وقاراحمد صدیقی

احباب جب کبھی معاشرے میں سرایت کرگئی شدت پسندی و عدم برداشت کا نوحہ پڑھتے ہیں تو راقم کا جواب ہوتا ہے کہ عصرِ حاضر شدت پسندی و عدم برداشت سے بڑھ کر جہالت و بےشعوری کی عزت، تعظیم و تکریم کا دور ہے۔ عبیداللہ علیم نے کیا اچھا کہا:- “یہ دورِ بے ہنراں ہے بچا رکھو خود کو”،”یہاں صداقتیں کیسی کرامتیں کیسی!”

فی زمانہ جہالت، دین داری اور بے شعوری، حب الوطنی کا میعار ٹہر چکی ہے۔ آپ دین داری و حب الوطنی کے کس درجے پر متمکن ہیں، یہ فیصلہ بالترتیب آپ کی جہالت و بے شعوری کی سطح جانچ کر کیا جاسکتا ہے۔ جس امت کے لیئے امام الانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسے نبی کی بعثت کی دعا فرمائی کہ جو اپنے ماننے والوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفس کا تزکیہ فرمائے، اس امت میں عقل، علم و حکمت کی بات کرنا خارج از دین طے پا چکا، جب کہ تزکیۂ نفس کا یہ عالم ہے کہ شاید ہی کوئی ہفتہ جاتا ہو کہ ریاست کے کسی حصے سے مسجد و مدرسہ میں ناظرہ و قرآن کی تعلیم کی غرض سے آئے نوعمر بچے / بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہ ہوتا ہو۔ دین اسلام کے ماننے والوں پر علم، حکمت اور تحقیق کے مقابلے میں سستی جذباتیت غالب آ چکی ہے۔ اب چاہے علم کا جذباتیت اور جذباتیت کا علم سے کوئی واسطہ و سروکار ہو نہ ہو، ہم عقل و شعور سے بے پرواہ و بے نیاز، سراپا جذبات ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دین اسلام کے ماننے والوں کا مذہب اور پیغمبر اسلام سے ایک والہانہ و جذباتی لگاؤ ہے لیکن یہ کون سی جذباتیت دین می‍ں در آئی ہے، جہاں عقل و خرد اور علم و حکمت کی کوئی بات ممنوع ہی نہیں بلکہ قابل تعزیر بن چکی ہے۔  اس بات سے قطع نظر کہ ہماری ذاتی زندگی میں مذہب کا کتنا عمل دخل ہے اور ہمارے معمولات و معاملات دین کے کتنے طابع ہیں، ہمارا کام سوشل میڈیا سمیت ہر فورم پر اپنی دین داری کا ڈھول پوری قوت سے پیٹنا رہ گیا ہے۔ جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ دین دار ہونا نہیں، دین دار دکھائی دینا ہے۔ مذہب کا لبادہ پورے معاشرے کے ‘رول کی ڈیمانڈ’ بن چکا ہے۔ ہمیں ہر لحظہ چوکنا رہنا ہے کہ اپنی دین داری کے اظہار و پرچار کا کوئی ایک ادنیٰ موقع بھی نہ گنوا دیں۔ اگر کچھ نہیں سوجھ رہا تو ادھیڑ عمری میں سوشل میڈیا پر مارک زکر برگ کو گواہ بنا کر مشرف بہ اسلام ہو جاؤ، “میں فلاں ابن فلاں گواہی دیتا ہوں کہ اللھ کے سوا کوئی معبود نہیں، “چیلنج ایکسپٹڈ”۔

