شیزا نذیر

انسٹا گرام پر اسکرولنگ کرتے کرتے اچانک پی۔پی۔ایس (Pakistan Primitive Survival) کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی۔ نیشنل جیوگرافک سے رضا ایرک اور ڈسکوری چینل سے چید کیل کوئی ورکشاپ  کروانے آ رہے تھے۔ میں نے پوسٹ پر دئیے گئے نمبر پر رابطہ کیا اور دو تین دن بات کرنےکے بعد ورکشاپ کے لیئے اپنی انٹری کروائی۔ یہ سروائیول ورکشاپ تھی۔ میں ایک پروجیکٹ میں مصروف تھی اور جانے سے پہلے جلد از جلد اس کو مکمل کرنا چاہتی تھی اس لیئے تحقیق نہیں کی کہ سروائیول ورکشاپ کیا ہوتی ہے۔ بلکہ اس کو ایڈونچر کا مترادف لفظ ہی سمجھا اور 30 نومبر کو سامان اٹھا کر اسلام آباد روانہ ہو گئی جہاں انتظامیہ کی کوسٹرز ہمیں مالم جبہ لے کر جانے کے لیئے کھڑی تھیں۔ میں پہلی بار ایسے لوگوں کے ساتھ محو سفر تھی جن سے پہلے سے کوئی شناسائی نہ تھی۔ بلکہ انتظامیہ سے بھی صرف فون پر ہی بات چیت ہوئی تھی۔ سفر شروع ہوا تو بالکل نہیں جانتی تھی کہ ساتھ بیٹھی شگفتہ اور پچھلی سیٹ پر بیٹھی زہرہ اور مصباح سے اتنی دوستی ہو جائے گی کہ ایسا معلوم ہونے لگا جیسے ہم چاروں کالج کی سہیلیاں ہوں اور برسوں کے بعد مل رہی ہوں اور جو باتیں تب ادھوری رہ گئی تھیں وہ اب ایک دوسرے کو بتا رہی ہوں۔

شیزا نذیر اپنی ساتھیوں کے ہمراہ

چند گھنٹوں کے بعد ہم سانپ کی طرح بل کھاتے راستے مالم جبہ کی طرف گامزن تھے۔ میں تیسری بار مالم جبہ جا رہی تھی اس لیئے مجھے اندازہ تھا کہ یہ بل کھاتی چڑھائی والا راستہ اگرچہ دلچسپ ہے لیکن ہم میدانی علاقوں میں سفر کرنے والوں کو ایسے سفر میں متلی ہونے لگتی ہے اس لیئے میں نے مالم جبہ کا سفر شروع ہونے سے پہلے جو قیام کیا وہاں کچھ نہ کھایا۔ ہوٹل پہنچ کر ہم نے مزید گرم کپڑے پہن لئے کیونکہ یہاں سردی بہت زیادہ تھی۔ سڑک کنارے برف کے ڈھیر دیکھ کر ہی ٹھنڈ کا احساس بڑھ گیا تھا۔ رات کو ڈنر کے بعد اورینٹیشن ہوئی۔ رضا ایرک اور چید کیل نے صبح کی سروائیول ورکشاپ کے بارے میں بتایا تو اسی وقت مجھے معلوم ہوا کہ لفظ  ”سروائیول“ اور ”ایڈونچر“ دو بالکل متضاد الفاظ ہیں۔ میں نے فراز (انتظامیہ) سے اپنے خدشات کا ذکر کیا تو انہوں نے تسلی دی کہ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ خیر صبح کو انسٹرکٹرز کی ہدایات کے مطابق کپڑے پہنے جو کہ سرد موسم میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور بعد میں برف پر ہائیکنگ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ کپڑوں پر زیادہ زور کیوں دیا گیا تھا۔ میں گرمی کے موسم میں مالم جبہ آئی تھی جب ہر طرف سبزا اپنی بہار دیکھا رہا تھا۔ سب سے پہلا ایڈونچر تو یہ تھا کہ ہمیں اپنے ہوٹل سے مالم جبہ پکنک پوائنٹ پر پیدل جانا تھا۔ کوئی تیس منٹ کا سفر ہو گا لیکن ہم نے شاید یہ سفر نوے منٹ میں طے کیا۔ اور وہاں پہنچ کر مالم جبہ کو برف کی چادر اوڑھے سوتے پایا۔

