کچھ معلوماتِ عامہ

وقاص احمد کیا آپ کو معلوم ہے کہ وزارت دفاع کے تحت ملکی دفاع کے ذمہ دار تین ادارے ہیں؟ بری فوج فضائیہ بحریہ کیا آپ کو معلوم ہے...

انقلاب کا سراب

 وقاراحمدصدیقی گزشتہ دنوں سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری صاحب کے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو نے بحرِسیاست میں ایک...

پاکستانی اور بھارتی حکمران سن لیں!

ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ ہمیں تو پچھلے 73 سال سے پڑوسی ملک پاکستان کے  حکمرانوں، بالادست طاقتوں کی جموں وکشمیر کے بارے میں پالیسی...

HOUSE DESIGN

کرونا وباء ، میڈیکل ایمرجنسی اور لاک ڈاؤن

 عابد حسین کرونا وائرس کی وباء نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔  

STAY CONNECTED

20,162FansLike
67,918FollowersFollow
29,800SubscribersSubscribe

MAKE IT MODERN

LATEST REVIEWS

برائے مہربانی۔۔۔رک جائیں

وقاص احمد علامہ نیوٹن صاحب فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے جو مقدار میں برابر اور متضاد سمت میں ہوتا ہے۔...

PERFORMANCE TRAINING

تحریکِ انصاف کا واٹس ایپ انصاف، قوم کو مبارک ہو۔ 

احسن بودلہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللّہ کے خلاف منشیات برامدگی کیس میں جب ان کے وکیل  فرہاد علی شاہ نے اپنے...

جہنم کے باسی

عاطف توقیر ڈاکٹر روتھ فاؤ بھی یورپی مسیحی نن تھیں اور ٹیریسا بھی۔ ٹیریسا بھارت چلی گئیں اور ڈاکٹر فاؤ کو بھی اصل میں ہندوستان...

پہنچے ہوئے لوگ

وقاص احمد "میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ یہ کیسے ہوا، مگر میں تبدیل ہوگیا ہوں۔۔ قریباً ایک سال پہلے، بس اچانک جیسے خدا...

ایک معصوم گزارش

عاصم سعید میری حکُومت پاکستان، صدرِ مملکت، وزیرِاعظم جناب شاہد خاقان عباسی، وزیر داخلہ اور حکُومت پاکستان کے ماتحت دیگر اداروں کے سربراہان سے گُزارش...

صحافت کی تین بنیادی قسمیں

یاور عباس صحافت میں پرنٹ میڈیا بھی آتا ہے اور الیکٹرانک میڈیا بھی۔ دیگر علوم و فنون کی طرح صحافت کی بھی تین بنیادی اور...

HOLIDAY RECIPES

کرسمس مبارک

مہناز اختر مسیحی برادری کو تہہ دل سے کرسمس، عيد ميلاد المسيح اور عيد ميلاد سعيد مبارک ہو۔ خداوندکریم آپ کی مسرّتوں کو دوبالا کرے...

WRC RACING

HEALTH & FITNESS

BUSINESS

عابدحسین

شام کو دوستوں کے ساتھ دوسرے گاؤں جانا پڑا، راستے میں رک کر سڑک سے تھوڑے فاصلے پر پہاڑ کے دامن میں کچھ دیر کے لیئے بیٹھ گئے۔ پہاڑ کی جانب سے رونے اور کراہنے جیسی آوازیں آرہی تھیں۔ قریب گئے تو دیکھا کہ ایک کتا جس کا پیر آہنی شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ زخم اور درد کی وجہ سے بچوں کی طرح رورہا تھا۔ کسی نے  آہنی شکنجے کا دام لگایا ہوا تھا جس میں اس کتے کا پیر پھنس چکا تھا۔ پنجہ زخمی تھا اور منہ سے بھی خون نکل رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ کتے نے دانتوں کی مدد سے بہت کوشش کی تھی کہ اپنے پیر کو چھڑا لے پر اس کے بس کی بات نہ تھی۔ ت تکلیف کی وجہ سے وہ انسانوں کی طرح رورہا تھا۔ خدا جانے کب سے پھنسا ہوا تھا- ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں ہمیں ہی کاٹ نہ ڈالے۔ پر اسے اس شکنجے سے چھڑانا بہت ضروری تھا۔

