تعلیم گاہ سے مقتل بننے تک کا سفر

عاطف توقیر

میں اس بلاگ سے قبل سوچ رہا تھا کہ حکومت سے اپیل کی جائے کہ وہ مشال خان کے قتل کی تحقیق کرے اور اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پھر سوچا کہ کون سی حکومت اور کون سا قانون؟

ہم بہ حیثیت قوم منافقت کا وہ ڈھیر بن چکے ہیں، جس سے روزانہ مشال خان کے قتل جیسے واقعات کا تغفن پھوٹتا اور ہماری سانسوں کو غلیظ بناتا رہتا ہے۔
منافقت اپنے عروج پر پہنچتی ہے، تو انسان مطمئن منافق ہو جاتا ہے اور ہم شاید اسی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ بچوں کو جنسی زیادہ کا نشانہ بنانے والا مولوی اسپیکر پر انسانیت کی اصل تکریم کا درست دیتا ہے۔ کتاب سے نابلد شخص بچوں کو تعلیم دینے کا کام سرانجام دیتا ہے۔ ٹریفک سنگل کی ہر سرخ بتی توڑنے والا، دوسرے ڈرائیوروں کے گاڑی لین میں نہ چلانے پر سراپا احتجاج ہوتا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کی ذمہ داری سب سے کرپٹ شخص کی دی جاتی ہے، مجرموں کی سرپرستی کرنے والے قانون کی وردیاں پہن لیتے ہیں، بیرونی سرحدوں کو محفوظ بنانے کا کام پر مجبور گھر کے اندر اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیتے ہیں، عدل کا ترازو تھامنے والے ایک پلڑے میں جذبات کا باٹ رکھ کر انصاف میں کھوٹ ڈال کر شادمان ہیں اور قانون کی حفاظت کرنے والے قانون کو بوٹوں سے روند کر رکھ دیتے ہیں۔ کس سے شکوہ کیا جائے؟ شکایت کس سے ہو؟

 

سارا ملک شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنایا جا چکا ہے۔ ہمارے ہاں وزیراعظم ایسے موقع پر غائب ہو جاتے ہیں اور کسی معاملے پر صدر کا بیان بھی اس وقت سامنے آتا ہے، جب ہم پچھلے بیان سے طویل وقفے کی وجہ سے صدر صاحب کا چہرہ ہی بھول چکے ہوتے ہیں۔

ہمارے وزیرداخلہ چوہدری نثار صاحب (سابق)، خود کالعدم جماعتوں کے چرن چھونے میں مصروف رہتے ہیں۔ اور ان کی ناک کے نیچے ہونے والے ایسے بھیانک اور انسانیت سوز ظلم کا ان سے گلا کرنا ویسا ہی ہے، جیسا کسی پیشہ ور ڈاکو سے واردات کی وجہ پوچھنا۔ پی ٹی آئی سے شکوہ یوں ممکن نہیں کہ یہ ان ہی کی حکومت والے صوبے میں ہوا اور یہ جماعت خود اس سے قبل اس شدت پسندی کو اپنی آشیرباد سے نواز چکی ہے۔ فوج سے شکایت یوں نہیں ہو سکتی کہ اسی کی بنائی ہوئی پالیسیوں ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ ملک کا کونا کونا لہولہان ہے اور پاکستانی سرزمین کے قانون اور دستور کی تکریم اس کے لیے کسی بھی صورت ضروری عمل نہیں ہے۔

دکھ انگیزی کی بات یہ ہے کہ اس واقعے میں مرنے والا بھی ظلم کا شکار ہے اور مارنے والا بھی ظلم ہی کا شکار ہے۔ مگر ظٓالم ایک ہی ہے۔ ریاست کی وہ پالیسیوں جو شدت پسندی کو مسلسل ہوا دے رہی ہیں اور نفرت انگیزی کی سرکوبی کے لیے عملے اقدامات کی بجائے زبانی دعوے کرتی ہیں۔

 