یہاں پر پھر سے ایک ٹریننگ سیشن ہوا اور رات کی اورینٹیشن کے مطابق ہم نے جن باتوں کو نظر انداز کیا تھا اب اس غلطی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان سب سے زیادہ قدرتی آفات جیسے کہ زلزلے، سیلاب وغیرہ سے متاثر ہونے والے ممالک میں سے ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسے ممالک میں کسی بھی ناگہانی آفت سے نپٹنے ہے لیئے ریاستی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جب کبھی ایسی آفات آتی ہیں تو ہمارے پاس سوائے فوج کی طرف دیکھنے کے کوئی اور آپشن نہیں ہوتا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ جب تک مدد نہیں پہنچ پاتی اس وقت تک سروائیو کیسے کیا جائے۔ یہ ورکشاپ برفانی و کوہستانی علاقوں میں کسی حادثے میں پھنس جانے والے لوگوں کے کے لیئے ڈیزائن کی گئی تھی۔ پہلے تو مجھے لگا کہ جیسے میں غلط جگہ پہنچ گئی ہوں لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ خیر پانچ دن کے ٹرپ میں ہر دوسرے لمحے مجھے یہی لگتا رہا۔ بے شک میں ٹریولر ہوں اور سفر کرتی رہتی ہوں لیکن شدید برفباری کے موسم میں یہ سفر مجھے جان لیوا معلوم ہو رہا تھا۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ انسٹرکٹرز کی ہدایات کے مطابق ہم نے ایک ہی موٹی گرم جیکٹ پہننے کے بجائے ہم نے لیئرز  میں کپڑے پہنے اور ایک نارمل وزن میں ہلکی جیکٹ پہنی کیونکہ جب آپ برف میں ہائیکنگ کرتے ہیں تو کوشش کریں کہ آپ کے پاس جو سامان موجود ہو چاہے آپ کے پہننے والے کپڑے، ایک تو وہ وزن میں ہلکے ہوں اور دوسرا گرم ہوں۔ ہائیکنگ کرتے ہوئے آپ کو برف میں سخت گرمی بھی محسوس ہو گی اور اگر پسینہ آئے جو کہ لازمی آ جاتا ہے تو فورا اپنی اوپری جیکٹ کو اتاریں کیونکہ برف میں ایسی صورت جب آپ کو پسینہ آئے تو یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے اگر آپ اپنے کپڑے کم نہیں کریں گے۔ لیئرز میں کپڑے پہننا اس لیئے ضروری ہے ایک ایک کر کے کپڑے اتاریں تاکہ فوراً سردی نہ لگ جائے اور جب سردی لگنے لگے تو دوبارہ پہننے میں دقت نہ ہو۔

میرے پاس اگرچہ سامان بہت کم تھا لیکن جب برف پر ہائیکنگ کرتے ہوئے گرمی لگی تو ایک ہلکی جیکٹ برداشت کرنا بھی مشکل ہو رہا تھا کیونکہ مجھے برف پر چلنے کی کوئی مشق نہیں تھی۔ میری ٹیم بہت آگے جا چکی تھی۔ ہمارے گروپ لیڈر مقامی تھے جو کہ پروفیسرز تھے اور اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ یہ ورکشاپ کرنے کے لیئے آئے ہوئے تھے۔ سر عرفان کی راہنمائی میں میں نے اصل لیڈرشپ کے معنوں کو جانا۔ ہم نے ہائیکنگ شروع کرنے سے پہلے جو حکمت عملی پلان کی اس کے مطابق سب سے پھرتیلا ممبر سب سے آگے اور سب سے مضبوط اور ماہر ممبر سب سے پیچھے جو کہ سر عرفان تھے۔ ٹیم سے میں پہلی بار مل رہی تھی اور مجھے ڈر تھا کہ میں ہائیکنگ نہیں کر پاؤں گی اور شاہد اپنی ٹیم کی ہار کا سبب میں ہی بنوں۔

