عابدحسین

پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار اور مداخلت   کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ حکمرانی بھی فوجی آمروں نے کی ہے۔ سول اور فوجی بیوروکریسی کی گٹھ جوڑ ہو، انتخابات میں دھاندلی ہو، انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا ہو یا اپنے کسی من پسند آدمی کو مسند اقتدار پر براجمان کرانا ہو، سب فوجی جرنیلوں کے ایماء پر ہی ہوتا رہا ہے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں جب حکمران جماعت تحریک انصاف کامیاب ہوئی اور وفاق میں اتحادی حکومت بنائی، تب سے لے کر اب تک اپوزیشن سمیت کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے یہ الزام لگایا کہ فوج کی نگرانی میں منظم دھاندلی کے ذریعے تحریک انصاف کو کامیاب کروایا گیا ہے اور یہی رائے اب بھی قائم ہے۔ انتخابات میں دھاندلی پر شک یقین میں تب بدل گیا جب آہستہ آہستہ سول محکموں میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کو ٹھونسا گیا۔ آج تقریباً 22 سرکاری محکموں میں سابقہ جرنیل بیٹھے ہوئے ہیں۔ جبکہ آہستہ آہستہ ہر بڑے محکمے کو کسی نہ کسی فوجی کے حوالے کیا جارہا ہے۔

اسی طرح بجٹ میں بھی سب سے زیادہ بجٹ فوج کو دے کر یہ ثابت کیا گیا کہ کوئی بھوک سے بھی مرے تو کوئی بات نہیں لیکن فوج کی شان میں کمی نہیں آنی چاہیئے۔ اس کی وجہ سے عوام کی جانب سے حکومت پر بڑی تنقید کی گئی۔ جنرل ندیم افضل کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا چیئرمین مقرر کیا گیا اور کورونا وباء کے زمرے میں   این ڈی ایم اے کو ایک خطیر رقم حوالے کی گئی لیکن این ڈی ایم اے کی کارکردگی پر اب بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں اور اس سے پہلے بھی عدالت عالیہ کے ایک معزز جج نے جب این ڈی ایم کے چیئرمین کو عدالت بلایا اور استفسار کیا کہ کورونا کے ایک مریض پر کتنا خرچ کیا جارہا ہے تو معزز جج کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی انگشت بدندان رہ گیا جب جنرل صاحب نے کہا کہ ایک مریض پر تقریبا 29 لاکھ روپیہ خرچ کیا جارہا ہے۔ اس پر عدالت نے ثبوت فراہم کرنے کا کہا۔

خیر آگے چلیے! بات ہورہی ہے سیاست، حکومت اور اداروں میں فوجی مداخلت کی، 9 جولائی کو چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ اٹھارویں ترمیم ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔ اس کے بعد کئی ذی شعور، سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والوں، سیاسی و صحافتی حلقوں اور وفاقی حزب اختلاف نے اس بیان پر سخت تنقید کی اور جنرل ندیم افضل کے اس بیان کو سیاست اور حکومتی معاملات میں بلاواسطہ مداخلت قرار دیا۔ آج مورخہ 13 جولائی کو سینٹ کے اجلاس میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر جناب عطاء الرحمان صاحب نے فوج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک محکمے کو سیاست اور حکومتی معاملات سے دور رکھا جائے۔ جس پر حکومتی ارکان نے واویلا مچایا لیکن مولانا عطاء الرحمان نے پھر بھی اپنی تقریر میں کہا کہ اس فوج کو دفاع کے بجائے حکمرانی میں زیادہ دلچسپی ہے، نہ ہی ان کے کوئی قابل ذکر کارنامے ہیں اور نہ ہی کوئی فتوحات بلکہ اپنے ملک اور عوام پر ہی چڑھائی کرکے ان کو فتح کرتے جارہے ہیں، فوج کے اس عمل سے عوام کے دلوں میں ان کے لیئے نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے، اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے سے صوبوں سے ان کے حقوق نہ چھینے جائیں۔ سینیٹر عطاء الرحمان صاحب نے واضح کیا کہ اگر اٹھارویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ ہر فورم پر اس کی مخالفت بھی کریں گے اور احتجاج بھی کریں گے۔

اٹھارویں ترمیم کیا ہے؟ اگرچہ راقم نے بھی ان کے مندرجات کو پہلے تفصیل سے نہیں پڑھا تھا لیکن ہمارے استاد سینیئر صحافی اور پاکستان میں واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے اور پشاور پریس کلب کے ممبر جناب حق نواز صاحب نے اپنے فیس بک وال پر اٹھاوریں ترمیم کے مندرجات پوسٹ کیئے تو مجھے بھی تفصیل سے پڑھنے کا موقع ملا۔ قارئین  کی آسانی کے لیئے اٹھارویں آئینی ترمیم کے مندرجات پیش کررہا ہوں، تاکہ اس کی اہمیت کو سمجھا جاسکے۔

