وقاص احمد

 

 

سر باجوہ! 

اللہ تعالیٰ آپ کی چہرے کی یہ تازہ مسکان سلامت رکھے جو آئی ایم ایف کی نئی قسط ملنے کی امید میں بڑی عرصے بعد نظر آئی ہے۔ عرصہ ہی ہوگیا تھا کہ آپ کے چہرے پر مایوسی بھری سنجیدگی دیکھ کر دل کٹ سا جاتا تھا۔ یہ قابلِ فہم بھی ہے کہ آپ کے ”ہائیبرڈ تجربے“ کی کھڑکی توڑ ناکامی کے بعد آپ کی حالت اس خاتون خانہ جیسی ہونا لازمی امر تھا جس کی پکی پکائی بریانی کا پتیلا دم کے دوران جل کر کوئلہ ہوگیا ہو۔

 یہ تحریر خالصتاً آپ کی تالیف قلب کے لیے لکھی جارہی ہے کہ اندیشہ تھا کہیں آپ اپنے ایک تجربے کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ ہو کر اپنے جواں سال افسران کو یہ تاکید نا کردیں کہ دوبارہ وطن عزیز میں تجربے کرنا منع ہے۔ ہمارے بابائے قوم نے تو پون صدی پہلے ہی ہمیں بتایا تھا کہ پاکستان کے قیام کا واحد مقصد ایک تجربہ گاہ کا حصول تھا اور ماشاءاللہ سے آپ کے ادارے نے قائد کے بقیہ فرمودات کو چھوڑ کر اس ایک فرمان کو اپنی اور اپنے ادارے کی زندگیوں کا نصب العین بنا لیا ہے۔ مذید برآں یہ کہ آج تک آپ کے ادارے کے محب الوطن اور عشق قائد میں سرشار چیف صاحبان نے کبھی اپنے پچھلے چیف کے تجربے کی ناکامی کو نا دل پر لیا نا دماغ پر۔ ظاہر ہے کہ تجربہ کامیاب ہو یا ناکام، اس سے سبق سیکھنے کا تردد تو وہ کرے جس نے کوئی منطقی نتیجہ اخذ کرنا ہو۔ اب عشق میں منطق کہاں؟ جب قائد اعظم نے فرما دیا کہ پاکستان ایک تجربہ گاہ ہے تو عاشقین کو تجربے کی کامیابی اور ناکامی سے کیا غرض؟ تجربہ تو صرف کامیابی کی امید پر کیا جاتا ہے سو اس میں صرف بندے کی نیت دیکھنی چاہیے اور الحمدللہ آپ سبھی کی نیت تو شک و شبے سے بالا ہے چاہے آپ کی امیدیں کتنی ہی غیر منطقی کیوں نا ہوں۔

اب ایوب خان صاحب کی مثال ہی لے لیں۔ بڑے صاحب نے آپریشن جبرالٹر اس ”امید“ پر کیا تھا کہ بھارت کھلے محاذ پر جنگ نہیں چھیڑے گا۔ کتنی احمقانہ امید ہے لیکن نیت تو خالص ہی تھی ناں؟ جنگ کا آغاز ہم نے دلی فتح کرنے کے لیے کیا تھا اور 17 دن کی لاحاصل جنگ کے بعد ہم لاہور بچا لینے کی خوشی میں شادیانے پچھلے 56 سالوں سے بجا رہے ہیں۔

یحییٰ خان ہی کو لے لیں۔ حضور والا نے بنگالیوں کی نسلیں بدل دینے کے نعرے کے ساتھ فوجی آپریشن کے تجربے کا آغاز اس امید پر کیا تھا کہ یہ ڈھاکہ میں کلینک کھول کر بیٹھ جائیں گے اور بنگالی چپ چاپ اس کلینک میں اپائنٹمنٹ لے کر اپنی نسل تبدیلی کا آپریشن کروانے کے لیے خود حاضر ہوجائیں گے۔ مذید برآں امید در امید کہ اگر بھارت نے مشرقی پاکستان میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو ہم مغربی محاذ کھول کر یہاں حساب چکتا کرلیں گے۔ اب اس بچگانہ حد تک احمقانہ تجربے کے نتیجے میں آدھا ملک ٹوٹ گیا تو کیا ہوا؟ یحییٰ خان کی نیت تو صاف تھی ناں؟ اخلاقی کرپٹ صحیح لیکن مالی طور پر تو دیانت دار تھا ناں؟ جبھی تو پرچم میں لپیٹ کر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔

ضیاء الحق کو ہی لے لیں۔ امیر المومنین نے سوچا کہ کیوں ناں افغانستان میں اسٹریٹیجک ڈیپتھ ڈھونڈنے کا تجربہ کیا جائے۔ اس تجربے کے لیے پہلے ”ٹیلی بان“ نامی مخلوق کا تجربہ کیا جانا ضروری تھا لہٰذا اپنے ہی ملک میں ان کی تجرباتی نرسریاں دھڑا دھڑ لگائیں۔ پچھلے 40 سال سے اس ”ٹیلی بانک“ تجربے اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں قتل و غارت، مذہبی انتہا پسندی، ہیروئین و کلاشنکوف کلچر سمیت عالمی سطح پر تنہا ہوجانے کو ہم پاکستانی خندہ پیشانی سے برداشت کر ہی رہے ہیں ناں کیونکہ تجربہ چاہے کتنا ہی بھیانک کیوں ناں تھا لیکن امیر المومنین کی نیت پر تو شک نہیں کیا جاسکتا۔

اپنے مشی بھائی کو لے لیں۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ موصوف تو ملک کے چیف ایگزیکٹو بننے سے پہلے ہی اتنے کوڑھ مغز تھے کہ کارگل آپریشن کا تجربہ اس امید پر کیا تھا کہ بھارت نا صرف ان چوٹیوں پر اپنی پوسٹوں پر قبضہ ٹھنڈے پیٹوں پی جائے گا بلکہ ہم دنیا کو یہ بھی باور کروا لیں گے کہ پاکستان کا تو اس معاملے سے لینا دینا کوئی نہیں، یہ تو مجاہدین نے قبضہ کیا ہے۔ اب ذرا سوچیں! اس سے زیادہ گدھا پن ممکن ہے کیا؟ نہیں ناں؟ لیکن مشرف بھائی کی نیت پر تو سوال نہیں اٹھایا جاسکتا ناں۔ مشرف بھائی ذرا منہ پھٹ ہیں، اپنی کتاب میں ہی پاکستانی شہری بیچنے اور انٹرویو میں سعودی بادشاہ سے ذاتی خیرات لینے کا اعتراف کر لیا لیکن اس اعتراف کے باوجود ہم پاکستانی دل و جان سے کہتے ہیں کہ پاکستان کی پین دی سری کردی جنرل مشرف نے لیکن بندہ بہادر بھی تھا اور ایماندار بھی۔

یہ مثالیں دینے کا مقصد آپ کو یہی سمجھانا ہے کہ آپ دل کھٹا نا کریں۔ ہم نے یہ ملک بنایا ہی آپ کے تجربوں کے لیے ہے۔ نا آسودہ امیدیں تو یہی تھیں ناں کہ ہینڈسم کٹھ پتلی لانچ ہوتے ہی ڈالر چھن چھن برسے گا اور معیشت کی رادھا چھم چھم ناچے گی۔ کیا ہوا کہ آپ کا ہائیبرڈ تجربہ ناکام ہوگیا، آپ کے اگلے کون سے تارے توڑ لائے تھے جو ہم آپ سے ناروا امیدیں رکھیں۔ سر جی آپ تن کر رکھیں ہمیں۔ نیا تجربہ کرنا ہے تو نیا تجربہ کریں، لیبارٹری کے اس مرے ہوئے چوہے کو اگلے پانچ سال دینے ہیں تو دیں، بلکہ اگلے دس سال بھی دیں۔ بس حضور کا شوقِ تجربہ سلامت رہے۔ ملک کا کیا ہے، ملک بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ آخر آپ نے روز محشر قائد کو منہ دکھانا ہے۔ اگر انہوں نے پوچھ لیا کہ جب میں پاکستان کو تجربہ گاہ کے طور پر قائم کرکے آیا تھا تو پھر تجربے جاری کیوں نہیں رکھے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ 

تجربے کریں! نتائج سے بے پرواہ ہوکر اور تجربے سے سیکھنے کے عمل سے لاتعلق ہوکر۔ نا آپ کے پچھلوں نے یہ علت پالی نا آپ اس غلط روایت کو نوجوان افسران میں قائم ہونے دیں۔

سر! اب ذرا مجھے اجازت دیجیے گا، تحریر کے دوران آفس کے شیشے کے دروازے پر بار بار ایک چڑیا آکر ٹکرا رہی ہے۔ دو تین دفعہ تو چوٹ لگنے سے چکرا کر گر بھی گئی لیکن اسے سمجھ ہی نہیں آرہی کہ آگے شیشے کی دیوار ہے اور ٹکرانے سے چوٹ لگ رہی ہے لیکن بند دروازے سے اندر گھسنے کا تجربہ جاری ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہوئے میں اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہا ہوں جس نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا، عقل اور فہم عطا کیا کہ کم از کم ہم جانوروں کے برعکس اتنا تو سمجھ جاتے ہیں کہ جو تجربہ ایک بار ناکام ہوجائے وہ اس چڑیا کی طرح بار بار دہرانے سے کامیاب نہیں ہوجاتا۔  

فقط

آپ کا شبھ چنتک