برف پر پاؤں پاؤں چلتے ہم کافی اونچائی پر پہنچ گئے اور میری ٹیم بہت آگے نکل گئی بلکہ دوسری ٹیمیں جو ہمارے پیچھے تھیں ان کے ممبر بھی میرے سے آگے جا چکے تھے اور میں اب باقاعدہ ہر تیسرے قدم پر پھسلنے لگی تھی۔ ایسے میں ہماری ٹیم تو کہیں مجھے نظر نہ آئی لیکن سرعرفان میرے پیچھے ہی تھے۔ ویسے تو شگفتہ کو بھی تھوڑی مشکل پیش آ رہی تھی لڑکوں کی بہ نسبت لیکن چونکہ شگفتہ کا تعلق ہنزا سے تھا باوجود اس کے کہ کئی سالوں سے وہ کراچی میں مقیم تھی،  وہ بھی مجھ سے آگے نکل گئی اور اب میں سرعرفان کے رحم و کرم پر تھی۔ سنو ہائیکنگ جب بھی کریں تو کپڑوں کے علاوہ سن گلاسز بھی لازمی اپنے ساتھ رکھیں۔ تا حدِ نگاہ برف ہی برف دیکھنے سے آپ کو سنو بلائنڈنیس ہو سکتی ہے جو کہ چند لمحوں کے لیئے مجھے بھی محسوس ہوئی۔ میں جیسے جیسے آگے بڑھ رہی تھی تو پھسل نہیں رہی تھی بلکہ جب پھسلتی تو باقاعدہ لیٹ ہی جاتی۔ اب ہنسی آ رہی ہے لیکن تب یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ساری زندگی ایسے ہی چلتی رہوں گی اور منزل نہیں آئے گی۔ یہ سچ ہے کہ اگر سر عرفان نہ ہوتے تو میں راستے میں تھک ہار کر بیٹھ جاتی۔ سر نے مجھے بتایا کہ دیکھو ہماری ٹیم مطلوبہ جگہ پر نہیں پہنچی بلکہ تھوڑا پیچھے کھڑی ہو کر ہمارا انتظار کر رہی ہے تاکہ ہم سب ٹیم ممبرز اکٹھے مطلوبہ پوائنٹ پر پہنچیں۔ جب میں ٹیم کے پاس پہنچی تو انہوں نے تالیاں بجا کر میرا ایسے استقبال کیا جیسے میں ٹرافی جیت کر آئی ہوں۔ حالانکہ میری وجہ سے ٹیم لیٹ ہو گئی تھی۔ اس ٹیم اسپرٹ کو انٹرنیشنل انسٹرکٹرز نے بھی نوٹ کیا۔ یہاں تک تو میں ایڈونچر ہی کہوں گی مگر پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

