طیب سرور

آزادی کا دن چودہ اگست ہو یا پندہ اگست، سوال آزادی کا ہے۔ بہتر سالہ آزادی کا جشن، دونوں ملکوں کے جاگیردار ،سرمایہ دار، سامراجی گماشتوں، قابض سیاست دانوں، صحافیوں، دانشورں اور قاتل فوجی افسران کو مبارک ہو اور عوام کو بہتر سالہ بھوک پیاس، ننگ، جہالت، علاج معالجے کی عدم دستیابی، ناانصافی، دہشت گردی، ملا گردی، محرومی، محکومی مبارک ہو اور میاں انگریز کو ایک نوآبادیاتی منڈی سے دو جدید نوآبادیاتی منڈیاں بنانے پر بدھائی ہو۔

ور بلخصوص ریاست جموں کشمیر کے واسیوں کو  ریاست کے منقسم ہونے، وسائل کی بندر بانٹ، زیر قبضہ الحاقی آزادی، دو ملکوں کا جنگی اکھاڑا بننے، اپنے گھر کے بیچ ایک خط کشید ہونے اسے لائن آف کنٹرول کہلائے جانے اور اس باڈر پر دو طرفہ ہتھیاروں کے استعمال ہونے، گولہ باری سے مرنے کی مبارک باد اور پرانام۔

مگر ان بہتر سالوں میں بہت سے پاگل، احمق، جاہل، ملک دشمن، غدار، کافر بھی گزرے ہیں اور اب بھی ہیں، جنہیں اس آزادی پر، اس کے حاصلات پر یا ثمرات پہ اعتراض رہا ہے۔ وہ سوال کرتے رہے ہیں۔ بھوک پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، حاکموں پر اور سب سے بڑھ کر فوج  پر  بھی سوال کرتے رہے ہیں۔ جیسے یہ ’عاطف توقیر‘۔

پاگل ہیں یہ سب لوگ جو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ “ٹوبہ ٹیک سنگ” کہاں واقع ہے۔ احمق ہیں یہ بے ہودہ اور لغو بکنے والے منٹو کے “منگو” کی طرح۔ جاہل ہیں جو آزادی کو لکھتے ہیں۔

یہ داغ داغ اجالے یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

یہ منکر کبھی خلیفہ وقت کو یوں لکھتے ہیں

تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے ،مگر

میں نہہں مانتا میں نہیں جانتا

یہ لوگ کیسے ہمارے خیرخواہ ہو سکتے ہیں، محبت ،مساوات، امن و انصاف، علم، علاج ، صحت روزگار کی بات کرتے ہیں۔ بھلا یہ کیوں کر ممکن  ہو اور میاں تم ہی بتاو یہ معاشی آزادی کس بلا کا نام ہے۔ یاد رکھو! یہ ساحر ہیں تم ان کی باتوں میں مت آؤ۔ میری مانو تو ان سے دور رہی رہو تمہاری آزادی اور  تمہارے دین دھرم کو ان سے خطرہ ہے۔