وقاص احمد

”میاں صاحب کیا آپ بتائیں گے کہ کارگل واقعے کا اصل مجرم کون ہے؟

جی میں کیا بتاؤں، ساری قوم کو پتا ہے۔ آپ بتائیں کون تھے وہ لوگ جو اپنے وزیراعظم کو دھوکے میں رکھ کر یہ حرکتیں کر رہے تھے، آپ بولیے ؟

خواجہ صاحب!  کیا آپ یہ بتائیں گے کہ الیکشن میں دھاندلی کون کرتا ہے؟

جی جی بالکل،  بچے بچے کو پتہ ہے کہ دھاندلی کرنے کی صلاحیت کون رکھتا ہے اور کس نے دھاندلی کی تھی۔

رانا صاحب! آپ بتائیں کہ یہ محمکہ زراعت والے کون ہیں؟

وہ جی محکمہ زراعت والے وہی ہیں جنہوں نے پاکستان کی زرخیز زمینوں میں کانٹے بو دیۓ ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں، آپ کو بھی پتہ ہے اور مجھے بھی پتہ ہے۔

بھٹو صاحب آپ بتائیں گے کہ 71 میں کیا واقعہ ہوا تھا؟

جی اب تو یہ سب باتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ وہ کون لوگ تھے جن کی وجہ سے ملک ٹوٹا۔ آپ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں۔

ربانی صاحب آپ بتائیے! آپ کی ناک کے نیچے سینٹ کا پورا الیکشن چوری ہوگیا، کس نے کیا چوری؟

ہاں جی! یہ وہی ہیں جو ہر الیکشن چوری کرلیتے ہیں۔ جو نظر بھی نہیں آتے مگر ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ کو بھی پتا ہے مجھے بھی پتا ہے کہ وہ کون ہیں“

یہ تھی ہماری ڈرپوک، سہمی سہمی، مصلحتوں کی شکار، روایتوں کی اسیر، اگر مگر لیکن ورنہ میں گھری، رواداری کی ماری، برداشت کی خوگر اور آنکھوں میں شرم و لحاظ رکھنے والی “ناکام سیاسی قیادت”۔

پھر ایک دن، ایک دن ایک شیر جوان اٹھا، اپنی اسپورٹس کار نکالی،  ہونٹوں سے چوم کر اور آنکھوں سے لگا کر ایک شاپر کو ساتھ والی سیٹ پر انتہائی عقیدت و احترام سے رکھا اور ایک نجی ٹی وی اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا۔ کس کو معلوم تھا کہ وقت کا یہ شیر دل آج کیا کارہائے عظیم سر انجام دینے جا رہا ہے۔ راستے میں ایک بیوٹی پالر پر رک کر اس نے اپنا میک اپ کروایا کہ ٹی وی پروگرام کے فوراً بعد وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی شاباش وصول کرنے جانا تھا اور وہاں وہ “نا مراد” سوکن بھی ممکنہ طور پر موجود ہوسکتی تھی جس سے زیادہ خوبصورت نظر آنا انتہائی ضروری تھا تاکہ سیاں جی کی نظر کہیں اور نا بھٹکے۔خیر گاڑی ٹی وی اسٹیشن پہنچی، ساتھ والی سیٹ سے وہ شاپر دوبارہ اسی احترام سے اٹھایا گیا جس طریقے سے رکھا گیا تھا۔ صاحب کو اسٹوڈیو پہنچایا گیا۔ اسٹوڈیو میں “جنرل ازم” کا ایک مایہ ناز کھلاڑی اور دو منمناتے ہوئے معذرت خواہ شکلیں سجائے اپوزیشن جماعت کے اراکین بھی بیٹھے تھے۔ پھر دوران پروگرام چشم فلک نے وہ نظارہ دیکھا جو پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کبھی نا دیکھا گیا۔ جو “راز کی بات”  کرتے بھٹووں سے لیکر شریفوں، زرداری سے لیکر چوہدریوں، پشتینوں سے لیکر بلوچوں، خواجوں سے لیکر کائروں اور رانوں سے لیکر سیدوں کے حلق خشک ہوجاتے تھے، اس شیر جوان نے اپنے لائے ہوئے شاپر کو کھولا، اس راز کو باہر نکالا، چوما، آنکھوں سے لگایا اور میز پر رکھ کر بولا یہ ہے وہ “بوٹ” جس کے ذکر کے خوف سے ان کی گھگھیاں بندھ جاتی ہیں۔ لیجئیے آج آپ کا یہ شکوہ بھی دور کیا کہ “ان کا” ذکر کوئی نہیں کرتا۔ لو کر دیا ذکر، یہ رہا ہمارا مربی، ہمارا آقا ہمارا پیارا بوٹ۔

