وقاراحمدصدیقی

گزشتہ دنوں سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری صاحب کے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو نے بحرِسیاست میں ایک ہلکا سا ارتعاش پیدا کیا۔ بعض حلقوں نے یہ   امکان ظاہر کیا کہ اس انٹرویو میں وزیر صاحب نے حکومت کو 6 ماہ کی مدت مقتدر قوتوں کے اشارے پر دی ہے۔ اپنے انٹرویو میں فواد چوہدری صاحب عوامی توقعات کے مطابق حکومت کے مؤثر نہ ہونے کی توجیح فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان کی مرکزی و نظریاتی ٹیم کی سیاسی عمل سے بے دخلی حکومت کی ناکامی کا باعث بنی۔ واللہ! پی ٹی آئی کی حکومتی کابینہ میں فواد چوہدری صاحب سے بڑھ کر مذکورہ حقیقت سے آگاہی اور کسے ہو سکتی ہے؟ الحمداللہ، وہ تو خود آج تک پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کے ‘نظریاتی’ کارکن نہیں رہے۔

اقتدار سنبھالنے سے قبل، پی ٹی آئی کے ہمدرد حضرات کے ذہن میں جو ایک وہم، وسوسہ یا مغالطہ (خدا جانے اسے کیا کہیے) مشترک تھا اور (کچھ احباب کے لیئے آج تک ہے) وہ یہ تصور کہ بس قیادت سب کچھ ہوتی ہے۔ اور اگر قیادت صحیح ہاتهوں میں ہے تو مقتدیوں کا کردار کچھ بهی ہو، انقلاب کا سورج اب طلوع ہوا کہ تب ہوا۔ قوم “یوط”  کے خود تراشیدہ دانشور، حسن نثار نے ایک موقع پر قیادت کے ثمرات واثرات سمجهاتے ہوئے اسلامی انقلاب کا تذکرہ فرما دیا اور بتلایا کہ کس طرح پیغمبرِ اسلام کی قیادت نے عرب کے بدوؤں کو فاتح عالم بنا دیا۔ محترم حسن نثار صاحب اپنے بیانیے کی توثیق کرانے کی سعی میں من چاہی تاریخ سناتے ہوئے صحابہ کرام کی تربیت اور نظریے و مقصد کی حقانیت پر کامل ایمان کا تذکرہ بھول گئے۔ تربیت بهی ایک دو روز کی نہیں، عشروں کی انتہائی کڑی اور سخت تربیت۔ 13 سال تک تلوار اٹهانے کی سختی سے ممانعت اور ہر ظلم کے جواب میں صبر کی تلقین۔ اخلاقی و روحانی تربیت سے خالی، 16-14سال کے لڑکوں کو جہاد کے نام پر ہتهیار تهمانے کے نتیجے میں زمین پر جو فساد برپا ہوا اور جہاد جیسی افضل ترین عبادت جس طرح رسوا ہوئی، اس کے تباہ کن اثرات سے اقوام عالم اور خصوصاً عالم اسلام آج تک نبرد آزما ہے۔ پی ٹی آئی کے کچھ احباب حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قولِ مبارک، “حق کی پہچان باطل کے تیروں کی سمت سے کرو”، کی دلیل سامنے رکھ کر عمران خان کو حق ثابت کرنے کی سعی کرتے نظر آتے تھے. یہ استدلال فرماتے ہوئے کہ چوں کہ نواز، زرداری، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن سمیت موجودہ سیاسی منظر نامے میں “باطل” کی نمائندہ تمام سیاسی شخصیات عمران خان کی مخالف ہیں، لہذا عمران خان بلاشبہ اور بلا شرکت غیرے حق اور سراسر حق پر ہیں۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے مقابلے میں راقم کی رائے اس وقت بھی یہی تھی کہ یہ امر مشکوک ہے کہ عمران خان کی مخالف مذکورہ بالا شخصیات حق ہیں یا باطل لیکن مملکت خداداد کی 70 سالہ تاریخ اس بات کی واضح شہادت دے رہی ہے کہ جس بهی فرد / پارٹی کو اسٹبلشمینٹ اپنے کندهے یا دیگر اعضائے رئیسہ و غیر رئیسہ پر سوار کرکے عوام پر مسلط کرنے لائی ہے، وہ یقیناً اور بلا شک و شبہ باطل ثابت ہوا ہے۔ کیا مزیدار بات ہے کہ سات دہائیوں سے رائج سسٹم کے beneficiary کی تائید و نصرت سے آنے والی قیادت سسٹم تبدیل کرنے آ رہی ہے!

