وقاص احمد

خبر ہے کہ پچھلے مالی سال جولائی 2018 سے جون 2019 کے اعداد وشمار میں حکومتِ کذاب نے حسبِ روایت جھوٹ بولتے ہوئے 1.9 فیصد جی ڈی پی کو بڑھا چڑھا کر 3 فیصد بتایا۔ لیکن ہمیں معلوم ہے کہ وہ اس جھوٹ پر شرمندہ نہیں ہوں گے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان کے مائی باپ بھی اس عبرت ناک شرمندگی پر اپنی انگلیاں دانتوں تلے چبا رہے ہوں گے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قوم یوتھ اپنے آقا کی اس فرمان کے مطابق بے فکر رہے گی جس میں انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے اس وقت تک جب تک آپ کو غسل والے پھٹے پر نا ڈال لیا جائے۔

بس جو بات عام پاکستانی کی سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ ہے کہ؛ پی آئی اے کے جہازوں سے لیکر سپارکو کے موسمیاتی سیارچوں تک، ریلوے سے لیکر واپڈا اور سٹیل مل تک، محکمانہ سیکریٹریوں سے لے کر اعلٰی ترین پولیس عہدوں تک، سی پیک اتھارٹی سے لیکر حکومتی ہاؤسنگ سکیم تک، پلاننگ کمشن سے لیکر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ تک، داخلہ امور سے لیکر خارجہ امور تک، افغان مذاکرات سے لیکر کشمیر ایشو تک، نیب سے لیکر ایف آئی اے تک ،اینٹی نارکوٹکس سے لیکر انٹی سمگلنگ تک، وزارت اطلاعات سے لیکر جاسوسی کے اداروں تک، غرض ہر ادارے، ہر محکمے، ہر کونے، ہر کھدرے، ہر نکڑ، ہر گلی، ہر کوچے، ہر چپے اور ہر موڑ پر ایک آدھ دو ستارہ یا تین ستارہ جرنیل اختیار و اقتدار کی کرسی پر چمک رہا ہے۔

آپ کو چاہے ٹی وی سکرین پر شہریار آفریدی اور شبلی فراز جیسے مسکین اپنی جان خدا کو دینے کے دعوے کرتے نظر آئیں مگر ان کے متعلقہ محکموں کا اختیار “مائی گارڈ” کے نامزدہ وائسرائے حضرات کے ہاتھ میں ہی ہے۔ “مائی گارڈ” کو اپنے کٹھ پتلی وزیراعظم کی صلاحیتوں پر اس حد تک یقین ہے کہ انہوں نے ہر محکمے کا اختیار اس سے چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، سوائے ایک محکمے کے۔

وہ محکمہ جو پاکستان کا سب سے اہم ترین محمکہ ہے۔ وہ محکمہ جو اصل میں اس ملک کو بنانے یا بگاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ محکمہ جو پاکستان کا دماغ ہے۔ وہ محکمہ جو پاکستان کے مستقبل کا امین ہے۔

وہ محکمہ جس میں پاکستان کی جان ہے، وہ محکمہ جو بے انتہا پریشر، محدود وسائل اور ناممکن حالات میں ممکنات ڈھونڈتا ہے۔ ان جملہ بوٹ پالشیوں سے ایڈوانس معذرت جو میرے ان تعارفی کلمات کے بعد پالش کی ڈبیاں اور برش نکال کر بیٹھ گئے ہیں، میں محکمہ دفاع کا ذکر نہیں کر رہا۔ میں محکمہ خزانہ کا ذکر کر رہا ہوں۔

آپ کو یہ جان کر شدید حیرانی ہوگی کہ ہماری باکمال فوج جس کے پاس مبینہ طور پر پاکستان کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے، جس کے بی اے پاس 17 گریڈ افسر اس زعم کے ساتھ پاس آؤٹ ہوتے ہیں کہ اکیڈمی میں دو سال ڈنڈ بیٹھکیں لگا، 5-10 کلومیٹر کی دوڑیں لگا اور ہتھیار چلانے کی پریکٹس کرکے ان کی ایسی تربیت ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان کے ہر محکمے کو چلا سکتے ہیں۔ مگر ان نابغہ روزگار لوگوں میں پچھلے 70-72 سال میں ایک بھی، جی ایک بھی ایسا بندہ پیدا نہیں ہوا جو وزارت خزانہ سنبھال سکے۔

آپ تصور میں لائیں کہ اس ملک کی آدھی زندگی فوج نے حکومت کی ہے، بقیہ آدھی زندگی انہوں نے کسی کو حکومت کرنے نہیں دی۔ اس دوران ملک کے ساتھ درجنوں تجربے کئے گئے مگر یہ لوگ اپنی صفوں سے صرف ایک، صرف ایک شخص بھی ایسا نہیں نکال سکے جو وزارت خزانہ میں انڈر سیکرٹری کے کلرک کا کام بھی سنبھال سکے۔ وجہ کیا ہے اس کی؟