مالم جبہ کے برف پوش پہاڑوں پر ورکشاپ کے شرکاء یوں بھاگ ڈور رہے تھے جیسے برف کی چادر اوڑھے سوئے ہوئے مالم جبہ کو ڈسٹرب کر رہے ہیں۔ چئیر لفٹ والے ایرایا (پہاڑ) کو کراس کر کے ہم دوسری جانب میں آ چکے تھے اور اب گویا ہم ایسے جیسے برف کے صحرا میں موجود ہوں۔ یہاں پر چونکہ چلنا نہیں تھا اس لیئے سردی کا احساس ہوا اور گلا بھی خشک ہونے لگا تو میں نے اپنا سامان دیکھنا شروع کیا کیونکہ ہائیکنگ کرتے ہوئے مجھے نہیں معلوم تھا کہ کس نے میری جیکٹ اٹھائی، کس نے بیگ اور کس کے پاس میرا کیمرا تھا۔ میرے ٹیم ممبرز کے پاس یہ سب چیزیں تھیں۔ آہستہ آہستہ مجھے یہ چیزیں ملتی گئیں اور ہمارا دوسرا  سروائیول ٹاسک شروع ہوا جس میں ہمیں مٹی کے برتن بنانے تھے تاکہ اگر کسی آفت میں پھنس جائیں تو کچھ پکا کر کھا سکیں کیونکہ تین دن کچھ کھائے پیئے بغیر آپ زندہ نہیں رہ سکتے۔ انسٹرکٹرز کی ہدایات کے مطابق برف کے صحرا میں سے مٹی تلاش کی گئی۔ برف کو تھوڑا کھود کر اس میں سے پانی نکالا گیا اور مٹی کو سان کر اس سے کچھ برتن بنائے گئے۔ عجیب بات تھی کہ اتنی تھکا دینے والی ہائیکنگ کرنے کے بعد میں اب بہت فریش محسوس کر رہی تھی تو جو برتن بن رہے تھے میں نے ان کو ریفائن کرنا اور تھوڑا بہت ڈیزائن بننا شروع کر دیا جو کہ گروپ والوں نے بہت پسند کیا۔ انٹرنیشنل انسٹرکٹرز کو بھی ہمارے برتنوں کی بناوٹ، صفائی اور ورائٹی پسند آئی۔ کیونکہ باقی کی ٹیموں نے ایک ایک برتن بنایا اور ان کی بناوٹ بھی زیادہ اچھی نہ تھی لہذا اس چیلنج میں ہماری ٹیم اور ایک دوسری ٹیم جیت گئی۔

بے شک مٹی کے برتن بناتے ہوئے ہم نے بہت مزہ کیا لیکن میں واپسی کے بارے میں خوف زدہ تھی کیونکہ آج رات ہمیں مالم جبہ چیئر لفٹ ائیریا میں کیمپنگ کرنی تھی، اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جو میرے لیئے ناممکن سا سفر تھا۔ لہذا انتظامیہ ہمیں سڑک سے ایک متبادل راستے سے واپس لے گئی۔ جہاں پر راستے میں جاتے جاتے اس کٹھن دن کے ڈھلتے سورج کے مناظر کی چند تصاویر لیں۔ اور جب اندھیرا بڑھ گیا تو میں لفٹ لے کر مالم جبہ کیمپنگ پوائنٹ پر پہنچی جہاں گرم چائے، فنگر چپس، پکوڑے، کیلے اور سیبوں سے سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جلد ہی میری دوست شگفتہ، زہرہ اور مصباح بھی پاؤں پاؤں چلتے پہنچ گئیں۔ اصل میں گاڑی میں لفٹ کی آفر مصباح کو ہوئی تھی لیکن اس کو میری حالت پر ترس آ گیا تو اس نے مجھے بیٹھنے کے لیئے کہہ دیا۔ میں نے آج تک اجنبیوں کو فیملی کی طرح ایک دوسرے کی فکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ڈنر کے بعد ہمارے کیمپ تیار تھے اور ہمیں سلیپنگ بیگز دے دئیے گئے اور یہ تیسرا  سروائیول چیلنج تھا۔ ہماری بری قسمت یہ کہ جو کیمپ ہمارے حصے میں آیا اس کے دروازے کی زپ خراب تھی۔ لہذا انتظامیہ نے جب ہم چاروں کیمپ کے اندر چلی گئیں تو زپ کو سوئی دھاگے سے سی دیا۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کے بعد ہم چاروں دن بھر کے قصے سنانے میں مصروف ہو گئی ہوں گی اور ہنستے ہنستے سو گئی ہوں گی، تو بالکل غلط! برف کے فرش پر ہلکا سا میٹرس اور سلیپنگ بیگز، آرام دہ ہرگز نہ تھے۔ برف چونکہ برابر نہیں تھی اس لیئے ایک تو ناہموار سطح اور وہ بھی نہایت ٹھندی، سلیپنگ بیگز اور کیمپ بری طرح سردی روکنے میں ناکام ثابت ہورہے تھے، اور ہم چاروں میں سردی اور تھکن کے مارے اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ کسی کو بتاتے کہ ”بہن جاگ رہی ہو یا سو گئی!“ کیونکہ سب تکلیف میں تھیں۔ میرے لیئے تو یہ سین جان لیوا تھا۔ اس لیئے میں نے صبح کو ہوٹل میں جانے کا فیصلہ کیا۔ ناشتے کے بعد  قاسم (سی ای او) کو میری شکل دیکھ کر ہی ترس آ گیا تو مجھے ہوٹل میں بھجوا دیا گیا اور میں اگلے دن کی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوسکی۔ ہوٹل میں کئی گھنٹے سونے کے بعد جب آنکھ کھلی تو میرے ذہن میں پہلی بات یہ آئی کہ میری ٹیم آج جیتی کہ نہیں۔

