وقاص احمد

شکریہ ادا کرنے سے پہلے میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ یہ سچا واقعہ چند ہفتے پہلے کا ہے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر کچھ عرصہ سے موجود ہے۔ کراچی میں ایک ڈاکو موبائل کی دکان لوٹنے پہنچا تو وہاں کیا ہوا؟ یہ میں آپ کو آخر میں بتاؤں گا۔

یہ مضمون شکریہ ادا کرنے کے لیئے ہے۔ شکریہ ہمارے ہر دل عزیز کپتان عمران خاں کا! خاں صاحب کے حامی کہتے تھے کہ خاں نے عوام کو سیاسی شعور دیا ہے۔ ہم اپنی نالائقی کے سبب اس بات کو کبھی سمجھ نہیں پائے لیکن اب عوام میں آئے واضح بدلاؤ کو دیکھتے ہوئے ہماری آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئی ہیں کہ یار! یہ تو واقعی سچ کہہ رہے تھے۔ پاکستان پر فوج نے تین دفعہ قبضہ کرکے مارشل لاء لگایا۔ ایک ایسی جنگ ہم نے ہاری جس میں ہمارا جسم دولخت ہوگیا مگر یہ ناہنجار قوم اس قدر کوڑھ مغز نکلی کہ کسی دھکے، کسی ٹھوکر، کسی چوٹ سے کوئی سبق نا سیکھا۔ ایوب خان کے مارشل لاء سے بھٹو صاحب برآمد ہوئے، تو ہم نے اس کے لیئے زندہ باد کے نعرے لگائے اور ضیاء الحق مارشل لاء سے نواز شریف کی دریافت ہوئی تو ہم نے اس کے لیئے بھی زندہ باد کے نعرے لگائے (اور بھی خاں صاحب سمیت سینکڑوں کی تعداد میں سیاستدان مارشلائی دور کی دریافت ہیں مگر اصلی عوامی لیڈر بننے کا اعزاز انہی دو کے حصے آیا)

خیر میں ذکر کر رہا تھا اس غبی قوم کا جس پر تین دفعہ قبضہ ہوا۔ ایک دفعہ کاٹ کر آدھا کر دیا گیا مگر پھر بھی جہاں ان کو ہرے رنگ کی تیر والے نمبر پلیٹ کی جیپ یا ٹرک نظر آتا تھا تو زندہ باد کے نعروں اور پھولوں کی پتیوں کے ساتھ استقبال کرتے رہے۔ بیچ میں بھٹو بھی  ”وسیع تر قومی مفاد“  کے خلاف کھڑا ہوگیا اور نوازشریف نے بھی ”میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا“ کا نعرہ لگا دیا مگر اس مہا بیوقوف قوم کی غالب اکثریت انہیں، ان کے ڈکٹیٹرز سے منسوب ماضی کا طعنہ تو دیتی رہی لیکن دوسری جانب انہی ڈکٹیٹرز کے لیئے زندہ باد کے نعرے بھی لگاتی رہی۔ درحقیقت معاملہ کوئی بھی ہو، زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے ہمیشہ سیاست دان ہی کے حصے میں آئے۔ اصل ذمہ داران کنارے پر کھڑے ہوکر قومی عقیدت و محبت کے سمندر میں غوطے لگاتے رہے۔

اس مشترکہ قومی جہالت کا اندازہ لگائیں کہ ہم نے مشرقی پاکستان سے لے کر کارگل تک کی فوجی شکستوں کی ذمہ داری اس دور کے سیاستدانوں پر تھوپ دی۔ دوسری جانب اگر پیٹرول بجلی کی قیمت میں کمی سے لے کر کرکٹ کے میدان میں بھی کوئی فتح نصیب ہوتی تو شکریہ راحیل شریف کے نعرے لگاتے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ عوامی لیڈران عوام کے لیئے اپنی بساط بھر ایسا کچھ نا کچھ کرتے رہتے تھے جس پر شکریہ راحیل شریف کا ٹوئیٹر ٹرینڈ چلا کر کریڈٹ اچک لینا بہت آسان تھا۔

