خان وزیر

عراق میں صدام حسین کی حکومت قائم تھی۔ جس پر 19 مارچ 2003ء کو امریکہ نے حملہ کر دیا۔ 26 دن کی قلیل عرصہ میں صدام حسین کے حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ امریکہ نے اس حملے کی دو بڑے وجوہات بیان کیئے ، صدام حسین کی دہشت گردوں کی حمایت اور عراق میں غیر قانونی کیمیکل ہتھیار کی موجودگی۔

واضح رہے کہ اس وقت عراق کی 60 فیصد آبادی شیعہ مسلمان اور 40 فیصد سنی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ صدام حسین بذاتِ خود سنی مسلمان حمایتی تھا۔ صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے پر شیعہ مسلم کیمونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان کو با آسانی اقتدار میں جانے کا موقع ملا۔ داعش کی تنظیم عراق میں صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد وجود میں آئی۔ داعش سے مراد ” دولتِ اسلامیہ عراق وشام“  ہے جسے ”آئی ایس آئی ایس“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ دراصل یہ القاعدہ سے علیحدہ ایک گروہ تھا۔ داعش زیادہ تر سنی انتہا پسندانہ تشریحات پر عمل پیرا ہے۔ اس کی بنیاد ابوبکر البغدادی نے رکھی تھی۔ ابوبکر البغدادی کا اصل نام ”ابراہیم عود ابراہیم البدری“ تھا۔ وہ عراق کے وسطی شہر سامراء میں 1971 کو ایک سنی مسلم گھرانے میں پیدا ہوا۔ اور وہ خود یہ دعویٰ بھی کر رہا تھا کہ وہ عرب کے مشہور خاندان قریش سے ہے ۔ اس نے اسلامی دینیات میں ڈگری بھی حاصل کی تھی۔

داعش کی تنظیم پورے ایشیاء میں سر گرم رہی اور خلافت کا نظام قائم کرنے کے لیئے سر توڑ کوششیں کیں۔  عراق اور شام اس کی کاروائیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جن میں عراقی شہر الموصل اور تکریت قابلِ ذکر ہیں۔ شام کا شہر رقعہ جو کہ دریائے فرات کے شمال مشرقی کنارے واقع ہے، داعش کا گڑھ رہ چکا ہے، جس پر چار سال تک اس گروہ کی بادشاہت قائم رہی ۔ کئی ممالک کے مسلح افواج داعش کے خلاف مل کر یکجا ہوئے۔ عراقی اور شامی حکومت کے تعاون سے ہر جگہ ان گروہ کو پسپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ داعش کے پاس اسلحہ اور مال و دولت کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس گروہ کی آمدنی کا اہم ذریعہ تیل اور گیس کی غیر قانونی فروخت تھی، کیونکہ تیل اور گیس کے علاقے ان کے قبضے میں تھے۔ وہ برائے تاوان لوگوں کو اغواء کرتے تھے اور تاریخی اور مشہور مقامات پر لوٹ مار بھی کر لیتے تھے۔ داعش نے دنیا بھر میں خوف وہراس پھیلا دیا تھا، اور ہر روز ظلم کی نئی داستان رقم کیئے جارہے تھے، چاہئے وہ اومان کے پائلٹ کا پوری دنیا کے سامنے آئن لائن زندہ جلایا جانا ہو، یا عراق کے دارالحکومت بغداد میں لاتعداد حملے کرنا ہو۔ فرانس، برلن اور برسلز بھی ان کے نشانے پر رہے۔

ایک اندازے کے مطابق داعش کی وجہ سے شام سے 10 ملین لوگ بے دخل ہو گئے ہیں ۔ یہ کثیر تعداد لوگ  لبنان، اردن اور ترکی میں پناہ گزین ہیں۔ اس طرح عراق سے متاثرہ  چار ملین لوگوں نے ہجرت کی۔ داعش عالمی دنیا کے لیئے ایک خطرہ سمجھا جاتا تھا اور کسی حد تک ابھی بھی ہے۔ اس گروہ میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی فعال رہی ہیں۔ داعش میں  تقریباً ہر ملک کے باسی شامل تھے۔ کسی کو کوئی علم نہ تھا، کون مر رہا ہے؟ کون مار رہا ہے؟ اور کیوں مر رہا ہے؟ اسی طرح کے لاجواب سوالات کی بھر مار تھی۔ عالمی دنیا نے اس گروہ کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔

لوگ اس گروہ میں مختلف وجوہات کی بنا پرشامل ہوئے۔ کچھ  مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے ان سے منسلک ہوئے، کیونکہ ان کا بنیادی مقصد خلافت کے نظام کا قیام تھا۔ جبکہ بعض لوگ زیادہ پیسے اور کمائی کے لیئے ان سے منسلک ہوگئے۔ نجی ذرائع کے مطابق گروہ سے جڑے ایک شخص کی ماہانہ سیلری 01 ملین تھی، جو کہ عام آدمی کے لیئے بہت بڑی رقم ہے۔ یہ گروہ ابھی بھی کسی حد تک فعال ہے۔ ابھی اس کی سربراہی عبد الرحمان آل ملوی کر رہا ہے۔

Previous articleپی ڈی ایم کا گنبد، ہوا میں معلق تحریک اور بیانیے کا بوجھ
Next articleہارڈ ٹاک