آپ پاکستان کا امیج خراب کر رہے ہیں (وی لاگ)

1734
عاطف توقیر ہماری ستر سالہ بدقسمتی یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص ریاستی بیانیے پر سوال اٹھائے اور لوگوں کو خواب خفلت سے بیدار...

آگ نہیں، آگہی! تخریب نہیں، تخلیق!

0
 واصل شاہد سینٹوریس مال میں آگ لگی۔ لوگوں کا نقصان ہوا۔ اس نقصان میں میرے کچھ فن پارے بھی شامل تھے۔  یہ سانحہ، انسانی غلطی اور لاپرواہی کا...

HOUSE DESIGN

بیرونی امداد اور پاکستان

3612
سنگرخان، سوات عزت نفس کسی شخص کی محفوظ نہیں اب تو اپنے ہی نگہبانوں سے ڈر لگتا ہے وطن عزیز پاکستان کے حکم ران ہاتھ میں کشکول...

STAY CONNECTED

22,952FansLike
70,856FollowersFollow
29,800SubscribersSubscribe

MAKE IT MODERN

LATEST REVIEWS

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں!

0
 وقاص احمد سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں دو تصاویر گردش کرتی رہیں جس پر یار لوگوں نے ہماری "کامیاب خارجہ پالیسی" کا خوب توا لگایا۔...

PERFORMANCE TRAINING

کراچی کی سیاست اور مصنوعی انجینیئرنگ

2140
مہناز اختر، کراچی مہاجر لفظ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جس نے "ہجر" یعنی جدائی سہی ہو یا عزیز و اقارب، دوست احباب و...

فوجی آپریشنز اور پولیس مقابلے

4323
مہناز اختر جاوید قریشی، بارسلونا   جب ریاست کسی مسلح تشدد پسند گروہ یا تحریک کو سیاسی اور قانونی طور پر کچلنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو...

افغان سہ فریقی مذاکرات، کس کی جیت کس کی ہار؟

92
 عابدحسین دوحہ قطر میں افغان سہ فریقی مذاکرات جاری ہیں۔ جس میں افغان امن عمل، امریکی اور اتحادی افواج کا انخلاء اور طالبان کو اقتدار...

’نقیب‘ حیران ہے، میڈیا کہاں گیا؟

856
حمزہ سلیم ظلم کے نظام کی بھینٹ چڑھنے والے نقیب اللہ محسودکی روح یقیناﹰ حیران ہو گی کہ ابھی کچھ وقت قبل ہی تو اسلام...

مولانا کی سیاست، آزادی مارچ اور جمہوریت

87
 عابد حسین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی نگرانی میں جمیعت علماء اسلام اور اپوزیشن جماعتوں کا حکمران جماعت کے خلاف پچھلے...

HOLIDAY RECIPES

پاکستانی چُوھڑی اور انڈیا کی چکنی چمیلی

78
شیزا نذیر مختلف ممالک میں’’ گاٹ ٹیلنٹ‘‘ کے نام سے ریئلٹی شوز پچھلے کئی سالوں سے بہت مقبول ہو رہے ہیں۔ میں اکثر مخلتف ممالک...

WRC RACING

HEALTH & FITNESS

BUSINESS

عابدحسین

شام کو دوستوں کے ساتھ دوسرے گاؤں جانا پڑا، راستے میں رک کر سڑک سے تھوڑے فاصلے پر پہاڑ کے دامن میں کچھ دیر کے لیئے بیٹھ گئے۔ پہاڑ کی جانب سے رونے اور کراہنے جیسی آوازیں آرہی تھیں۔ قریب گئے تو دیکھا کہ ایک کتا جس کا پیر آہنی شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ زخم اور درد کی وجہ سے بچوں کی طرح رورہا تھا۔ کسی نے  آہنی شکنجے کا دام لگایا ہوا تھا جس میں اس کتے کا پیر پھنس چکا تھا۔ پنجہ زخمی تھا اور منہ سے بھی خون نکل رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ کتے نے دانتوں کی مدد سے بہت کوشش کی تھی کہ اپنے پیر کو چھڑا لے پر اس کے بس کی بات نہ تھی۔ ت تکلیف کی وجہ سے وہ انسانوں کی طرح رورہا تھا۔ خدا جانے کب سے پھنسا ہوا تھا- ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں ہمیں ہی کاٹ نہ ڈالے۔ پر اسے اس شکنجے سے چھڑانا بہت ضروری تھا۔

