھنے والی جماعت MQM جلد ہی تقسیم ہوکر متحدہ اور حقیقی کہلانے لگی اور ایک دوسرے کا قتل عام شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ کراچی کی یہ نمائندہ جماعت سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوکر کراچی کے مفادات کو فراموش کرتی چلی گئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ کہ کراچی بھتہ خوری ،ہڑتالوں،بوری بند لاشوں اور ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے پہچانا جانے لگا۔

کراچی والے تین دہائیوں سے مقبول ریاستی بیانیوں کی زد میں ہیں مگر اب وہ وقت آچکا ہے کہ ہم ان بیانیوں پر سوال اٹھائیں۔

ہمیں کہا گیا کہ MQM دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ MQM کے پاس سے بھاری اسلحہ برآمد ہوا ہے اور کراچی کی اس “دہشت گرد جماعت” کے کندھوں پر بھارت کا ہاتھ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی میں لیاری گینگز کے پاس بھاری اسلحہ کہاں سے آیا، کراچی میں اس حد تک طالبانائیزیشن کیسے ہوئی کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ کٹی پہاڑی سے مہاجر آبادی پر راکٹ لانچر کا استعمال ہوا ،مساجد سے پختونوں نے یہ اعلان کیا کہ مہاجر یہودیوں کی اولاد ہیں اور پختونوں کو انکے خلاف جہاد کرنا چاہیے اور طالبان کے ہاتھوں اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی روح رواں پروین رحمان کا قتل کیوں ہوا؟ کراچی میں پختونوں اور پیپلزز پارٹی کے کارکنوں کے پاس اسلحہ کہاں سے آیا؟

کہا گیا کہ الطاف حسین غدارہے لیکن MQM پاکستان اور PSP کے قرب وجوار سے بھی محکمہ زراعت کی کیڑے مار دوائیوں کی بو آرہی ہے۔ مجھے میری ایجنسیوں سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ اگر MQM دہشت گرد جماعت تھی تو اسکے سارے لیڈر آپکے ہاتھوں ڈرائی کلین ہوکر واپس سیاست میں کیسے آگئے حتی کے حقیقی کے آفاق احمد نے بھی گناہ بخشوا لیئے ہیں۔ کیا لندن میں بیٹھا ایک شخص MQM کی بقیہ قیادت کی مدد کے بغیر اس تنظیم کو چلا سکتا تھا ؟ ادھر الطاف حسین مہاجروں سے الیکشن کے بائیکاٹ کا تقاضہ کررہے ہیں مگر وہ مجھے یہ بتائیں کہ اب کیا سارے مہاجر ہجرت کرکے لندن میں بس جائیں؟

کراچی کی تباہی کے ذمہ داران میں سر فہرست جماعت پیپلز پارٹی بھی ہے تو کراچی کے ووٹرز کا اس پارٹی پر دوبارہ بھروسہ کرنا فاش حماقت ہی ہوگی ۔ دوسری طرف کراچی میں مذہبی شدت پسند جماعتیں پھر سے منظم ہوکر کسی نا کسی شکل میں دوبارہ سے سیاسی دھارے میں شامل ہوگئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے شفاف الیکشن کے قیام کے لیئے فوج کی مدد طلب کی ہے مگر فوج کی نگرانی میں کی گئی کراچی کی مردم شماری کے نتائج نے فوج کے کردار کو یہاں بھی مشکوک بنادیا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایوب خان MQM پاکستانPSP،PTI،MMA اور TLP کے ماسک لگا کر الیکشن میں حصّہ لے رہا ہے مگر افسوس کے اسکے مقابل کوئی محترمہ فاطمہ جناح دکھائی نہیں دیتی کہ جنہیں میں اپنا ووٹ دے کر مطمئن ہوجاؤں۔

کاش کہ میاں محمد نواز شریف 1992 میں ہونے والے آپریشن کلین اپ میں وردی والوں کے کندھے سے کندھا ملا کر نا کھڑے ہوئے ہوتے، کاش کہ میاں محمد نواز شریف نے “ووٹ کوعزت دو” کا نعرہ اس وقت لگایا ہوتا جب MQM پر مائنس الطاف کا فارمولہ لگا کر کراچی کے ووٹرز کے ووٹ کی بے عزتی کی گئی تھی اور مہاجروں کو دہشت گرد جماعت کے سپورٹر قرار دے دیا گیا تھا، کاش کے میاں محمد نواز شریف نے مہاجروں کو MQM کا ووٹر سمجھ کر پیپلز پارٹی اور MQM کے غنڈوں کے رحم و کرم پر نا چھوڑا ہوتا، کاش کہ آپ نے وزیراعظم پنجاب کے بجائے وزیراعظم پاکستان بن کر کراچی کے مسائل پر توجہ دی ہوتی تو آج میرے پاس آپکو ووٹ اورعزت دینے کا ایک جواز باقی رہتا۔

اگر میں اکتوبر 1958 کے نقطے پر کھڑی ہوکر کراچی اور پاکستان کی سیاست کا جائزہ لوں تو میرے پاس اس بار ووٹ کا حق محفوظ رکھنے کے لیئے بہت سارے دلائل موجود ہیں مگر کل مستونگ دھماکہ میں ہونیوالی سو سے زائد شہادتوں نے مجھے ماضی کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھنے پر مجبور کردیا ہے اور مجھ پر واجب ہے کہ میں ووٹ کا حق استعمال کروں اور ان لوگوں کی سازش کو ناکام بناؤں جو اس ملک میں چلنے والے جمہوری نظام کے مخالف ہیں جو اس ملک کو جمہوریت کی ڈگر سے ہٹا کر اس ملک میں جبر کا نظام برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