عاطف توقیر

پاکستان میں ہم اپنے بچوں کو جو تاریخ اور جس طرز کے نظریات پڑھا رہے ہیں، ان کی وجہ سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ہے، جو صریحاﹰ جھوٹ اور من گھڑت قصوں کو درست سمجھ کر باقی ہر طرح کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیتی ہے۔

اس بابت دو تین اہم باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سیکولرازم ہے کیا؟ اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اور کیا پاکستان کو سیکولر ریاست ہونا چاہیے؟ میں اس مضمون میں پوری دیانت داری سے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں جذباتی انداز سے سوچنے کی بجائے علمی انداز سے سوچنے کی کوشش کیجیے۔

اس سلسلے میں کسی بھی دوسری بات سے قبل ایک اہم سوال جس کا جواب ایک طویل عرصے سے پاکستان میں بسنے والوں سے چھپایا گیا وہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام کن حالات میں عمل میں آیا؟ ہمارے ہاں پاکستان کی قیام کی بابت ایک زور دار نعرہ لگا کر واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں ہونا چاہیے اور وہ ہے، ’پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ۔

مگر حقیقت جو ہم سے چپھائی گئی وہ یہ ہے کہ تحریک پاکستان میں کسی مقام پر یہ نعرہ کبھی سنائی نہیں دیا۔ اس کی ایک واضح منطق یہ سمجھ لیجیے کہ پاکستان کے قیام کے وقت قریب تمام اہم مذہبی جماعتیں اور رہنما پاکستان کے قیام کے مخالف تھے۔ یہ سوال ہمیں خود سے پوچھنا اور اس کا جواب حاصل کرنے کی جستجو کرنا چاہیے کہ اگر پاکستان کا مطلب لاالہ الا اللہ تھا، تو مودودی اور مولانا آزاد جیسے جید صاحبان علم کیوں پاکستان کی مخالفت کرتے رہے؟ مولانا صاحبان نے تو ایک مقام پر قائداعظم کو کافراعظم تک لکھا تھا۔

پھر دوسری بات یہ کہ جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو گیارہ اگست کو قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں واضح انداز سے کہا کہ ریاست کا شہریوں کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پھر یہ سوال بھی خود سے پوچھیے کہ ’قراردادِ مقاصد‘ پاکستان کے قیام کے دو برس اور قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے ایک برس بعد کیوں منظور کی گئی؟ کیا آپ کو یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ ایک ملک کے قیام کے مقاصد کا تعین قیام کے بعد ہو رہا ہے؟ یعنی ملک بنانے کے بعد سوچا جا رہا ہے کہ مقصد کیا تھا؟ عمومی طور پر ہمارے ہاں لفظ ’سیکولر‘ کو کسی گالی کی طرح پیش کیا جاتا ہے اور اس کا ترجمہ ہوتا ہے، ’لادین‘۔ حالاں کہ سیکولرازم کا مطلب ہے، ریاست اور مذہب کا الگ الگ ہونا۔

آئیے اب سیکولر ازم کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں یورپ کو 15وی صدی عیسوی میں جا کر دیکھنا ہو گا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب پوپ اور دیگر مسیحی مذہبی طبقہ یورپی معاشرے کے ہر ہر رنگ پر مکمل حکم رانی کر رہا تھا۔ بالکل ویسے ہی، جیسے اس وقت ہمارے ہاں مذہبی طبقہ اپنی مرضی سے لوگوں کے ایمان کا فیصلہ کر سکتا ہے اور فتوے دے سکتا ہے۔ اس دور میں پوپ اور کلیسا کے اس بے انتہا اختیار اور مقامی بادشاہوں اور راجاؤں کے ساتھ کلیسیا کے زبردست تعلق پر چند افراد نے سوالات اٹھائے۔ گو کے یہ مختلف یورپی ممالک بہ شمول فرانس، سوئٹزلینڈ، ہالینڈ اور دیگر مقامات پر تھے اور ان کے خلاف ویٹیکن کی جانب سے موت کے پروانے جاری ہو چکے تھے، تاہم اس سلسلے میں سب سے اہم نام مارٹن لوتھر کا ہے۔ جرمنی علاقے آئس لیبن میں پیدا ہونے والا لوتھر مسیحیت سے بے انتہا قریب تھا۔ وہ مذہب کا پروفیسر بھی تھا اور مسیحی مذہب کا پکا پیروکار بھی۔

اس کی جانب سے 94 نکاتی سوالات اٹھائے گئے، جس میں بنیادی بات یہ تھی کہ خدا یا یسوع مسیح تک پہنچنے کے لیے پوپ کی ضرورت کیوں ہے؟ یا کسی جرمن شخص کو بائبل جرمن زبان میں پڑھنے سے روکا کیوں جا رہا ہے؟ یا پیسے دے کر چرچ گناہ کیسے معاف کر سکتی ہے؟ یا بائبل میں درج باتیں لغوی کی بجائے علامتی کیوں نہیں لی جا سکتیں؟ مارٹن لوتھر کا کہنا تھا کہ گلاس میں وائن کو حقیقی معنوں میں یسوع مسیح کا خون اور روٹی کو حقیقی معنوں میں یسوع مسیح کا گوشت سمجھنے کی بجائے اس رسم کو علامتی انداز سے کیوں نہیں دیکھا جا سکتا؟