پھر آیا  دور”عمرانیات“، وہ دور جو اب کبھی ختم بھی ہوجائے تو اس دور کے خوفناک اثرات اور ہولناک نتائج اگلے پچاس سال تک اس قوم نے بھگتنے ہیں۔ وہ دور جس میں قسم کھا لی گئی ہے کہ اگر ہم نے عوامی فلاح کے لیئے کوئی قدم اٹھایا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔ وہ دور جس میں کابینہ کے ایک ایک ممبر نے تہیہ کیا ہے کہ جس دن عوام کو کوئی ریلیف دیا وہ دن ہماری زندگی کا آخری دن ہوگا، اور سب سے بڑھ کر وہ دور جس میں ان مقدس دیوتاؤں کی روٹی بھی آدھی رہ گئی جن کی روٹی پوری کرتے کرتے اس قوم کی کھال اور ماس ادھڑ گیا لیکن ان کا پیٹ پھر بھی نہیں بھرتا۔ وہ دور جس میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ، ملکی تاریخ کے مہنگے ترین اخراجات پر صرف اور صرف اس لیئے رکھی گئی ہے کہ وہ صبح سے شام تک اپنی ہر نااہلی کو چھپانے کے لیئے پچھلی حکومتوں کو کوستے رہیں۔ وہ دور جس میں حاکم وقت جس بنیادی ضرورت کی شئے کی طرف اشارہ کردے یا محض اس کی طرف توجہ مبذول کرلے تو وہ شئے عوام کی دسترس سے دور نکل جاتی ہے۔

وہ دور جس میں ایک مردِ میدان نے بالآخر تاریخ میں پہلی دفعہ مملکت ناپرساں کے ہر طرح کے مافیاز اور تمام اداروں کو اپنے ساتھ ایک پیج پر اکٹھا بٹھا لیا ہے۔ اب کچھ ایسا سماں ہے کہ جیسے کسی سنسنی خیز ڈرامے کی آخری قسط میں اچانک ناظرین پر انکشافات در انکشافات ہونے لگتے ہیں۔ جیسے اچانک بڑی بہو کو پتہ چلے کہ آٹا چینی چوری کرنے والے خانساماں سے لے کر بجلی کے بل جمع کروانے والے ملازم اور پیٹرول کی ٹینکی بھروانے میں کھانچے لگانے والے ڈرائیور تک جتنے بھی چور اس نے پکڑے تھے ان کا ماسٹر مائنڈ گھر کا چوکیدار تھا جو انہیں واردات کا طریقہ سمجھاتا تھا اور بدلے میں اپنا شیئر وصول کرتا تھا۔ خاں صاحب نے انتہائی بہادری سے اس چلتے پتلی تماشے کے سامنے لگا پردہ ہٹا کر اصل فنکار عوام کے سامنے ننگے کردیے۔ اب مداری مجمع کے سامنے حیران پریشان کھڑے ہیں کہ کریں تو کیا کریں؟

ملک میں چلتے 72 سالہ ناکام پتلی تماشے میں آج تک یہ سادہ عوام بے جان پتلیوں کو گندے انڈے، ٹماٹر اور پتھر مارتی رہی۔ اب تاریخ میں پہلی دفعہ یہ ہوا ہے کہ انڈوں، ٹماٹروں، گالیوں، کوسنوں اور پتھروں کا رخ مداری کی جانب ہے اور اس کا مکمل سہرا خاں صاحب کے سر جاتا ہے۔ خاں صاحب نے واقعی اس قوم کو شعور دیا ہے۔ اب تو مداریوں کے لیئے تالیاں بجانے والوں کی تعداد بھی اتنی ہی رہ گئی ہے، جن کی تنخواہیں اس خفیہ فنڈ سے آتی ہیں جس کا آڈٹ نہیں ہوسکتا۔ روز خاں صاحب اور ان کی ٹیم ایک نیا چاند چڑھاتے ہیں اور روز اس نئے چاند کی مبارکباد خاں صاحب کے لانے والوں کو ملتی ہے۔ خاں صاحب اب ایک طرح سے اپنے لانے والوں کا صدقہ جاریہ بن گئے ہیں۔ اب خاں صاحب رہیں نا رہیں، لانے والے رہیں یا نا رہیں، اس کا  ”ثواب“ بہرحال ہروقت مداریوں کو ملتا رہے گا۔

مضمون کے آغاز میں جس واقعے کا ذکر کیا تھا وہ کچھ یوں ہے کہ ایک موبائل والی دکان پر ڈکیتی کے دوران ڈاکو اور مالک کے درمیان گفتگو چل رہی ہے اور دونوں خاں صاحب کو کوس رہے ہیں۔ یہی ایک سچے لیڈر کی نشانی ہے کہ وہ قوم کو متحد اور یکسو کرتا ہے۔ اب لٹنے والا اور لوٹنے والا، ناچنے والا اور نچانے والا سبھی لیڈر آف دا یونیورس اور ان کو دریافت کرنے والوں کو اٹھتے بیٹھتے کوستے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں۔ اس سے زیادہ سیاسی شعور کیا کبھی ممکن تھا؟ قدر کرو پاکستانیو! قدر کرو! تمہاری خوش نصیبی ہے کہ تمہیں ایسا ہینڈسم لیڈر ملا ہے۔ شکریہ خاں صاحب! آپ نے ہمیں شعور دیا۔ بہت بہت شکریہ