میں نے بوتل سے تھوڑا سا جوس اس کے منہ میں اوپر سے انڈیلا تو اس نے آوازیں نکالنا بند کردی اور منہ کے اوپر گرا ہوا جوس چاٹنے لگا۔ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ بہت پیاسا تھا- میں نے آہستہ سے آہنی شکنجے کو پکڑ کر اس کے لگے لاکس کھینچے اور آرام سے کتے کے پیر کو چھڑایا تو کتا ایک دم سے کھڑا ہو گیا اور پھر آہستہ آہستہ لنگڑاتے ہوئے تین پیروں پر چلنے لگا ۔ اس کا آگے  والا دایاں پیر لٹک رہا تھا۔ وہ کتا چند قدم چل کر رک گیا اور کئی منٹ تک ہمیں دیکھتا رہا اور پھر پہاڑی سے نیچے چلتا چلا گیا۔ اب وہ کتا خدا جانے کن حالات میں ہوگا لیکن یقین مانیے اس کتے کو تکلیف میں دیکھ کر بے حد دکھ ہوا تھا اسی وجہ سے اسے اس مصیبت سے چھڑا کر بہت زیادہ خوشی محسوس ہوئی۔ کسی انسان کی مدد کرنے اور اس کی تکلیف دور کرنے سے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے لیکن کسی چوپائے کی مدد سے بندہ ایک عجیب قسم کی کیفیت سے گزرتا ہے اور خاص طور پر تب جب وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں آپ کا شکریہ ادا کرے-

یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جانور ہو یا انسان سب سے رحم دلی سے پیش آنا چاہیے لیکن جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کیا جائے کیونکہ ان کی زندگیاں بھی اہم ہوتی ہیں، وہ بھی درد محسوس کرتے ہیں- وہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی کا رواج ختم ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ لوگ گھروں میں کتے پالتے ہیں لیکن ان کے کھانے پینے کی پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کا علاج کروانا ضروری سمجھتے ہیں- اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ یورپ اور امریکا والے جانوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں لیکن دنیا میں انسانوں پر ہونے والا ظلم ان کو نظر نہیں آتا- ایسے لوگوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی سیاست اور جنگ و جدل سے جانوروں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی جانوروں کے حقوق کے لیئے کام کرنے والے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انسانوں پر ظلم ہو۔

مغربی ممالک خاص طور پر یورپ میں جانوروں کے حقوق کے لیے باقاعدہ طور پر مہمات چلتی رہتی ہیں۔ جانوروں کے ساتھ بہت ہی پیار و محبت سے پیش آیا جاتا ہے۔ جانوروں کی صفائی ستھرائی، کھانے پینے، علاج معالجے کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ آپ میں سے کئی افراد کی نظروں سے گزرا بھی ہوگا کہ اکثر اوقات کسی کتے، بلی، بطخ وغیرہ کے لیئے ٹریفک تک کو روک دیا جاتا ہے۔ بیرونی دنیا میں جانوروں کے متعلق یہ سوچ بھی ہے کہ انسان تو اپنے لیئے آواز اٹھا سکتا ہے لیکن جانور لاچار ہوتے ہیں اس لیئے ان کی مدد ہمیں کرنی چاہیے۔ جبکہ مملکت خداداد میں تو بلی، کتے، گیڈر کے لیئے گاڑی کا بریک تک نہیں لگایا جاتا بلکہ اکثر اوقات موٹروے یا دوسری سڑکوں پر کوئی بلی یا کتا کہی کچلا ہوا دیکھنے کو ملتا ہے اور یہاں لوگ سرراہ کتے یا بلی کو دیکھ کرپتھر پھینکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جانوروں سے پیار سے پیش آنا بھی ایک نیکی ہے اور یقین جانیے کسی بے زبان کو تکلیف سے نکالنے پر بے حد سکون ملتا ہے۔-

Previous articleمغرب کا فلسفۂ حب الوطنی کا تقابلی جائزہ
Next articleصدقے کے کالے بکرے