اس قتل کے ذمہ دار وہ جنونی ہرگز نہیں جو ایک لہولہان جسم پر لاٹھیاں اور پتھر برسا رہے ہیں اور مردہ وجود پر ٹھوکریں رسید کر کے اپنے ایمان کی تکمیل کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں اسلام کا ایک ایسا چہرہ پیش کر رہے ہیں، جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں کم کم ملتی ہے، بلکہ اس واقعے کا اصل ذمہ دار ہم سب ہیں۔ وہ تمام خاموش افراد جو صرف اس واقعے کی مذمت کریں گے اور اگلے ہی دن سب کچھ بھول جائیں گے۔ ہم سب دکھ کا اظہار کریں گے اور پھر اپنے روزمرہ میں مصروف ہو جائیں گے۔ اس واقعے کی ذمہ دار ریاست ہے، جو جنونیوں کے خوف سے ان کی جڑ کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے۔ اس واقعے کی ذمہ دار حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں ہیں، جو توہین مذہب کو بالکل اسی طرح استعمال کرتی آئی ہیں، جیسا ذاتی مقاصد اور مفاد کے لیے یہ پہلے پاکستان کے گلی کوچوں میں استعمال ہوتا رہا اور پھر ٹی وی چینلز پر بیٹھنے والے اینکرز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اس معاملے کو استعمال کرتے رہے۔

خوف کا عالم یہ ہے کہ اس واقعے کی میڈیا کوریج دیکھ کر شرم آتی ہے، جہاں اس بربریت کو اگر مگر میں ڈبو دیا گیا ہے۔ یقنین مانیے کہ اس قتل اور ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد دکھ کا اظہار کرنے والے اور اس واقعے کی مذمت کرنے والے اس سے قبل اے پی ایس پر بھی آنسو بہا چکے ہیں۔ مہران اور کامرہ بیس پر حملوں پر بھی دکھ کا اظہار کر چکے ہیں اور بازاروں، مسجد، مزاروں، گرجوں اور عبادت گاہوں میں سینکڑوں افراد کے اسی انداز سے قتل ہونے پر سوگ منا چکے ہیں۔ مگر یہ واقعہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو سامنے نہ آتی، تو دو چار سطروں والی کوئی خبر یا سوشل میڈیا پر کوئی ایک جملے کا سوگ منا کر یہ معاملہ بھی ختم ہو جاتا۔ ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں ہمارے ڈیڑھ سو بچے اسی شدت پسندی کے ہاتھوں ذبح ہو گئے، مگر ہمیں بھولنے میں چند ہی روز لگے۔ ہم وہی قوم ہیں، جو دو سانحات کے بیچ کے وقفے کو اپنا سانس درست کرنے اور پھر ایک اور زخم کھانے کی تیاری میں صرف کرتی ہے۔ مشال خان کا قتل کوئی علیحدہ واقعہ نہیں، بالکل شدت پسندی کی ترویج کرتی ہماری سوچ کا واقعہ ہے۔ اور یہ شدت پسندی معاشرے میں پوری ریاستی سرپرستی میں پیدا کی جا رہی ہے۔

جب تک عوام اس ظلم کے سامنے کھڑے ہو کر اس کا مقابلہ نہیں کرتی۔ اپنے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں اور مذہبی جنونیت کو ہوا دینے والے بیانیوں کے خاتمے کا نہیں کہتی، جب تک نفرت انگیزی کو ہوا دینے والی مساجد کا قلع قمع نہیں کرتی، جب تک فرقوں اور مسالک اور نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر دوسروں کو کافر، مرتد، غدار اور واجب القتل قرار دینے کے فتوی بازوں کو لگام نہیں دیتی۔ جب تک وہ مذہب کے نام پر قتل عام پر روک نہیں لگاتی اس وقت تک ایسے یا اس سے بھی زیادہ خوف ناک واقعات ہمارا مقدر ہیں۔
اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ ایسے قتل پر ہمارے عالم بھی قتل کی جڑ پر بات کرنے کی بجائے صرف واقعے پر جھوٹ کی پٹیاں باندھ رہے ہیں۔ ہر طرح کی شدت پسندی کو ختم کر کے ہی ہم ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

نفرت انگیزی کی تعریف یہ ہے کہ آپ کسی بھی شخص کو کسی اختلاف کی بنیاد پر سریح غلط قرار دیں اور اس سے انسان ہونے اور زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیں۔
اگر آپ کو بھی مشال خان کے قتل کا صدمہ نہیں ہوا؟ اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ یہ قتل ایک جائز عمل تھا؟ اگر آپ کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو توہین مذہب یا توہین رسالت کے الزام پر اسی طرح قتل کر دیا جانا چاہیے؟ اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ قانون کو پیروں تلے روند دینا ایک بالکل درست عمل ہے؟ اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ اس قتل کی مذمت کرنے والے بھی کافر اور غدار ہیں؟ تو سمجھ لیجیے قصور آپ کا نہیں، آپ بھی ریاست کی پالیسیوں کی وجہ سے متاثرہ افراد میں سے ایک ہیں۔

