ارشد سلہری

پاکستان میں عدم مساوات ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خواجہ سرا کمیونٹی زیادہ عدم مساوات کا شکار ہے۔ خواجہ سرا سماج سے الگ تھلگ رہنے پر مجبور ہیں۔ یہی نہیں خواجہ سراؤں کو کمیونٹی کے اندر بھی استحصال کا سامنا رہتا ہے۔ غربت اور تنگدستی کے باعث بھیک مانگنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ بھیک کی کمائی سے بھی انہیں گرو کو حصہ دینا پڑتا ہے۔ سب سے بڑا ظلم کہ خواجہ سراؤں کے اپنے والدین، بہن بھائی اور رشتہ دار ان سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جیسے انہوں نے خود خواجہ سرا پیدا ہوکر کوئی جرم کیا ہو اور خواجہ سرا ہونا کوئی گناہ ہے۔ والدین یہ گھناؤنا عمل خواجہ سرا کی پیدائش ہوتے ہی کر گزرتے ہیں۔ اس بات کو خفیہ رکھا جاتا ہے کہ ان کے ہاں خواجہ سرا بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ پیدا ہوتے ہی خواجہ سرا بچے کو گرو کے حوالے کردیا جاتا ہے۔

جو خواجہ سرا جو خوش قسمتی سے پڑھ لکھ گئے ہیں وہ باشعور ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد ، کراچی اور لاہور سمیت کئی شہروں میں ایسے خواجہ سرا موجود ہیں، جو پڑھے لکھے ہیں۔ جنہوں نے خواجہ سراؤں کے حقوق کےلیئے جدوجہد کی ہے۔ جس سے کم ازکم ان کی ذاتی زندگیاں سہل ضرور ہوئی ہیں مگر بطور مجموعی کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ معاشرے میں ہرطبقہ خواجہ سراؤں کو اپنے تمام تر سماجی معاملات سے دور رکھتا ہے اور ہرمذہب میں خواجہ سراؤں کو اجازت نہیں ہے کہ عبادت خانوں میں داخل بھی ہوسکیں۔ خواجہ سراؤں کو انسان سمجھا ہی نہیں جاتا ہے۔ بے رحمی اور سفاکیت کا یہ عالم ہے کہ محلے میں کسی خواجہ سرا کی موت واقع ہوجائے تو معاشرے کا کوئی فرد یہ نہیں سمجھتا ہے کہ کوئی انسان مر گیا ہے بلکہ بے حسی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ  ”کھسرا“  مرا ہے۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ خواجہ سرا فوت ہوجائے تو اس کو دفناتے کیسے ہیں؟ جنازہ کیسے پڑھتے ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جیتے جاگتے انسان معاشرے میں ”نارمل“ انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ اس بے رحمی و سفاکی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی خواجہ سرا سے تعلق داری ظاہر نہیں کرنا چاہتا ہے۔ وہ خواجہ سرا کوئی رشتہ دار ہو، باپ ہو، ماں ہو، بھائی بہن ہو یا کوئی برادری یا قبیلے کا فرد، نہیں چاہتا ہے کہ انہیں  کوئی یہ کہے کہ اس کا تعلق فلاں  گھرانے یا قبیلے سے ہے۔

ریاست اورسیاسی جماعتیں اور سیاسی گروپ خواجہ سراؤں کے حوالے سے جامع اور ٹھوس پالیسی بنائیں اور خواجہ سراؤں کے بنیادی انسانی حقوق کو منشور کا حصہ بنایا جائے۔ مساوات پارٹی پاکستان نے درج  ذیل پالیسی وضع کی ہے۔ پالیسی کے نکات کو مساوات پارٹی  کے منشور کا حصہ بھی بنایا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس معاملے میں تقلید کرنے کی ضرورت ہے۔

زنخا، مخنث، زنانہ سمیت تمام ایسے افراد جو مختلف شناخت رکھتے ہیں۔ انہیں تمام تر بنیادی انسانی حقوق دینے کےلیئے جامع اور ٹھوس قانون سازی کی جائے اور ان کے بہن بھائی یا رشتہ داروں کے بجائے وارثتی جائیداد کا حق انہیں دیا جائے۔

خواجہ سراؤں کو سماجی دھارے کا حصہ بنانے اور انسانی رشتے میں شامل کرنے کےلیئے ضروری ہے کہ ریاست سنجیدگی سے اقدام کرے اور قانون سازی کی جائے کہ والدین خواجہ سرا بچے کی خود نگہداشت اور پرورش کریں۔ اٹھارہ سال تک والدین کی ذمہ داری ہے کہ خواجہ سرا کی تعلیم و تربیت سمیت تمام تر بنیادی انسانی حقوق پورے کریں۔ خواجہ سرا کو والد ین کی وارثت میں حصہ دار بناکرقانونی طور پر حق وارثت دیا جائے۔ خواجہ سرا کو پیدائش کے وقت یا آشکار ہونے پر گھر سے نکالنا سنگین جرم قرار دے کر سزاؤں اور جرمانوں کا اطلاق کیا جائے۔

خواجہ سراؤں کے گرو کی ہر شہر میں رجسٹریشن کی جائے اور خواجہ سراؤں کی خریدوفروخت پر سخت پابندی عائد کی جائے۔ اٹھارہ سال کے بعد قومی شناختی کارڈ کے حامل خواجہ سرا کو فطری جبلت اور خاصیت کے مطابق جینے اور رہنے کا مکمل حق دیا جائے، کہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کیا شناخت اپناتا ہے۔ گروکی منشا اور اجارہ داری کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ تاکہ خواجہ سرا بھی ریاست کے کارآمد شہری کی حیثیت سے عام انسانوں کی طرح معاشرے کا حصہ بن کر اپنی زندگیاں گزار سکیں ۔

Previous articleاحمد نورانی کے انکشافات پر مجرمانہ خاموشی
Next article”ففٹی شیڈز آف نیب“