شام کے چار بج چکے تھے۔ میں کمرے سے باہر نکلی تو ہوٹل انتظامیہ ڈھلتے سورج کی تھوڑی سی دھوپ میں بیٹھے تھے۔ سارا دن سونے کے بعد اب میں بہت فریش محسوس کر رہی تھی لیکن ایک اور بات بھی تھی جس کی وجہ سے طعبیت قدرے خوشگوار ہو گئی تھی اور یہ شام کی سرد ہوا کی وجہ سے تھا۔ یہ بات میں نے بہت نوٹ کی ہے کہ ہمارے شمالی علاقوں کہ فضا نہایت صحت بخش ہوتی ہے بھلے وہ پھر سرد کی ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ ہائیکنگ کرتے کرتے تھک بھی جائیں تو جلدی ہی طعبیت بحال ہو جاتی ہے۔ میرا دل کر رہا تھا کہ مین سڑک پر جا کر برف دیکھوں لیکن مین سڑک پر جانے کے لیئے چڑھائی تھی جس کی وجہ سے میں واپس ہوٹل آ گئی۔ اتنے میں گروپ کے سارے لوگ ہوٹل پہنچ گئے۔ ورکشاپ اسکیجول کے مطابق ہمیں دو راتیں کیمپنگ کرنی ہو گی لیکن پھر ارادہ ملتوی کر کے ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جیسے ہی سب لوگ ڈنر کے لیئے پہنچے تو وہاں ناصرف میری ٹیم کے لوگ بلکہ باقی کے لوگ بھی میری طبعیت کے بارے میں پوچھنے لگے۔ ان کا پوچھنا بالکل بھی رسمی نہ تھا۔ پھر مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹیم نے آج کی ایکٹیویٹی کرتے ہوئے میرے بارے میں بار بار بات کی۔

اگلے دن ہمیں پھر سے مالم جبہ پکنک پوائنٹ پر جانا تھا۔ یہاں ایک ٹریننگ سیشن ہوا جس میں کسی نا گہانی آفت میں کیمپ لگانا اور آگ جلانا سکھایا گیا۔ آگ زندگی کی بقا کے لیئے بہت ضروری ہے۔ برف میں انسان کچھ وقت کے لیئے تو انجوائے کر سکتا ہے لیکن آگ کے بغیر سروائیوو کرنا ناممکن ہے۔ میں سوچنے لگی کہ شاید اسی لیئے لوگ آگ کو دیوتا مان کر اس کی پوجا کرتے آئے ہیں۔  جب سروائیول کی بات آتی ہے تو ہمارے ذہن میں فوراً کھانا، پانی اور کیمپ ہی آتا ہے لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ آگ کا زندگی کی بقا میں اہم کردار ہے اور اس سے ہماری گورنمنٹ تو بالکل بھی واقف نہیں۔ میں گھریلو استعمال کی گیس کی بات کر رہی ہوں۔ ہم پاکستانی کئی سالوں سے گیس کے بحران سے گزر رہے ہیں پر مجال ہے کہ کوئی بھی حکومت اس مسئلے کو حل کرے۔

