محمد ارشد چوہان

ارتغرل، سلیمان شاہ کا بیٹا تھا جو کہ قائی قبیلہ کا سردار تھا۔ ان لوگوں نے منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیئے وسط ایشیا سے ترکی کے شہر اناطولیہ میں ہجرت کی۔ ارتغرل،  عثمان اول کے والد تھے۔ عثمان اول نے خلافت ترکی (1299ء تا 1924ء)جس کو زیادہ تر خلافت عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے کی بنیاد رکھی۔ روایت ہے کہ جب ارتغرل نے ترکی کے شہر اناطولیہ میں ہجرت کی تو وہاں پر دو لشکروں ( سلاجقہ روم و مسیحیوں) کو آمنے سامنے دیکھا۔ ان میں سلاجقہ روم کا لشکر مسیحیوں کی بہ نسبت تعداد میں کم تھا۔ ارتغرل نے چھوٹے لشکر کا ساتھ دیا اور 400 شہ سواروں کے ساتھ میدان میں کود پڑے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے مخالف لشکر کو ہرانے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں سلطنت روم نے ارتغرل کو انعام کے طور پر شہر کے ساتھ ایک جاگیر عطا کی۔ ارتغرل کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عثمان اول نے خلافت عثمانیہ کی بنیاد 1299ء میں رکھی جو کہ 1924ء تک قائم رہی۔ اس دوران ایک ہی خاندان کے کل 37 افراد مسند خلافت پر بیٹھے۔ سلطنت عثمانیہ کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ یہ سلطنت تین بر اعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا علاقہ بھی اس کے کنٹرول میں تھا۔

2014 میں ترکی نے “ارتغرل غازی”  نامی ٹیلی ویژن ڈرامہ شروع کیا۔ اس ڈرامہ کے پانچ سیزن ہیں، جو 150 اقساط پر مشتمل ہیں۔ یہ ڈرامہ ترکی میں نشر ہوتے ہی تمام اسلامی دنیا میں مقبول ہونے لگا۔ اس طرح کچھ ممالک نے اس کی مقامی زبانوں میں ڈبنگ کرواکر اپنے چینلز پر نشر کیا۔ آج کل برصغیر میں بھی اس ڈرامے کی بڑی دھوم دھام ہے۔ یہ ڈرامہ 90 فی صد فکشن ہے۔ جب کہ برصغیر کے مسلمان اس کو کافی سنجیدہ لیتے ہوئے بہت سارے جنگجو کرداروں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ برصغیر کا مسلمان پہلے ہی پسماندہ ہے اور موجودہ نظام سے ٹکرلینے کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار بھی ہے۔ انٹرٹینمنٹ کی حد تک تو اسے دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر یہ جنگجو کردار مسلمانوں کے اعصاب پر حاوی ہو گئے تو یہ ان کی اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ ایک زمانہ تھا جب تلوار بازی اور جنگوں سے فتوحات حاصل کی جاتی تھیں لیکن صنعتی انقلاب کے بعد اور بالخصوص دو عالمگیر جنگوں نے اس نظریے کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ اب دنیا پر فتوحات حاصل کرنے کے لئے ماڈرن ایجوکیشن سب سے بڑا آلہ کار ہے۔ وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ جس قوم کے پاس جتنی زیادہ سائنسی ایجادات ہیں وہ دنیا پر زیادہ راج کر رہی ہے۔ خلافت عثمانیہ کی تنزلی کا سبب بھی جدید تعلیم سے انحراف تھا۔ صنعتی انقلاب سے پہلے پوری دنیا پر مسلمان حکمران تھے۔

1440ء میں جرمنی میں پرنٹنگ پریس ایجاد کیا گیا۔ سائنسی دنیا میں یہ بہت بڑا انقلاب تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کے رکھ دیا۔   وہ علم جو ماضی میں خواص تک ہی محدود رہتی تھی اس انقلاب کے بعد دنیا بھر کا علم پرنٹ ہونے لگا۔ اس طرح تعلیم عام سے عام تر ہوتی چلی گئی۔ علم کا مغرب کے عام آدمی کی دسترس میں پہنچنے کا بالآخر انجام یہ ہوا کہ لوگوں نے پڑھ کر زندگی کے ہر شعبہ جات میں روایت سے ہٹ کر حقیقت پر مشاہدہ شروع کیا اور اسی طرح نشاتہ ثانیہ کی بنیاد پڑی۔ایک طرف جہاں مغرب جو روایات کا پجاری تھا اس انقلاب کی بدولت زمین سے آسماں پر پہنچ گیا وہیں دوسری طرف مسلمان جو پوری دنیا پر حکمران تھے ایک فتوے کی وجہ سے تنزلی کی طرف بڑھنے لگے۔ دراصل ہوا کچھ یوں کہ جرمنی میں پرنٹنگ پریس انقلاب کے وقت ترکی کے شیخ نے ایک فتویٰ دیا تھا کہ اسلامی مواد کسی بھی صورت پرنٹ کروانا حرام ہے اور پرنٹ شدہ مواد کا مطالعہ کرنا بھی غیر اسلامی ہے۔ ترکی میں دوسو سال تک پرنٹگ پریس پر پابندی رہی۔ اب مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ فرسودہ روایات سے پیچھے ہٹیں، اگر آج کے دور میں دنیا میں اپنا لوہا منوانا ہے تو تلوار کے بجائے قلم کی طاقت پر یقین رکھا جائے اور یہی سرسید احمد خان کا مشن بھی تھا۔ جنونیت، جذباتی پن، اور عسکری دماغ یہ وہ عوامل ہیں جو مسلمانوں کو بالخصوص برصغیر کے مسلمان کو گھن کی طرح کھائے جا رہے ہیں کیوں کہ اگر جدید تعلیم نہ ہو تو جمہوریت اور سیکولرازم سے بھی اچھے ثمرات کا باعث نہیں بن سکتیں۔

  مضمون نگار کا تعلق  جموں و کشمیر سے ہے۔ آپ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

Previous articleسوشل میڈیا اور شخصیت پرست سیاسی کارکنان
Next articleمکالمہ: جبری شادی و مذہب تبدیلی