 سامعین، حاضرین، ناظرین، متاثرین، ناقدین سبھی کو سانس سونگھ گیا۔ میں نے بھی جب یہ سین دیکھا تو مجھے ایک فلم کا منظر یاد آیا جس میں ایک جرائم پیشہ عورت نے محلے والوں کی اپنے بارے میں کھسر پھسر سے تنگ آکر ایک دفعہ چھت پر کھڑے ہوکر یہ مشہور ڈائیلاگ بولا تھا “دلی، دلی، دلی۔۔۔ہاں میں دلی ہوں۔ کسی کو کچھ اکھاڑنا ہے تو اکھاڑ لے۔ ” 

 اس بے باکی پر ہر طرف ہاہاکار مچ گئی۔ “جنرل ازم” کے کھلاڑی کے حیرت سے ڈھیلے باہر آگئے، اپوزیشن اراکین خوف کے مارے لائیو پروگرام سے لائیو ہی فرار ہوگئے۔  بوٹ کا رعب و دبدبہ اتنا تھا کہ پروڈیوسر کو سمجھ نہیں آئی کہ پروگرام چلتے رہنے میں فلاح ہے یا سینسر کرنے میں نجات۔ اسی چکر میں وہ بوٹ میز پر مسلسل پڑا رہا۔ پروگرام کی ریٹنگ چھت پھاڑ کر باہر نکل گئی۔ بوٹ والوں نے ایک دفعہ پھر اپنا سر پیٹ لیا۔ سیاسی برادری کی کچھ مائیوں نے دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں، کچھ مائیاں زیرِلب ایسے مسکرائیں جیسے طعنہ دے رہی ہوں، پیمرا نے اپنا پیمپر سنبھالتے ہوئے ڈیمج کنٹرول کے واسطے پروگرام کے اینکر پر پابندی لگا دی۔ اینکر پر پابندی سے ڈیمج کنٹرول ہونے کی بجائے اور بڑھ گیا تو پابندی ہٹانی پڑی۔ کل کی تاریخ تک پیمرا کی کنفیوژن کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے آفر کی کہ ہم اپنے آپ پر پابندی لگا لیتے ہیں بس معاملہ رفع دفع کر دیں لیکن جو تاریخ رقم ہونا تھی وہ رقم ہوچکی۔ وہ بات جو ووٹ کو عزت دو کے جلسوں سے لیکر زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے عرصے تک زیر لب بھی شاعرانہ استعاروں میں کی جاتی تھی وہ بات میرے ہینڈسم لیڈر کے ایک شیر دل کھلاڑی نے لائیو پروگرام میں ایسے بیان کر دی جیسے سہاگ رات سے اگلی صبح کوئی دلہن ناشتہ کی ٹیبل پر اپنے ساس، سسر، ماں، باپ اور بہن بھائیوں کے بیچ میں بیٹھ کر اپنی سہاگ رات کی تفصیلات بیان کر دے اور پھر ہر کوئی اپنا منہ چھپاتا پھر رہا ہو۔

سو باتوں کی ایک بات کہہ دوں، جس کے واسطے یہ کالم لکھا ہے۔ اب آپ چاہے پروگرام پر پابندی لگا دو، چاہے اینکر پر پابندی لگا دو، چاہے پورا چینل چھوڑ دو، پورا پرائیویٹ میڈیا بند کروا دو، فیصل واوڈا کو پھانسی لگا دو، اپوزیشن کے رہنماؤں کو چھت سے الٹا لٹکا دو، ہینڈسم وزیراعظم کے ہیئرامپلانٹ کا راز فاش کردو، حریم شاہ کو صدر پاکستان لگا دو، مفتی قوی کا نیا سکینڈل بنا دو، طارق جمیل صاحب کو مریخ پر تبلیغی مشن پر بھیج دو یا عثمان بزدار کی انٹرن شپ ختم کر دو!  یہ بوٹ اسی میز پر پڑا رہے گا جہاں فیصل واوڈا نے رکھا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے خیال میں وہ بوٹ وہاں سے اٹھا لیا گیا ہے لیکن اصل میں وہ بوٹ اسی میز پر پڑا ہے اور یہ پڑا رہے گا۔ اس راز کو کبھی تو میز کے نیچے سے میز کے اوپر آنا ہی تھا۔ ذرا بھونڈے انداز میں آگیا تو کیا ہوا؟ جب آپ جرنلزم کی بجائے “جنرل ازم” کو فروغ دیں گے، جب آپ اصلی سیاسی قیادت کی بجائے کٹھ پتلیوں کو فروغ دیں گے، جب انصاف کی جگہ انتقام کو فروغ دیا جائے گا، جب ادارہ جاتی مفادات ملک کے مفادات پر حاوی ہوجائیں گے، جب آپ بات کرنے تو کیا سانس لینے پر بھی پابندیاں لگائیں گے تو پھر کوئی نا کوئی فیصل واوڈا یوں ”بوٹ“ کو عزت دینے نکل پڑے گا۔