آخر میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کی مختصر سی تقریب ہوئی اور جب بتایا گیا کہ ہماری ٹیم ورکشاپ ایکٹیویٹیز میں اوور آل جیت گئی تو میں اور شگفتہ اس طرح اچھل پڑے جیسے ہم نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔ اسی دوران ہلکی ہلکی برف باری بھی شروع ہو گئی اور ورکشاپ کی تقریب میں ہماری دلچسپی زیرو ہو گئی کیونکہ ہم زپ لائننگ کرنا چاہتے تھے اور برف باری کی وجہ سے تھوڑا پریشان ہو گئے کہ پتا نہیں کب تقریب ختم ہو گی کہ کہیں زپ لائن نہ رہ جائے۔ خیر تقریب ختم ہوئی تو ہم زپ لائننگ پوائنٹ پر جانے کے لیئے مالم جبہ چئیر لفٹ پر بیٹھ گئے۔ یہاں میں پہلے بھی بیٹھ چکی ہوں اور یہ پاکستان میں سب سے زیادہ  اچھی  ائیر لفٹ ہے، میرے تجربے کے مطابق۔ گرمی موسم میں تو چئیر لفٹ کے ٹاپ کا منظر نہایت دلکش بلکہ خواب دیدہ ہوتا ہے۔ ٹاپ پر دھند چھائی رہتی ہے جبکہ نیچے پکنک پوائنٹ پر دھوپ بھی ہو تو بھی ٹاپ پر آپ کو دھند ہی ملے گی۔ خیر ابھی تو سارا ایریا یعنی مالم جبہ چئیر لفٹ کی ڈھلوان برف سے ڈھکی پڑی تھی۔ جہاں پر مقامی لوگ اور ہمارے انسٹرکٹرز آئس اسکیٹنگ کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔

زپ لائن پوائنٹ تک پہنچنے کے لیئے ہمیں ٹاپ پر جا کر دوسری طرف سے نیچے آنا تھا اور نیچے آنے کے لیئے قدرے عمودی راستہ تھا۔ کہیں کہیں سیڑھیاں بھی بنی ہوئی تھیں لیکن برف کی وجہ سے سارے اسٹیپس برابر ہو چکے تھے۔ لوگوں کے آنے کی وجہ سے یہ قدرے عمودی برفیلا راستہ کافی خطرناک ہو گیا کیونکہ یہاں سے برف سخت ہو کر پھسلنے کا سبب بن رہی تھی۔ میں جس کو نرم برف میں بھی چلنے میں دشواری ہو رہی تھی اب یہاں سے کیسے جاتی۔ ٹیم والا سین تو اب ختم ہو چکا تھا۔ میری روم میٹس بھی اتنی ایکسپرٹ نہیں تھیں ایسے راستوں پر چلنے کے لیئے تو پھر میں کیسے نیچے جاتی۔ یہاں پر ہمارے ورکشاپ فیلوز نے لڑکیوں کی زپ لائن پوائنٹ تک جانے میں مدد کی اور کہیں کہیں سے ہم بیٹھ کر پھسلتے پھسلتے پہنچ ہی گئے۔ ہم تقریباً کوئی پچیس لوگ ہوں گے اور پانچ بج چکے تھے۔ عموماً پانچ بجے زپ لائن اور چئیر لفٹ بند کر دی جاتی ہے لیکن وہاں کی انتظامیہ نے چونکہ اتنے سارے لوگوں کو ٹکٹس ایشو کر دئیے تھے تو ان کو اب اسے جاری رکھنا ہی تھا۔ لیکن اس کے لیے بہت وقت درکار تھا کیونکہ جب ایک طرف سے ایک بندہ دوسری جانب پہنچ جاتا اور سٹاف کو کال آتی کہ اب اگلے بندے کو بھیجیں تو اس طرح کافی وقت لگ رہا تھا۔ ہمارے بعد میں مقامی لڑکوں کا ایک گروپ آیا تو مقامی اسٹاف نے ان کو پہلے جانے دیا اور اتنے میں چھے بجے گئے، اندھیرا ہو گیا اور زپ لائن بن کر دی گئی۔

