عاطف توقیر

زیادہ عرصہ نہیں بیتا، گزشتہ برس قریب یہی دن تھے، جب خادم رضوی اپنے جتھے کے ساتھ وزیرقانون زاہد حامدکے استعفے کے مطالبے کے ساتھ فیض آباد میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ایسے میں پی ٹی آئی اور عمران خان نون لیگ حکومت کی سیاسی مخالفت میں تمام تر حدیں پھاند کر رضوی کے شانے تھپتھپا رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے تمام رہنما اس دوران یہ ثابت کرنے میں مصروف تھے کہ ن لیگ حکومت کافروں کا کوئی گروہ ہے اور اس کے خلاف یہ دھرنا نہایت جائز ہے۔

اس دھرنے کا اختتام پاکستان کی تاریخ کے ایک بھیانک ترین واقعے کی صورت میں ہوا، جب ریاست نے ان توڑ پھوڑ کرتے اور نفرت انگیزی کے نعرے لگاتے لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی بجائے ان کے ساتھ معاہدہ کیا اور ان کی تمام تر شرائط تسلیم کر لی گئیں۔ اس معاہدے میں فوج نے ایک طرح سے ’ضامن‘ کا کردار ادا کیا اور بعد میں ایک جنرل اس ہجوم میں پیسے تقسیم کرتے بھی نظر آئے۔ ایسے میں نون لیگ کی حکومت نے بھی کوئی باقاعدہ موقف اختیار کرنے کی بجائے اپنے روایتی مدافعانہ انداز کو اپنایا اور ملک کے مستقبل کی بجائے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے پر توجہ دی۔

ایسے میں کوئی عام سی نظر رکھنے والا شخص بھی یہ سمجھ سکتا تھا کہ اس رویے اور ریاست کی اس کم زور کا نتیجہ کتنا بھیانک نکل سکتا ہے یا آج اگر یہ اس دھرنے کے شرکاء کے سامنے گھٹنے ٹیک کر یہ دھرنا ختم کرا بھی دیا گیا تو بھی یہ معاملہ حقیقی معنوں میں ٹھنڈا نہیں ہو گا بلکہ اس مشتعل جتھے کو یہ شہہ ملے گی کہ وہ جب چاہے پاکستان کو مفلوج کر کے رکھ دے۔

توہین رسالت کے قانون پر متبادل نظر

یہ ویڈیو ہر شخص شئیر کرے۔ایک برس قبل متبادل کے اس پروگرام میں نہایت تفصیلی کوشش کی گئی تھی کہ اس موضوع کو علمی انداز سے سمجھا جائے۔ اس پر مولوی خادم رضوی سے گفت گو کی کوشش بھی کی گئی، مگر اس پروگرام میں ان کا رویہ خود ہی دیکھ لیجیے۔ یہ پروگرام ضرور دیکھیے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیے۔ شاید اس موضوع پر اتنی تفصیل سے گفت گو کبھی نہ ہوئی ہو۔

Posted by Atif Tauqeer on Thursday, 1 November 2018

جب ہم اس وقت یہ بات چیخ چیخ کر کر رہے تھے، ہمارے بہت سے دوست ہم سے یہ کہتے ملتے تھے کہ آپ کو امن سے یہ دھرنا ختم کر دیے جانے پر تکلیف ہے۔ یہ کوتاہ نگاہ نہیں تو کیا ہے؟ یہ دور اندیشی کا فقدان نہیں تو اسے کیا نام دیا جائے؟ اور اس کوتاہ نگاہی میں فقط عوام نہیں بالکل عوام کو ہانکنے والے سیاسی رہنما اور جرنیل سب برابر ملوث تھے۔

کل ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں تحریک لبیک کے ایک رہنما خادم حسین رضوی کے ساتھ بیٹھ کر علی العلان فرما رہے تھے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ کرنے والے تینوں ججوں کو قتل کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محافظ یا ڈرائیور انہیں قتل کر دیں اور ’غازی علم دین‘ یا ’ممتاز قادری‘ بن جائیں۔ اسی خطاب میں انہوں نے جنرل باجوہ کو ’قادیانی‘ قرار دیتے ہوئے فوجیوں سے کہا کہ وہ بغاوت کر دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس بیان میں جس انداز کی سخت ترین زبان استعمال کی گئی، پاکستان کی تاریخ میں شاید کسی دوسری سیاسی جماعت نے نہ کی ہو۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ہر جانب پہنچی حتیٰ کے وٹس ایپ گروپس میں بھی گردش کرتی رہی۔ اس معاملے کو شاید میڈیا نے دبا دیا ہو یا شاید اس ملک کے حکم ران یا عام افراد اسے زیادہ سنجیدہ نہ لیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بے انتہا خطرناک بیان ہے۔

