وقاص احمد

موقع نمبر 1 

ایک ٹی وی ٹاک شو

مہمان: سیاست دان اور ”ممتاز“  دفاعی مع سیاسی تجزیہ نگار۔

موضوع: جمہوری عدم تسلسل، مارشل لاء اور اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی کردار۔

سیاست دان: بار بار کی فوجی آمریتوں نے ملک میں جمہوریت کا تو بیڑہ غرق کیا ہی لیکن ساتھ ملک کو جو سماجی، ادارہ جاتی، معاشی اور معاشرتی مسائل دئیے ہیں ان سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار: دیکھیں جی! یہ غلط بات ہے، آپ فوج کو بحیثیت ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں ٹہرا سکتے۔ یہ انفرادی شخصی فیصلے ہیں۔ آپ کہیں کہ مشرف نے ملک کو برباد کیا تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ جنرل مشرف نے ملک کو تباہ و برباد کیا۔ ان دونوں باتوں میں فرق رکھیں۔ جب آپ فوج کا نام لیتے ہیں تو سرحدوں پر قربانیاں دینے والے فوجی جوانوں کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے۔ آپ ان ذمہ داران کے نام لیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ان کی غلطیاں تسلیم کرتے ہیں۔

میزبان + سیاست دان: جی ہمارا مطلب بھی اشخاص ہی تھے، ادارہ نہیں، لیکن آپ کی بات سے اتفاق ہے آئندہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ذمہ داران کا تعین کرکے نام لیئے جائیں تاکہ ادارے پر حرف نہ آئے۔

موقع نمبر 2

دوسرا ٹی وی ٹاک شو

مہمان: سیاست دان اور ”ممتاز“ دفاعی مع سیاسی تجزیہ نگار

موضوع: جمہوری عدم تسلسل، مارشل لاء اور اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی کردار

سیاست دان: جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید نے 2018 کے الیکشن سے پہلے ان الیکشنز کو سبوتاژ کرنے، سیاسی مقدمات گھڑنے، عدلیہ اور نیب پر اثر انداز ہونے اور کٹھ پتلی حکومت بنانے میں جو کردار ادا کیا ہے اس نے پاکستان کو برباد کرکے رکھ دیا۔ آج ملک کی معیشت، کاروبار، مہنگائی کے مسائل کے ذمہ داران یہی دو جنرل صاحبان ہیں۔ ان کو سیاست میں دخل اندازی کرنے کی اجازت کس آئین نے دی ہے؟

دفاعی تجزیہ نگار: آپ اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔ آپ ملک دشمن ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ آپ کو سرحدوں پر قربانیاں دیتے جوان نظر نہیں آتے بلکہ صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔ پاکستان کی آرمی کو بدنام کرنا کس کے مفاد میں ہے؟

سیاست دان: جناب میں نے جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض کا نام لیا ہے۔ آرمی بحیثیت ادارہ، کا ذکر نہیں کیا۔ آپ مفت میں پوری فوج کو بیچ میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔ ہمیں بھی سرحدوں پر پہرا دیتے فوجیوں کی خدمات کا اعتراف ہے مگر دو سیاسی جرنیلوں سے ان کا کیا تقابل؟

دفاعی تجزیہ نگار: آرمی چیف پر الزام لگانا پوری فوج پر الزام لگانا ہے

سیاست دان:- ابھی دو سال پہلے آپ نے اسی شو میں خود مشورہ دیا تھا کہ ہم مشرف کا نام لیں، اسٹیبلشمنٹ یا فوج کا لفظ استعمال نہ کریں۔ کیا مشرف آرمی چیف نہیں تھا؟ آپ نے خود کہا کہ ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے نام لیں تاکہ فوجوں  کی بدنامی نہ ہو۔ ہم نے وہی کیا۔

دفاعی تجزیہ نگار: کہاں!  وہ دو سال پہلے کی بات تھی۔ آپ نے جنرل قمر باجوہ پر اعتراض کرنا ہے تو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیجییے گا۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

سیاست دان ہنستے ہوئے: تاکہ بعد میں آپ یہ کہہ سکیں کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تب آپ کہاں تھے؟ اس وقت کیوں نا بولے؟ اس وقت آپ اپنے این آر او کی خاطر چپ رہے اور پاکستان کو نقصان پہنچنے دیا۔ مطلب آپ کسی حالت میں بھی راضی نہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار: کندھے اچکاتے ہوئے، وہ آپ کا سر درد ہے میرا نہیں۔

Previous articleذہنِ فارغ کارخانہِ شیطان
Next articleپاکستانی سیاست اور غداری کے سرٹیفیکیٹس