سید حاجب حسن جعفری

نہ دشمن سے، نہ علالت سے مارے جائیں گے

ہم وہ لوگ ہیں جو اپنی نادانی سے مارے جائیں گے 

موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہر سمت ایک جان لیوا بیماری نے زور پکڑا ہوا ہے اور ہر طرف موت رقص کرتی نظر آرہی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مرض امیر، غریب، مذہبی، غیر مذہبی کسی میں فرق نہیں کر رہا۔ اس سے بچنے کے لئے حکومت کی جانب سے سائنسی اور مذہبی روشنی میں احتیاطی تدابیر کو متعارف کروایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ان اقدامات کی حمایت بھی کی گئی۔ جب بازار، دانش گاہ، جامعات اور مختلف درسگاہوں سمیت مساجد اور عبادت گاہوں پر بھی پابندی لگائی گئی تو چند مذہبی لیڈرز اور عوام کی جانب سے مساجد پر پابندی کے اقدام کے حوالے سے سخت تنقید کی گئی۔ تنقید آیا درست تھی یا غلط اسکا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا لیکن بعض طبقات کی جانب سے ان احکامات کو رد کردیا گیا اور جمعہ کے روز کراچی کے کئی علاقوں میں مساجد میں با جماعت نماز ادا کی گئی جس کے بعد عوام اور پولیس میں تصادم کے مناظر بھی سامنے آئے، امام مسجد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی اور کئی نمازیوں کو جیل جانا پڑا۔ عوام نے سوشل میڈیا کے ذریعے سندھ پولیس پر غبار نکالا۔ وہ بھی اپنی جگہ درست تھے چونکہ ایک مذہبی معاشرہ ہونے کی حیثیت سے مساجد اور عبادت کو لیکر عوام کے خاص احساسات جڑے ہیں لیکن یہاں مذہبی طبقوں کو چاہیے خواہ وہ کسی بھی مسلک سے ہوں، سنی ہوں یا شیعہ ہوں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ صورتحال پریشان کن ہے اور ایسے میں کسی بھی قسم کااجتماع اس بیماری کے پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔

خیر اس بات کو سمجھا نہیں گیا اورمتعدد علاقوں میں عبادات کا سلسلہ جاری رہا۔ رمضان المبارک کی آمد ہوئی اور پابندی کے باوجود ایک طرف خاموشی کے ساتھ تروایح کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا تو دوسری جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کا دن قریب آیا اور اس حوالے سے شیعہ برادری جلوس برآمد کرنے کی اجازت لینے میں کامیاب ہوگئی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے جلوس برآمد کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔مگر سوال یہ ہے کہ حکومت نے جب مساجد اور کسی بھی قسم کے مذہبی اجتماع پر پابندی لگائی، تو جلوس برآمد کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ یہاں موقع کی نزاکت کو سمجھنا ضروری تھا کیونکہ اس فیصلے سے مذہبی نفرت اور فرقہ واریت کے جنم لینے کا خدشہ تھا۔ بعدازاں جس کا ڈر تھا وہی ہوا کہ کراچی میں بڑی تعداد میں جلوس برآمد ہوئے، جس کی چند ویڈیو کلپس بنائی گئیں جو سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنے لگیں۔ ویڈیوز میں باقائدہ دیکھا گیا کہ بعض مقامات پر ایس او پیز کی پابندی نہیں کی گئی اور سماجی فاصلے کو بھی برقرار نہیں رکھا گیا۔ جس کے بعد تنقید کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حکومت کے فیصلے اور جلوس برآمد کرنے پرچند سنی بھائیوں کی جانب سے شیعہ برادری پر سخت تنقید کی گئی اور نفرت کی ایک نئی لہر ابھرتی نظر آئی۔

یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ جب مساجد میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھے بغیر تروایح ادا کی جارہی تھی توکیا شیعہ بھائیوں کی جانب سے ویڈیوز بنا کر نفرت پھیلائی گئی؟ جواب ہے نہیں اور اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ مساجد پر پابندی پر شیعہ مسلک کی جانب سے اس فیصلے کی حمایت نہیں کی گئی۔ خیر صحیح کون، غلط کون، تحریر کا اصل موضوع یہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے؟ کیوں نفرتوں کو ابھارا جارہا ہے جب پابندیوں کے باوجود دونوں مسالک کی جانب سے عبادتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس صورتحال میں سنی بھائیوں کو چاہیے کہ نفرت پھیلانے والے چند افراد کو سمجھایا جائے اور شیعہ بھائیوں کو بھی چاہیے کہ بغض علی کے فتوی لگانے سے گریز کریں۔اب اس صورتحال میں جہاں سب کے اندر کا مسلمان اور عقیدت ابھر ابھر کر باہر آرہی ہے تو ذرا اسلامی پہلو سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے اوراگر مستند احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ وباء  کے دور میں قرنطینہ، سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔ جو احکامات ہمیں آج سائنسی پہلو سے سمجھائے جارہے ہیں، یہ تمام احکامات سرکار دو عالم صلی الله عليه وسلم کی جانب سے طب نبوی میں چودہ سو سال پہلے بیان کیئے جاچکے ہیں۔ بس تمام مسالک کے علماء کرام کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے. عوام کو بھی یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وباء کے دور میں کسی بھی قسم کا مجمع یا اجتماع چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی، اس وباء کے پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ فی الحال یہ وباء ختم ہونے والی نہیں جب تک اللہ کی مرضی سے کوئی عبداللہ ویکسین تیار نہ کرلے تب تک احتیاط اور یکجہتی کا مظاہرہ انتہائی اہم ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ مذہبی طبقوں کے احساسات اور جذبات کو سمجھے اور غلط فیصلے نہ کریں اور عوام کو بھی چاہیے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کی پابندی کریں اور اس پریشان کن صورتحال کا ادراک کریں۔ یہ وقت ایک دوسرے پر تنقید کا نہیں، اس وقت احتیاط اور یکجہتی کی ضرورت ہے ورنہ ہمیں نہ دشمن مارے گا، نہ بھوک اور نہ ہی علالت، معذرت! لیکن ہمیں مار دے گی ہماری جہالت۔

Previous articleسچ قبول کرنے کی جسارت
Next articleشمالی وزیرستان عیدک میں فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے نوجوان کا بیان، اسی کی زبانی