جون ایلیا نے کہا تھا کہ دنیا میں دو ہی قومیں آباد ہیں، ایک انسان اور دوسرے انسان دشمن اور دو ہی نظریات ہیں انسانیت اور انسانیت دشمنی۔ آپ اس واقعے پر اپنی رائے سامنے رکھیے اور پھراپنی قوم اور اپنے مذہب کا انتخاب خود کر لیجیے۔

3877 COMMENTS

  1. Hello, Neat post. There is an issue together with your
    website in internet explorer, would check this? IE nonetheless is the market leader and a huge element of folks
    will miss your wonderful writing due to this problem.

  2. This pencil promises an unbeatable 36 hours of wear, even in the notoriously easy-to-smudge waterline. We love the variety of neutral colors it comes in, from basic black to rich teal and plum. For anyone who literally can’t do a cat-eye for the life of them, you absolutely need this stamp eyeliner in your life. It’s really easy to use\u2014just place the stamp on the outer corner of your eye, press down firmly, use the liner to connect the wing to your lash line, and boom\u2014a perfect cat-eye. When we set out to pick one good eyeliner, eventually we realized we needed to pick three. Thanks to an uptick in certain trends like cat-eye liner and other graphic looks, “eyeliner” means so much more than a pencil. We tested products broken down into three categories: pencil eyeliners in a sharpenable or mechanical format, liquids in dip-brush or pen formats, and gel eyeliners in pot format. https://solaceandthecity.com/community/profile/broderickbarger/ Yes, this eyeliner is pricey. However, you get two eyeliners for the price of one. This liner comes with two tips — one bigger and thicker, and the other smaller and finer. Use the thicker side to line your eye in a hurry; use the thinner side to perfect the point and angle of a cat-eye. Both tips are sturdy, and the pigment flows from them as freely as drinks at happy hour (though it also dries very quickly). Once on your lid, it looks thick and expensive and not at all like a magic marker. Every liquid eyeliner review has to have at least one drawback and for this liner, it is the clean up. Like most eye makeup, especially waterproof, you will need specialized eye makeup remover to get the gunk off your lids. But, with Ultra, this is not enough. Use this makeup with caution if you have contacts or sensitive eyes. While cleaning up your makeup after a long day, instead of wiping off on the cotton ball, this liner flakes. Little flakes of dried liquid eyeliner fall into your lashes, on your facial skin, and yes, even into your eyes. I have never experienced any irritation, but it is a certain chore to be sure that all the flakes are adequately removed.

  3. Once again, we strongly recommend that players only browse our offer if they are of the legal gambling age in Australia. We also don’t offer real money roulette but offer many shortcuts to some of the best sites that do. Unscrupulous casinos exaggerate the importance of winning strategies, saying the latter can help one beat the house and win big. Sure, massive winnings do happen in Australian online casinos but mathematical probabilities are still against a player and win rates are below 100%. If you see a gambling site promoting some mighty alluring, foolproof strategies on pokies, roulette or blackjack, know it would be just a scam. Nevertheless, there are many useful tips and guides that can help you succeed in gambling by maximising the winning odds. Still you should note there is no winning strategy that you can apply to always win over the online casino. Some of the most efficient gambling tips are below: https://web-power.pl/community/profile/donetteorellana/ To play on Bitcoin casinos you, of course, need Bitcoin. In other words, the first step is to buy Bitcoin if you haven’t already. Are you a Bitcoin beginner? No problem, we will help you! A desktop computer could mine with little electricity. Ooh, I just saw Shut Up and Sit Down’s review of this. How does the solo work, though? Cloudbet is a fully-crypto focused Bitcoin casino where you can bet in Bitcoin. They have Bitcoin slots games such as Black Gold, Mega Money multiplier, Lost Vegas, Break da Bank, and more, including jackpot slots. The RTP for each Bitcoin slot game is displayed. RedDog is another tried and trusted gambling site that is highly recommended for fast payouts. There’s never any withdrawal or deposit fees, with deposit minimums as low as $10, making it great for casual players.