یہ سادہ دل احباب اگر روز اول سے سمجھ لیتے کہ مانگے تانگے کے ایلیکٹبلز سے کوئی انقلاب نہیں آنے والا اور عمران خان کی نیک صحبت ان کرپٹ ایلیکٹبلز، جن کے ہاتھ سے ان پارٹیز، جن کی کوکھ سے انهوں نے جنم لیا کے اندر کوئی کارخیر انجام نہیں پا سکا، کے قلب و نظر کی دنیا نہیں پلٹ سکے گی، تو آج کم از کم حکومتی ناکامی پر مایوسی نہ ہوتی۔ آخر اس حقیقت کو سمجھنا کتنا دشوار ہے کہ ایک الیکٹبل ایسی کسی قانون سازی کا، جس کی زد میں  اس کا اپنا مفاد آ سکتا ہے، کیوں حصہ بنے گا؟ پارٹی ڈسپلن!!! پارٹی، پارٹی کے ڈسپلن، نظریے وفلسفے سے الیکٹبل کا کیا لینا دینا؟ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک الیکٹبل کو پڑنے والا ووٹ پارٹی نظریے کو پڑا بھی نہیں۔ اگر پارٹی نظریے اور فلسفے میں جان اور قیادت میں کوئی کشش ہوتی تو ڈیڑھ درجن نظریاتی ساتھیوں کو چهوڑ کر آپ پارٹی ٹکٹ ایلیکٹبلز میں نہ تقسیم کر رہے ہوتے۔ لہذا ذہن نشین رکھیے کہ ایلیکٹبل آپ کے طفیل اسمبلی میں نہیں بیٹها، آپ یقیناً ایلیکٹبلز کی مرہون منت وزیر اعظم کی مسند پر براجمان ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کو حالات کا رخ سمجھنے کےلیئے عنانِ حکومت سنبھالنے کے محض دو ماہ بعد ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج ہی بہت کافی ہو سکتے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع تھا کہ ووٹر نے محض دو ماہ میں اپنی رائے بدلی ہو اور حکمران جماعت کو ضمنی انتخاب میں جیتی نشست پر ناکام کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ یہ پی ٹی آئی کےلیئے یقیناً ایک لمحۂ فکریہ تھا۔ خان صاحب کو اپنی ٹیم پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت تھی۔ ہر صاحب نظر کو دکھائی دے رہا تھا کہ یہ ٹیم ڈیلیور نہیں کر سکے گی لیکن آپ اس حقیقت سے بےنیاز کہ یہ وہی قبیل ہے جس نے سابقہ قیادت سمیت ہر دور میں حکمرانوں کو رسوا کرایا ہے، خوشامدیوں، مفاد پرستوں اور بوٹ پالشیوں میں گهرے رہے۔

میں نے ایک اور بھی محفل میں انھیں دیکھا ہے

یہ جو تیرے نظر آتے ہیں یہ سب تیرے نہیں

یہ ہر لمحہ نئی دھن پہ تھرکتے ہوے لوگ

کن جانے کہ یہ کب تیرے ہیں کب تیرے نہیں

آپ نے تبدیلی کے چہرے کے نام پر آدھا پاکستان جس عثمان بزدار کے حوالے کیئے رکها، راقم کو یقین ہے کہ آپ شوکت خانم اس کے سپرد کرنے کی حماقت کبهی نہیں کرتے۔ آپ نے وزارت خزانہ جیسی اہم ذمہ داری جن صاحب کے سپرد کی وہ بلاشبہ اپنے اسپانسرز، جو ان کی مذکورہ تعیناتی میں محرک بنے، کے سوا کسی کے آگے جوابدہ نہیں. ان کا آپ یا پی ٹی آئی کے وزن سے قطعی کوئی واسطہ ہے نہ سروکار، انہیں وہ اہداف حاصل کرنے ہیں جو انکے سپرد ان کے عالمی و مقامی سرپرستوں نے کیئے ہیں۔ افسوس کہ 22 سالہ جدوجہد میں 22 کروڑ لوگوں میں 22 افراد دستیاب نہیں ہو سکے جو آپ کے فلسفے و نظریے سے مخلص و وفادار ہوتے۔ درجِ بالا صورتحال میں اصل ہمدردی کے مستحق تو بہرحال وہ احباب ہیں جنہوں نے اس سیٹ اپ سے گہری و قوی امیدیں وابستہ کی تھیں۔

Previous articleپاکستانی اور بھارتی حکمران سن لیں!
Next articleاٹھارویں آئینی ترمیم اور وردی پوشوں کی خواہش