عاطف توقیر

اکبر بگٹی قیام پاکستان سے ریاست پاکستان کے ساتھ تھے۔ وہ ملک کے وزیرمملکت برائے دفاع رہے، وزیر مملکت برائے داخلہ رہے، صوبائی گورنر رہے، وزیراعلیٰ رہے۔ اور انہیں “غدار” کہلوا کر قتل اس شخص نے کروایا جو پاکستانی تاریخ کا پہلا عدالت سے تصدیق شدہ “غدار” نکلا۔

سوال یہ ہے اس ملک کے قیام کے لیے مجیب الرحمان نے اپنی جان لڑائی، نتیجہ یہ نکلا کہ اہم نے انہیں پاکستان سے متنفر کیا، اکبر بگٹی نے پاکستان کے قیام اور تعمیر میں حصہ ملایا، نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے انہیں بھی پاکستان سے متنفر کیا۔ جی ایم سید نے پاکستان کے قیام کی اولین قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور کروائی اور قیام پاکستان کی راہ ہموار کی، نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے انہیں بھی پاکستان سے متنفر کیا۔ فاطمہ جناح، سہروردی اور باچا خان جیسے قیمتی، ذہین، دوراندیش اور مخلص لوگوں کو ہم نے غدار کہا اور ان کے لیے نفرتیں پیدا کیں۔

سیاسی مسائل کا حل سیاسی مکالمت سے ممکن ہوتا ہے۔ سیاسی اختلاف کو اگر عسکری طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے، تو ریاست کے جسم پر نفرت کا سرطان پیدا ہو جاتا ہے۔ نفرت کا یہ کینسر اگر ایک بار پیدا ہو جائے، تو پھر اس کے خاتمہ آسان نہیں رہتا۔

دنیا کے جس جس خطے میں مکالمت شروع ہوتی ہے، وہاں اتحاد اور انضمام کا راستہ کھلنے لگتا ہے۔ جہاں جہاں گفتگو اور مکالمت کا راستہ بن کیا جاتا ہے، انسانوں کے درمیان میز پر بات چیت کے ذریعے مسائل اور اختلافات کا حل نکالنے کی بجائے، ان کی کنپٹی پر بندوق رکھی جاتی ہے یا اختلاف کو نفرت کے حوالے کر دیا جاتا ہے، اس کا نتیجہ بھیانک تقسیم کی صورت میں نکلتا ہے۔

باہمی نفرت اور بداعتمادی نے ہندوستان تقسیم کروایا، پھر اسی نفرت اور بداعتمادی نے پاکستان تقسیم کروایا اور پھر اسی نفرت اور بداعتمادی نے باقی ماندہ حصے میں بھی تقسیم در تقسیم کی راہیں کھول دیں۔ کبھی مذہبی بنیادوں پر تقسیم، کبھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم، کبھی مسلکی بنیادوں پر تقسیم، کبھی نسلی بنیادوں پر تقسیم، حتیٰ کے برادری اور ذات کی بنیاد پر تقسیم بھی۔

یہ تقسیم، یہ بداعتمادی اور یہ باہمی نفرت اس بنیاد پر قائم ہے بلکہ پھل پھول رہی ہے کہ ہم گفتگو نہیں کرتے۔ ہم دلیل سے بات نہیں کرتے۔ ہم طاقت کے زور سے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔

پاکستان زندہ باد کے جتنے نعرے ہمارے ہاں لگتے ہیں، اتنے شاید دنیا کے کسی ملک میں نہیں لگتے، مگر حقیقی معنوں میں پاکستان سے پیار کا عملی ثبوت کہیں نظر بھی نہیں آتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ آپ کی بیمار والدہ آپ سے پانی مانگ رہی ہیں اور آپ ان کے ہاتھ چوم کر اپنے پیار کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ آپ سے کہہ رہی ہیں کہ وہ پیار سے مر رہی ہیں، آپ ان کی زندگی کی دعائیں مانگ رہے ہیں مگر پانی نہیں دے رہے۔ وہ آپ کے سامنے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر پیاس سے مر رہی ہیں مگر آپ نعرے لگا رہے ہیں کہ آپ کو اپنی والدہ سے بے حد محبت ہے۔

خود سے سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ لوگ کیوں ریاست سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں؟ کیوں ایسے لوگ جو پاکستان کے قیام کی تحریک میں شامل تھے، پاکستان کے وجود سے دور ہو رہے ہیں؟

اس کا جواب یہ  ہے کہ ہم سیاسی معاملات کو سیاسی معاملات سمجھنے کی بجائے ذاتی معاملات سمجھتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو غداری گردانتے ہیں اور سیاسی مسائل کا حل عسکری کارروائی سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم کب مکالمت اور گفتگو کا راستہ اپنائیں گے؟ ہم کب سیاسی اختلافات پر غداری کے فتوے بانٹنے کا کام بند کریں گے؟ ہم کب اس ملک اور اس پر بسنے والے انسانوں کی ترقی کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔

Previous articleاب تو سبھی مسلمان کافر ہیں
Next articleکمراٹ ویلی: “رل وی گئے تے چس وی نہی آئی”