میں مالم جبہ جاؤں اور میرے ساتھ کوئی مسئلہ نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ پہلے بھی دو بار یہیں پر  انتہائی صورتحال کا سامنا کر چکی تھی جو پھر کبھی بتاؤں گی اور اب ہمیں کہا جا رہا تھا کہ ہم واپس جائیں۔ ہم نے کوئی ایک گھنٹہ شور مچایا کہ اگر آپ کو معلوم تھا کہ پانچ بجے آپ نے زپ لائن یا چئیر لفٹ بند کرنی ہے تو پھر ہمیں ٹکٹ کیوں ایشو کیئے گئے۔ اگرچہ زپ لائن دوبارہ سے شروع کردی گئی تھی لیکن اب کی بار زپ لائن آپریٹر نے کہہ دیا کہ اب چونکہ اندھیرا ہو چکا ہے لہذٰا سب اپنی ذمے داری پر جائیں اور اس بات پر بھی ایشو بنتا تھا کہ بھئی اگر رات کے اندھیرے میں کوئی حادثہ پیش آگیا تو کیسے پتا چلے گا کہ بندہ گرا کہاں ہے تاکہ اس کو ریسکیو کیا جاسکے۔ یہ اسی وقت انتظامیہ نے ہمیں بتا دیا تھا جب وہ زپ لائن بند کر چکے تھے۔ اسی تکرار میں سات بج چکے تھے۔ اب ہمارے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ نیچے کی طرف خطرناک ڈھلوان سے جایا جائے جو کہ زیادہ لمبا راستہ نہیں تھا اور اس پر کوئی متفق نہ ہوا کیونکہ وہ راستہ ہم میدانی علاقے والوں کے لیئے واقعی خطرناک تھا۔ بحث کرنےکے بعد دوسرا آپشن یہ تھا کہ لفٹ کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے تو ہم واپس اوپر جائیں یعنی اسی قدرے عمودی راستے سے جس پر ہم بیٹھ کر سلائیڈنگ کرتے ہوئے نیچے آئے تھے اور پھر چئیر لفٹ پر بیٹھ کر نیچے کیمپ ایریا میں آئیں۔ یہ راستہ خطرناک تو نہ تھا لیکن نہایت ہی پیچیدہ۔ آپ سوچ سکتے ہیں جہاں سے ہم سلائیڈنگ کرتے ہوئے نیچے اترے تو وہاں سے اوپر کیسے چڑھ سکتے تھے۔ مقامی پٹھان بھائیوں نے کہا کہ لڑکے تو جیسے جیسے خود چڑھائی کی طرف ہائیکنگ کرتے جائیں البتہ لڑکیوں کو وہ با حفاظت پہنچائیں گے اور یوں ایک نہ بھولنے والا سفر شروع ہوا۔ چند فٹ کی چڑھائی چڑھنے کے بعد ہی میرے تو پھیپھڑوں نے جیسے جواب ہی دے دیا۔ مجھے سانس لینے میں نہایت دشواری ہونے لگی لیکن پٹھان بھائی کو بہت جلدی تھی وہ میرا ہاتھ پکڑے تیز تیز اوپر کی طرف چل رہے تھے۔ مجھے احساس ہو چکا تھا کہ یہاں سے جلد از جلد نکلنا ہو گا کیونکہ برفباری اور بارش کی صورت میں ہمیں نہایت مشکل کا سامنا ہو سکتا تھا لیکن میری ہمت جواب دے چکی تھی۔ میں نہیں جانتی کہ کیسے میں اوپر چئیر لفٹ تک پہنچ پائی بس مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک بار پھر سے میرا بیک پیک میرے پاس نہیں تھا۔ پٹھان بھائی اور خرم مجھے ایسے جیسے گھسیٹ کر اوپر لے جا رہے تھے اور پیچھے سے شگفتہ کی آواز آ رہی تھی کہ شیزا ہم جلد پہنچ جائیں گے۔ تم نے پرسوں بھی ہائکنگ کی ہے تو آج بھی کر سکتی ہو، اور مجھے لگ رہا تھا کہ بس یہاں کسی بھی لمحے میرے پھیپھڑے پھٹ جائیں گے۔