 اٹھارویں ترمیم 8 اپریل 2010 کو پاس ہوئی۔ اس ترمیم کی رو سے آئین میں سو کے قریب تبدیلیاں کی گئیں، جنہوں نے آئین کے 83 آرٹیکلز کو متاثر کیا۔ اس ترمیم کی رو سے ضیاء دور میں کی گئی تقریباً تمام آئینی ترامیم کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ مشرف دور کی سترہویں ترمیم کو بھی واپس لیا گیا۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخواہ رکھا گیا۔ دو صوبوں کے انگریزی ناموں کے اسپیلنگز میں تبدیلی کے کرکے Baluchistan کو Balochestan اور Sind کو Sindh کیا گیا ہے۔ 1973کےآئین میں شامل آرٹیکل6ریاست اور آئین سےغداری میں ملوث افراد کےلیئے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں، اٹھارویں ترمیم کےتحت اس میں مزید تبدیلی کرکے آرٹیکل 2۔6 الف کا اضافہ کیاگیا ہے۔ جس کےتحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت معاف نہیں کرسکتی۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت، آرٹیکل 25 الف کا اضافہ کر کے 5 سے 16 برس کی عمر تک تعلیم کی لازمی اور مفت فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

آرٹیکل 38 کے تحت صوبائی اکائیوں کے درمیان موجود وسائل اور دیگر خدمات کی غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ بدنام زمانہ آرٹیکل 58 (2) بی جو فوجی آمر ضیا الحق نے متعارف کروائی تھی اور بعد ازاں ایک اور آمر پرویز مشرف کے دور میں اس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، پہلے یہ اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل تھا، اب اس کا اختیار جیوڈیشل کمیشن اور پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ (اس ترمیم کو چیلنج کردیا گیاتھا اور چند تبدیلیوں کے ساتھ 19ویں ترمیم کاحصہ بنایاگیا)۔ صوبائی خود مختاری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت آرٹیکل 70، 142، 143، 144، 149، 158، 160، 161، 167، 172، 232، 233 اور 234 کو جزوی یا مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں بجلی کی پیداوار کا معاملہ مکمل طور پر صوبائی اختیار میں دیا گیا ہے۔ قومی فنانس کمیشن ، قدرتی گیس، صوبائی قرضہ جات، ہنگامی صورت حال کا نفاذ اور دیگر قانون سازی جیسے معاملات کو صوبائی اختیار میں دے دیا گیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں سب سے اہم معاملہ ہنگامی صورت حال نافذ کرنے سے متعلق ہے۔ اب ہنگامی صورت حال کا نفاذ صدر اور گورنر سے لے کر صوبائی اسمبلی کو دے دیا گیا ہے۔ ایک اور بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے ک آرٹیکل142ب اور ج کےتحت صوبائی اسمبلیوں کوکریمنل قوانین، طریقہ کاراور ثبوت اورشہادت جیسےقوانین کا اختیاردے دیا گیاہے۔ آرٹیکل280 الف الف کےتحت موجودہ قوانین اس وقت تک نافذالعمل رہیں گےجب تک کہ متعلقہ صوبائی اسمبلیاں ان قوانین کےبدلےمیں نئےقوانین پاس نہیں کرتیں۔ @اٹھارویں ترمیم کا ایک اور بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے پارلیمانی نظام حکومت کو واپس لاگو کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 46، 48، 75، 90، 91، 99، 101، 105، 116، 129، 130، 131، 139، 231 اور 243 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اٹھارویں ترمیم میں مختلف تبدیلیوں کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات میں خاطرخواہ تبدیلی کی گئی ہے۔ اب صدارتی اختیارات، عوام کے منتخب و نمائندہ وزیر اعظم، پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم سے قبل اہم عوامی أمور کے لیئے ریفرنڈم کے انعقاد کا اختیار صرف صدر مملکت کے پاس تھا، اب یہ اختیار صدر سے واپس لے کر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے وزیر اعظم کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت آئین سے آمر ضیاالحق کے لیئے “صدر” کے لفظ کو نکال دیا گیا ہے۔

اب ڈر صرف اس بات کا ہے کہ وردی پوشوں کی خواہشات کے خاطر پھر سے اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرکے صوبوں کے حقوق کا گلا نہ گھونٹ دیا جائے۔-

ا

Previous articleانقلاب کا سراب
Next articleدورِ بے ہنراں