اس معاملے میں کچھ باتیں سمجھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ دنیا کا کوئی مسلمان ایسا نہیں ہو گا جو رسول اللہ (ص) کی شانِ اقدس یا ختمِ نبوت پر کوئی سوال کرتا ہو۔ اسلامی تعلیمات تو یہ ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آ بھی جائے، تو اگر اس کا کوئی دوسرا مطلب نکل سکتا ہو، تو وہ نکالا جائے کہ شانِ احمد مجتبیٰ متاثر نہ ہو۔ فقہ پھر یہ بھی کہتی ہے کہ اگر کوئی اور مطلب نہ نکلے اور واحد مطلب فقط توہین ہو تو ایسی صورت میں اس شخص کے پاس جائیں اور اس سے دریافت کریں کہ کہیں اس کا کوئی اور مطلب تو نہیں تھا۔ تمام ایماء متفق ہیں کہ اگر وہ شخص یہ کہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا، تو اس معاملے کو یکسر بھلا دیا جائے اور اسے ہوا نہ دی جائے۔

آسیہ بی بی اگر واضح الفاظ سے کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے شانِ پیمبری میں کوئی ناروا بات نہ کی، تو اسلامی طریقہ یہی تھا کہ اس موضوع کو ختم کر دیا جاتا۔ یعنی اگر کوئی شخص یہ کہہ رہا ہو کہ وہ پیمبر ختم الرسل کی شان اطہر کو افضل سمجھتا ہے، تو اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے؟ اس پر ہمارا علمی یا اسلامی رویہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم خدائے عزوجل کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے اور کھلے دل کے ساتھ اس معاملے کو ختم کر دیتے کہ ہمارے پیمبر کی شان میں کوئی گستاخی ہوئی ہی نہیں۔ ہمارے ہاں مگر معاملہ یہ ہوا کہ ایک شخص بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ میں توہین رسالت کا مرتکب نہیں، میں حضور اکرم (ص) کی شان میں گستاخی میں ملوث نہیں اور ہم مسلمان بہ ضد ہیں کہ جی نہیں آپ ہیں۔

اس معاملے پر ایک رائے یہ ہے کہ اگر ایسا نہیں تھا، تو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے آسیہ بی بی کے خلاف فیصلہ کیوں دیا؟ جواب یہ ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی شدت پسندی اس حد تک ہے کہ ایسے کسی معاملے میں کوئی جج انصاف کے اصولوں یا اصل اسلامی تعلیمات کی بجائے مولویوں کے خوف سے میزانِ عدل کو آلودہ کر دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے قبل خادم رضوی کی جانب سے جس انداز کے دعوے کیے گئے اور انصاف پر جس انداز سے اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی، وہ خود بہت واضح ہے۔ اسی طرح سلمان تاثیر کی جانب سے فقط پاکستان میں رائج اس قانون کے عمل داری کے حصے یعنی اصولی نہیں بلکہ پروسیجرل حصے پر سوال اٹھانے کا نتیجہ انہیں کے محافظ کے ہاتھوں ان کے قتل کی صورت میں برآمد ہوا۔ خوف کے اس ماحول میں انصاف کیسے ہو سکتا ہے؟

مگر تمام باتیں ایک طرف رکھتے ہوئے اس معاملے کو انتہائی سنجیدہ لیتے ہوئے، کم از کم اس موضوع پر پوری قوم کو حکومت، اداروں اور عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل بہتری کے لیے اس قانون کے پروسیجرل حصے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بے گناہ افراد کی جانیں یا زندگیاں تباہ نہ ہوں۔ اس کے لیے پرچہ کاٹنے سے لے کر گواہوں کے بیانات کے درمیان ہم آہنگی تک سب کو مکمل طور پر نئے انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ عدم شواہد پر کسی مجرم کا بچ نکلنا، کسی معصوم کو سزا دینے سے بہتر ہے۔ میرے خیال میں یہی اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ پیمبرِ رحمت کے نام پر کسی بے گناہ کو دی جانے والی سزا سے بڑی گستاخی کوئی نہیں ہو سکتی۔

47 COMMENTS

Comments are closed.