میں نے بوتل سے تھوڑا سا جوس اس کے منہ میں اوپر سے انڈیلا تو اس نے آوازیں نکالنا بند کردی اور منہ کے اوپر گرا ہوا جوس چاٹنے لگا۔ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ بہت پیاسا تھا- میں نے آہستہ سے آہنی شکنجے کو پکڑ کر اس کے لگے لاکس کھینچے اور آرام سے کتے کے پیر کو چھڑایا تو کتا ایک دم سے کھڑا ہو گیا اور پھر آہستہ آہستہ لنگڑاتے ہوئے تین پیروں پر چلنے لگا ۔ اس کا آگے  والا دایاں پیر لٹک رہا تھا۔ وہ کتا چند قدم چل کر رک گیا اور کئی منٹ تک ہمیں دیکھتا رہا اور پھر پہاڑی سے نیچے چلتا چلا گیا۔ اب وہ کتا خدا جانے کن حالات میں ہوگا لیکن یقین مانیے اس کتے کو تکلیف میں دیکھ کر بے حد دکھ ہوا تھا اسی وجہ سے اسے اس مصیبت سے چھڑا کر بہت زیادہ خوشی محسوس ہوئی۔ کسی انسان کی مدد کرنے اور اس کی تکلیف دور کرنے سے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے لیکن کسی چوپائے کی مدد سے بندہ ایک عجیب قسم کی کیفیت سے گزرتا ہے اور خاص طور پر تب جب وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں آپ کا شکریہ ادا کرے-

یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جانور ہو یا انسان سب سے رحم دلی سے پیش آنا چاہیے لیکن جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کیا جائے کیونکہ ان کی زندگیاں بھی اہم ہوتی ہیں، وہ بھی درد محسوس کرتے ہیں- وہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی کا رواج ختم ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ لوگ گھروں میں کتے پالتے ہیں لیکن ان کے کھانے پینے کی پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کا علاج کروانا ضروری سمجھتے ہیں- اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ یورپ اور امریکا والے جانوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں لیکن دنیا میں انسانوں پر ہونے والا ظلم ان کو نظر نہیں آتا- ایسے لوگوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی سیاست اور جنگ و جدل سے جانوروں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی جانوروں کے حقوق کے لیئے کام کرنے والے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انسانوں پر ظلم ہو۔

مغربی ممالک خاص طور پر یورپ میں جانوروں کے حقوق کے لیے باقاعدہ طور پر مہمات چلتی رہتی ہیں۔ جانوروں کے ساتھ بہت ہی پیار و محبت سے پیش آیا جاتا ہے۔ جانوروں کی صفائی ستھرائی، کھانے پینے، علاج معالجے کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ آپ میں سے کئی افراد کی نظروں سے گزرا بھی ہوگا کہ اکثر اوقات کسی کتے، بلی، بطخ وغیرہ کے لیئے ٹریفک تک کو روک دیا جاتا ہے۔ بیرونی دنیا میں جانوروں کے متعلق یہ سوچ بھی ہے کہ انسان تو اپنے لیئے آواز اٹھا سکتا ہے لیکن جانور لاچار ہوتے ہیں اس لیئے ان کی مدد ہمیں کرنی چاہیے۔ جبکہ مملکت خداداد میں تو بلی، کتے، گیڈر کے لیئے گاڑی کا بریک تک نہیں لگایا جاتا بلکہ اکثر اوقات موٹروے یا دوسری سڑکوں پر کوئی بلی یا کتا کہی کچلا ہوا دیکھنے کو ملتا ہے اور یہاں لوگ سرراہ کتے یا بلی کو دیکھ کرپتھر پھینکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جانوروں سے پیار سے پیش آنا بھی ایک نیکی ہے اور یقین جانیے کسی بے زبان کو تکلیف سے نکالنے پر بے حد سکون ملتا ہے۔-