وجہ اس کی یہ ہے کہ اخبار میں یہ شہہ سرخی لگوا دینا بہت آسان کام ہے کہ “آرمی چیف نے معیشت کے حالات پر وزیراعظم کو فوج کی تشویش سے آگاہ کیا”۔ لیکن اگر اسی معزز شخص کو ایک بجٹ تو کیا، ملک کے سینکڑوں شعبہ جات میں سے صرف ایک شعبے کی بیلنس شیٹ بنانی پڑ جائے تو عالی جناب اسی رات سر کے بال نوچتے سڑکوں پر نکل جائیں گے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ باقی ہر محکمے میں اوپر بیٹھ کر صرف ایڈمنسٹریٹر کا کام کرنے سے کام گھسیٹا جاسکتا ہے لیکن وزارت خزانہ میں ٹاپ پوزیشن پر بیٹھے بندے کا ویژن، اسکا تجربہ، اسکی معاشی فکر و فلسفہ اور اس کی بزنس سینس ہی نیچے پورے محکمے کا پہیہ چلاتی ہے۔ جو کہ ظاہر ہے مائی گارڈ کے پاس نہیں ہے اور نا ہی ہوسکتی ہے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ پاکستان کے ہر محکمہ کا بڑے سے بڑا بلنڈر بھی محدود نقصانات کے ساتھ قابلِ برداشت ہوسکتا ہے، چاہے اس بلنڈر کی نوعیت ایبٹ آباد آپریشن جیسی نازک ہی کیوں نا ہو، لیکن وزارت خزانہ کا ایک بلنڈر اس ملک کو دنوں ہفتوں مہینوں میں تباہ و برباد کر کے رکھ سکتا ہے۔ ابھی حال ہی میں آپ نے 5.8٪ والی جی ڈی پی کو ایک سال سے کم عرصہ میں 1.9٪ پر گرتے دیکھا ہے۔

وجہ اسکی یہ ہے باقی ہر محکمے کا سربراہ اپنے ماتحتوں پر نااہلی اور کرپشن کا الزام لگا کر بری الزمہ ہوسکتا ہے مگر وزارت خزانہ کی ناکامی اسکے سربراہ کا سر لیے بغیر نہیں چھوڑتی۔

وجہ اسکی یہ ہے باقی ہر محمکے میں مسلز اور بندوق کی طاقت دکھا کر کام چلایا جاسکتا ہے جبکہ وزارت خزانہ مکمل طور پر دماغ کا کام ہے جو کہ ان کے پاس ہوتا نہیں۔

وجہ اسکی یہ ہے اس ملک کے مستقبل کی ذمہ داری ایک اسی محکمے کی کارکردگی پر منحصر ہے اور مائی باپ کسی ایسے کام کو ہاتھ تک نہیں لگاتے جس میں ذمہ داری قبول کرنے کا شائبہ بھی ہو۔ مائی باپ سے تو آپ ان کے اصل کام کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کروا سکتے مثلاً آج بھی ان کا پروپیگنڈا یہی ہے کہ 65 کی جنگ بھٹو تاشقند میں ہارا تھا، 71 میں پاکستان بھٹو کی وجہ سے ٹوٹا تھا، کارگل میں شکست نوازشریف نے کروائی تھی اور ایبٹ آباد آپریشن زرداری اور حسین حقانی نے کروایا تھا۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ دوسرے محکمہ جات کی کارکردگی سے شاید عوام کو براہِ راست کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن محکمہ خزانہ کی کارکردگی تو ماہانہ بنیادوں پر اس محکمے کے سربراہ کی قابلیت کا پول کھول دیتی ہے اور چونکہ انہیں معلوم ہے کہ معیشت چلانا ان کے بس کا روگ نہیں اس لیے اپنی جگہ پر منہ کالا کروانے کے لیے یہ باہر سے بندے بھرتی کرتے ہیں۔

اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ بندوقوں کی نالیاں کے سائے تلے یہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں تو سینہ تان کر داخل ہوتے ہیں، مگر جب وزارت خزانہ چلانے کی باری آتی ہے تو معین قریشیوں، شوکت عزیزوں اور حفیظ شیخوں کے سی وی اکٹھے کرتے پھرتے ہیں۔ سمجھ بوجھ کا عالم یہ ہے کہ حفیظ شیخ جیسا سکہ بند نااہل شخص جو مشرف کے دور سے لیکر زرداری کے دور تک اپنی نالائقی کے جھنڈے چہار سو گاڑ چکا ہے وہ ڈاکٹرائن سرکار کو ہیڈکوارٹرز میں دو چار پریزنٹیشنیں دیکر ایک بار پھر قائل کر لیتا ہے کہ “اسحاق ڈیزاسٹر” کی پالیسیاں “تباہ کن” ہیں، آپ قبضے کے بعد مجھے نوکری پر رکھیں پھر دیکھئے گا کہ کیسی ڈالروں کی برسات کرتا ہوں۔ سوچیں زرا، یہ وہ لوگ ہیں جن کو طاقتور ترین عہدوں پر لامحدود ناقابلِ احتساب اختیارات کے ساتھ نوکریاں کرتے 35-40 سال ہوچکے ہوتے ہیں اور ان کی فیصلہ سازی کا عالم یہ ہے کہ آئی ایم ایف یا ورلڈ بنک کا کوئی ملازم اپنا بریف کیس اٹھائے اسلام آباد لینڈ کرتا ہے، ایک دھانسو قسم کی پریزنٹیشن میں رنگ برنگے گرافِکس سے مزین اعدادوشمار پیش کرتا ہے۔ بیک گراؤنڈ میں برستے ڈالروں کی جھنکار فضا کو مذید خوابناک بنا دیتی ہے اور ڈاکٹرائن سرکار اس پریزنٹیشن کے بنیاد پر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ “موجودہ معیشت کی حالت بری نہیں تو اچھی بھی نہیں” (اس لیے انقلاب لانچ کیا جائے تاکہ معیشت سدھاری جاسکے). تین ستاروں والوں کی میٹنگ میں نیا ڈاکٹرائن پیش کیا جاتا ہے اور اس سے آگے کیا کیا ہوتا ہے، یہ تفصیل آپ کو بخوبی معلوم ہے۔ ایمانداری کی بات ہے یار، مجھ جیسے نالائق بندے کو بھی کوئی ایک پریزنٹیشن دیکر ہزار روپے کی چیز نہیں بیچ سکتا اور یہ لوگ ایک دو پریزنٹیشنز کے پیچھے ملک کا مستقبل بیچ ڈالتے ہیں۔ 

مدعا اس مضمون کا یہ تھا کہ میں تو ٹھہرا ڈرپوک اور مسکین بندہ، آپ میں سے جو سوال اٹھانے کی ہمت رکھتے ہیں وہ ڈاکٹرائن والوں سے اتنا پوچھ لیں کہ سر جی معیشت کے نام پر آپ نے ملک میں اتنا بڑا کھلواڑ کھیلا، اب اس معیشت کو خود آگے بڑھ کر کیوں نہیں سنبھال لیتے۔ جب ہر محکمہ کا انتظام فوجی چلا سکتا ہے تو وزارت خزانہ کا کیوں نہیں۔ مان لیا کہ اسحاق ڈار ڈیزاسٹر تھا تو اب آپ مسیحا بن کر دیکھائیں ناں۔

مان لیا کہ وہ قرض لیکر ملک چلاتا تھا تو آپ قرض کے بغیر چلا کر دکھائیں ناں۔

مان لیا کہ وہ چونکہ خود چور تھا اس لیے سوئس بنکوں سے پاکستان کے اربوں ڈالر واپس نہیں لاتا تھا تو آپ آگے بڑھیں اور لے آئیں ناں۔

مان لیا کہ وہ 3850 ارب کی ٹیکس کولیکشن میں سے “صرف” 1150 ارب آپ کو دیتا تھا تو آپ آگے بڑھیے اور اپنا بجٹ بڑھا کر دکھائیں ناں، آخر ملک کی “سلامتی” کا سوال ہے۔

مگر لکھ لیجئے، یہ اس طرف نہیں آئیں گے۔ آ بھی نہیں سکتے کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں وزارت خزانہ کامیابی سے چلانے کا کام اور اپنی پالیسیوں کے مثبت و منفی کی ذمہ داری قبول کرنے کی بہادری اسحاق ڈار جیسے شہہ دماغ “ڈیزاسٹر” ہی کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹرائن والے نا تو ایسا دماغ رکھتے ہیں نا ہی ایسا دل گردہ۔ لکھ لیجئے کہ چاہے یہ حاضر سروس جرنیل کو وزیراعظم اور صدر بھی کیوں ناں بنا دیں، مگر یہ اسے وزیر خزانہ کبھی نہیں بنائیں گے۔ آئیے ناں جناب! سنبھالیں اس معاشی گند کو جو آپ نے پھیلایا ہے۔ حضور والا! ایک جرنیل ادھر بھی۔