ماریہ رضوی

ذرے تیرے ہوں کل کو ستاروں سے تابناک
روشن ہو کہکشاں سے کہیں کل کو تیری خاک
تندیء غاصباں پہ ہو غالب تیرا سواک
دامن وہ سل جائے جو ہے مدتوں سے چاک
اے سرزمین پاک

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہو سارے زمانے میں سربلند
اپنا علم ہو چند ستاروں سے سر بلند
پھر ہم کو دیکھتے ہوں عطارد ہو یا سماک
اے سرزمین پاک

اترے تو امتحان میں وطن میرے کامیاب
رہے نہ زلف حریت اب محوے پیچ او تاب
ہو دولت وطن سے عالم فیض یاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک
اے سرزمین پاک

اپنے وطن کا آج بدلنے لگے نظام
اپنے وطن میں اب نہ رہے گا کوئی غلام
اپنا وطن ہو راہ ترقی پہ تیز گام
ہوں عطر بیز جو ہیں ہوائیں زہرناک
اے سرزمین پاک

ذرے تیرے ہوں کل کو ستاروں سے تابناک
روشن ہو کہکشاں سے کہیں کل کو تیری خاک
اے سرزمین پاک

ترمیم و تجدید ماریہ رضوی (جگن ناتھ آزاد سے معذرت کے ساتھ)