وقاص احمد

فوج کی دخل اندازیاں
عشروں سے ملک میں ایک بیانیہ رائج ہے کہ فوج سولین معاملات میں دخل اندازی اس لیے کرتی ہے کہ سویلین

1۔ مالی اور اخلاقی طور پر کرپٹ ہیں

2۔ غدار اور سکیورٹی رسک ہیں

3۔ نااہل ہیں

4۔ کوتاہ نظر ہیں

5۔ اخلاقی طور پر قانون نافذ کروانے کا اختیار نہیں رکھتے

6۔ پرچی سے دیکھ کر پڑھتے ہیں اور دنیا کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔

آج 2019 کے جولائی کے مہینہ میں موجودہ حکومت بنے ایک سال ہوجائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس حکومت کا سربراہ کرپٹ نہیں ہے، اخلاقی طور پر ولی اور درویش، مہاتیر کے برابر کا ویثزن ہے، محب الوطنوں کا سردار ہے، اخلاقی برتری کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہے، 200 عالی دماغ ماہرین کا سرپنچ ہے، پرچی سے دیکھ کر نہیں پڑھتا، فر فر انگریزی بولتا ہے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیرونی سربراہان کی ڈرائیوری کرتا ہے اور اوپر سے بونس یہ کہ ہینڈسم بھی ہے لیکن۔۔۔

اس حکومت کی وزارت داخلہ سے لیکر وزارت خارجہ تک، وزارت خزانہ سے لے کر وزارت دفاع تک، سٹیٹ بنک سے لیکر بیوروکریسی کی ٹاپ پوزیشنز تک ہر معاملہ فوج کے ہاتھ میں ہے اور ہر پوسٹنگ ان کی مرضی سے ہورہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا خاں صاحب بھی کرپٹ، نااہل، غدار اور سکیورٹی رسک ہیں یا پھر وہ دخل اندازی کے جواز کا بیانیہ ہی ہمیشہ سے غلط تھا؟ ذرا سوچیے

جیب کترے کے ساتھی

آپ نے کبھی جیب کتروں کے ساتھیوں کے بارے میں سنا ہے؟ یہ جیب کترے کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، بالفرض اگر کوئی جیب کترا واردات ڈالتا پکڑا جائے تو وقوعہ پر فوراً پہنچ کر اس کو اچھل اچھل کر  چپیڑیں کروانا اور گالیاں دینے کا کام انہی کا ہوتا ہے۔ جب یہ مجمع میں لیڈر بن جاتے ہیں تو پھر آواز لگاتے ہیں کہ چلو اس کو تھانے لیکر چلتے ہیں اور ظاہر ہے یہیں سے جیب کترے کے ساتھی اسے مجمع سے بحفاظت نکال لے جاتے ہیں۔

2013 سے2018 تک خاں صاحب کی پبلسٹی مہم میں پیش پیش صحافی مثلاً حسن نثار، ہارون رشید، ایاز میر، آفتاب اقبال، کاشف عباسی، ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر مغیز، کامران شاہد، حمید بھٹی، ارشاد بھٹی، صابر شاکر، سمیع ابراہیم وغیرہ (جن کے نام رہ گئے ان سے معذرت) بھی جیب کترے کے ساتھی ہیں۔ نیازی حکومت بنتے ہی یہ لوگ “اپوزیشن کی موثر آواز” بن کر تعریف و تنقید دونوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی تگ و دو میں لگ گئے۔ آپ ان کے پروگرام اٹھا کر دیکھ لیں، حسن نثار کے کوسنوں کا لیول ارشاد بھٹی جتنا رہ گیا ہے۔ یہ چھوٹی بڑی باتوں پر اونچے اونچے بین ڈالتے ہیں۔ معصوم یوتھیے پریشان ہیں اور معصوم پٹواری خوش کہ انہیں ہوا کیا ہے۔ لیکن میں آپ سے عرض کر دوں، جس دن نیازی حکومت کو کوئی سنجیدہ خطرہ ہوا یہ اپنی پرانی ڈیوٹی پر واپس آجائیں گے۔

یہ جیب کترے کے ساتھ ہیں جو حکومت کی وارداتوں پر اسے بھرے مجمع میں چپیڑیں کروانے اور گالیاں دینے کا کام صرف اسی لیے کر رہے ہیں کہ جیب کترے کو بحفاظت مجمع سے نکال لیا جائے۔ ابھی مستقبل قریب میں آپ پر ان کے رول واضع ہوجائیں گے۔ کیونکہ ان کا تعلق ہمیشہ صرف ایک پارٹی سے رہا ہے۔۔۔ اور نہیں، وہ پارٹی تحریک انصاف نہیں ہے۔

قطری خط

میرا ایک سرکاری ملازم دوست آج کل ایف بی آر کے نوٹس اور نیب کی پکڑ دھکڑ کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔ پریشانی کی وجہ دادا سے وراثت میں ملنے والا ایک زرعی رقبہ ہے۔ دادا نے انیس سو پچاس سے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر یہ رقبہ قسطوں پر خریدا، طے یہ ہوا کہ قسطیں دونوں آدھی آدھی بھریں گے اور بیچنے پر منافع بھی آدھا آدھا۔ دونوں کے خاندانی تعلقات اتنے مضبوط تھے کہ زمین کی ملکیت دوست کے نام تھی۔

قسطیں مکمل ہوئیں، بیچنے کی کوئی فوری ضرورت درپیش نہیں تھی اس لیے بیچنے کا خیال بھی نہیں آیا۔ اسی اثناء میں دادا کے دوست فوت ہوگئے، ان کے گھر والوں نے دادا کو کہا کہ آپ اپنے حصے کی زمین اپنے نام کروا لیں اور دادا نے وہ مہنگی زمین اپنے پوتے مطلب میرے دوست کے نام کروا دی اور کچھ عرصہ بعد دوست کے دادا اور والد یکے بعد دیگرے فوت ہوگئے۔ یہیں سے اس پریشانی کا آغاز ہوا۔ نیب نے اسے “آمدن سے زائد اثاثوں” کا نوٹس تھما دیا۔ دوست نے انہیں بتایا کہ یہ میری وراثتی زمین ہے جو مجھے دادا سے ملی۔ نیب کہتی ہے کہ ثابت کرو کہ یہ تمہاری وراثتی زمین ہے تو دوست اپنے دادا کے پرانے رجسٹر دکھا دیتا ہے جس میں ایک سادی تحریر میں بس اتنا سا درج ہے کہ فلاں جگہ فلاں زمین میں میرا 50٪ حصہ ہے۔ نیب نہیں مانتا۔ دوست نے اپنے دادا کے دوست سے بھی سٹامپ پیپر پر لکھوا کر دے دیا کہ یہ زمین ہمارے بزرگوں کے معاہدے کے تحت دوست کے نام کی گئی ہے مگر نیب اس سٹامپ پیپر کو بھی قطری خط کہہ کر مذاق اڑاتا ہے۔ اگر کوئی پڑھنے والا اس معاملے میں کوئی قانونی رہنمائی فراہم کرسکتا ہے تو مہربانی فرمایے۔

Previous articleپانچ جولائی کو ضیاالحق کا خطاب
Next articleغدار صحافی