مجھے ٹھیک سے ہوش تب آیا جب میں چئیر لفٹ پر بالکل خاموشی سے بیٹھی تھی۔ تب مجھے یاد آیا کہ گرمی کے موسم میں جب میں یہاں آئی تھی تو چئیر لفٹ سے نیچے جاتے ہوئے میں ڈر رہی تھی۔ لیکن اب جو کچھ پیچھے ہو چکا تھا اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں تھا۔ رات کے اندھیرے میں، میں نے برف کی روشنی کو محسوس کیا اور مالم جبہ کے گھروں کی لائٹس کو جگمگاتے ہوئے دیکھا۔ انتظامیہ کے علاوہ شاید ہی کسی نے مالم جبہ کا رات کا یہ منظر لفٹ پر بیٹھ کر دیکھا ہو گا۔ برف کی سفیدی کے ساتھ مصنوعی روشنیوں کا یہ امتزاج شاید ہی کبھی اب دیکھنے کو ملے۔ سب سلامتی سے نیچے آ چکے تھے۔ پچھلے گزرے ہوئے دو گھنٹے حقیقی زندگی کا سروائیول تھا۔ نیچے آ کر ہمیں معلوم ہوا کہ چئیر لفٹ والے اپنے گھروں کو جا چکے تھے اور دوسری طرف کے زپ لائن والا اسٹاف بھی۔ لیکن ہماری ورکشاپ انتظامیہ نے ان کو دوبارہ ان کے گھروں سے بلایا اور اس میں دو گھنٹے لگ گئے کیونکہ ان کو بڑے افسروں سے اجازت لینی تھی کہ چئیر لفٹ کو رات کو چلایا جائے۔

آپ کو یاد رکھنا ہو گا کہ چئیر لفٹ کا دوبارہ چلنا آسان نہیں تھا۔ لہذا آپ جب کبھی مالم جبہ جائیں تو تین بجے تک ٹکٹ خرید لیں اس کے بعد ایک کوئی اوپر ہماری طرح پھنس جائے تو اس کے لیئے شاید ایسا نہ ہو۔ بلکہ یہ بات یقینی ہے کہ اس کو جیسے تیسے خود ہی آنا پڑے گا۔ لیکن اگر آپ برفباری، برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کو دیکھنا اور سنو ہائیکنگ کرنا چاہتے ہیں اور زپ لائن یا چئیر لفٹ کے لطف کو انجوائے کرنا چاہتے ہیں تو مالم جبہ اس کے لیئے بہترین مقام ہے۔ ماری تو زپ لائن رہ گئی حالانکہ میں نے کیپشن بھی سوچ لیا تھا۔ اب جب یہ بلاگ لکھ رہی ہوں تو سارا منظر کسی ہالی ووڈ فلم کا لگ رہاہے۔ یہ واقعی لائف ٹائم ایڈونچر تھا جو بہت لمبے عرصے تک مجھجے یاد رہنے والا ہے۔