ان سوالات کے جواب میں پوپ کی جانب سے مارٹن لوتھر کی موت کا فتویٰ جاری ہو گیا اور اس سوال پوچھنے والے کو چھپنے کے لیے در بہ در بھٹکنا پڑا۔ پروٹیسٹ یا احتجاج کی یہ تحریک رفتہ رفتہ مقبول ہوتی گئی، تاہم اس تحریک سے وابستہ افراد کے خلاف کیتھولک مسیحیوں کے بربریت بھی بڑھتی گئی۔ یورپ کے مختلف علاقوں میں کیتھولک افراد کے ہاتھوں پروٹیسٹنس کا قتل عام ایک طرح سے رواج بن گیا تھا۔

اسی کے بعد یورپ میں غور و فکر کی تحریک رینیسانس بھی شروع ہوئی اور طے یہ پایا کہ جب تک ریاست اور مذہب کو الگ الگ نہیں کیا جاتا، ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس طرح یہ خیال پیدا ہوا کہ مذہب انسان کا معاملہ ہے، ریاست کا نہیں۔ ریاست کا کام جرم سے لڑنا ہے اور انسان کا کام گناہ سے۔ مزہب انسان کو گناہ سے لڑنا اور اس کے وجود کی اخلاقی تربیت یا اس کے اور اس کے خدا کے درمیان کے تعلق کا آئینہ دار ہوتا ہے، جب کہ ریاست کا کام طے کردہ قانون کے تحت اپنے شہریوں میں کسی بھی رنگ، نسل، گروہ، فرقے یا مذہب سے بالاتر ہو کر مساوی انداز سے حقوق اور ذمہ داریوں کو نفاذ ہوتا ہے۔

اس معاملے پر یقیناﹰ ہمارے ہاں کبھی ٹھیک انداز سے علمی بحث نہیں ہوئی اور کسی بھی لفظ کو کوئی بھی شخص اٹھ کر گالی کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ تاہم بہ طور معاشرہ ہمیں ان مشکل موضوعات پر سوچ بچار کی ضرورت ہے، تاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔

چند باتیں ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات یہ کہ انسان مسلم یا غیرمسلم ہو سکتا ہے، زمین مسلم یا غیرمسلم نہیں ہوتی۔ ہمارے عقیدے کے مطابق تو جسے ہمیں کافروں کا ملک کہتے ہیں وہ بھی ٹھیک اسی طرح خدا کی زمین ہے، جیسے ہمارا اپنا ملک۔ دوسری بات پیغمبر انسانوں کے لیے اترتے ہیں، پتھروں، سیاروں یا اشیاء کے لیے نہیں۔ کیا مریخ پر کوئی پیغمبر اتر سکتا ہے؟ ظاہر ہے نہیں کیوں کہ وہاں کوئی انسان نہیں۔ کیا کوئی پیغمبر کے ٹو پہاڑ پر اتارا جا سکتا ہے؟ ظاہر ہے وہاں اس کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہاں کوئی انسان نہیں بستا۔

کیا کبھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ مریخ کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ؟ یا کیا ہم بھارت یا سوڈان یا امریکا یا برازیل کی زمین کو خدا کی زمین نہیں مانتے؟

ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خُدائے ماست
(ہر ملک میرا ملک ہے کیونکہ وہ خُدا کا ملک ہے۔)

پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف اس ملک میں متعدد قومیں آباد ہیں، جن کی اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی قدیمی تہذیب ہے اور دوسری جانب کئی طرح کے مذاہب اور مسالک۔

پاکستان بننے کے بعد ایک بہت بڑی تعداد میں غیرمسلم ہماری انہیں پالیسیوں کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے اور جو باقی ہیں انہیں معاشرے میں ہر جانب خوف ناک حد تک کی تفریق اور تضحیک کا سامنا ہے اور ہر لمحے ایک خوف کی دستک بھی کہ انہیں کسی بھی مذہبی الزام کے ساتھ تباہ کیا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں ایسے تمام ممالک جہاں مختلف قومیں اور مختلف طرز کے مذاہب آباد ہوں، وہاں دستوری جمہوریت کے ساتھ اکثریت کے ہاتھوں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کو روکا جاتا ہے۔ تاہم بدقسمتی دیکھیے کہ پاکستان میں اکثریت نے اقلیتوں کے ہاتھوں اپنے حقوق بچانے کے لیے دستور بنا رکھا ہے۔ ہمارا دستور اقلیتوں کو تحفظ دینے کی ضمانت بھی دیتا ہے اور ساتھ ہی ان کے ساتھ تفریق کے سلوک کو رائج بھی کر رہا ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے کسی پاکستانی مسیحی یا ہندو یا سکھ یا کسی بھی اور مذہب کے شخص کو کیوں یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ پاکستانی عوام کی قیادت کرے؟ ریاست شہریوں کے لیے ماں کی طرح ہوتی ہے۔ کیسے کوئی ماں اپنے بچوں کے ساتھ غیرمساوی سلوک اختیار کر کے گھر سلامت رکھ سکتی ہے؟

اس لیے دعا یہ ہے کہ خدا پاکستان کو ایک سکیولر اور مجھے ایک بہتر مسلمان بننے کی توفیق دے، تاکہ اس ملک میں بسنے والے وہ افراد جو مسلمان نہیں ہیں، وہ بھی پورے فخر کے ساتھ اس دیس کو اپنا کہہ سکیں۔ بالکل ویسے، جیسے میں اور مجھ جیسے دوسرے مسلمان کہتے ہیں۔