کمال ہے! راقم تو آج تک آپ کو پیدائشی مسلمان خیال کرتا آ رہا تھا۔ اب اگر اواخر عمر میں اسلام قبول کر لیا ہے تو کیا اگلی ویڈیو تقریب ختنہ کی بھی اپ لوڈ کرنے جا رہے ہیں کہ کوئی شک و ابہام باقی نہ رہے؟ ہمارے مذہبی طبقے کو اور کچھ نہیں سمجھ آ سکا تو موٹر سائیکل پر دورانِ ڈبل سواری “بیچ و بیچ” تکیہ ہی دبوچ لیا اور ہم جیسے گنہگاروں کی جانب اپنے زہد و تقویٰ کی داد پانے کی نیت سے دیکھنے لگے۔ یہا‍ں ہم بھی حیران و پریشان کہ عفت و پارسائی کہ اس درجے کو ہم کیوں کر اور کیسے پا سکیں گے؟ مذکورہ تمام صورتحال کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ 70ء کی دہائی کے لبرل و ترقی پسند معاشرے میں مسجد جا کر قرآن کی تعلیم پانے والے صاحبان آج کی شدت و انتہا پسند ریاست، جس پر مذہب کا رنگ تہ در تہ چڑھ چکا ہے، اپنے بچوں کو تنہا مسجد بھیجنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ دوسری جانب، حب الوطنی ناپنے کا واحد پیمانہ یہ ہے کہ آپ کتنی چابکدستی و مستعدی سے کتنے اچھے بوٹ پالش کر سکتے ہیں۔ آپ قانون و دستور اور آئین کی بالادستی کی بات کیجئے، آپ کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جائے گا، آپ پر مختلف لیبل چسپاں کیئے جائیں گے۔ آپ اداروں کو اپنے آئینی و دستوری حد میں رہ کر کام کرنے کی تلقین کیجیے یا ان کے ماورائے آئین و قانون آپریٹ کرنے پر تنقید فرمائیے، سوال کیا جائے گا کہ آپ کو کون فنڈنگ کر رہا ہے؟ آپ ریاست کی نصابی کتب میں پڑھائی جانے والی تاریخ پر سوال اٹھائیے، آپ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا۔ حب الوطنی کا ایسا کڑا اور جان لیوا میعار کہ جہاں مادر ملت سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو اور فیض سے لے کر حبیب جالب تک سب کے سب سکیورٹی رسک، غیر ملکی ایجنٹ و ملک دشمن۔ سویلین سپریمیسی و جمہوریت کی بات ریاست سے غداری اور ایک گالی ہے۔ اب خدا جانے احباب کہاں اور  کون سی جمہوریت کو گالیاں دیتے ہیں؟ مملکت خداداد میں تو الحمدللہ قیام کے بعد سے لے کر آج تک، ایک دن کے لیئے بھی جمہوریت نہیں رہی۔ چالیس سال قبل جنہوں نے عوام کے لیئے نواز شریف کا انتخاب کیا تھا، انہیں نے آج عمران خان کو پسند فرمایا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اس وقت کوئی جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق تھا، آج کوئی جنرل شجاع پاشا ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں ‘لو میرجز’ بھلا کہاں، کب ہوتی ہیں؟ خاندان کے بزرگ مل کر معاملات طے فرماتے ہیں۔ ہمارا اپنے ‘جمہوری’ حکمرانوں سے بھی ایسا ہی تعلق رہا ہے۔ چوہتر سال سے ہمارے ‘بزرگ’ ہمیں بتاتے آئے ہیں کہ ہم نے تمہارے لیئے یہ ‘جمہوری’ حکمران پسند کیئے ہیں، تم انتخابات کی ‘رسم’ ادا کر کے انہیں اپنے لیئے ‘منتخب’ کر لو۔

دلچسپ بات یہ کہ نواز شریف کو گالیاں دینے والے، نواز شریف کو عوام کی پیٹھ پر سوار کرانے والے جنرل ضیاء الحق کو آج بھی اسلام کا مجاہد اور مسلمانوں کا چھٹا خلیفہ مانتے ہیں۔ اس ریاست کے لبرلز کےلیئے جنرل ضیاء الحق ایک انتہائی قابل نفرت شخصیت ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح اس ملک کے اسلام پسندوں کی نظر میں ذوالفقار علی بھٹو ناپسندیدہ ہے لیکن ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا شخصیات ایک دوسرے کو پسند آ ئیں، اتنی پسند آئیں کہ لبرل / سیکولر ذہن کے مالک ذوالفقار علی بھٹو نے سات سینئیر جرنیلوں کو بائی پاس کرکے (مبینہ) اسلام پسند جنرل ضیاء الحق کا انتخاب کیا، اور الحمدللہ اس کا کما حقہ خراج بھی ادا کیا۔ ضیاء الحق مرحوم خدا جانے پیشہ ور جرنیل کتنے اچھے تھے، لیکن بلاشبہ ایک عظیم اداکار تھے۔ انہوں نے اپنی حقیقت سے قریب تر اداکاری سے نا صرف ایک لبرل، ذوالفقار علی بھٹو کو، بلکہ اسلام پسندوں کے ایک انبوہ کثیر کو سحر زدہ کر دیا۔ وہ ریاست پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ‘وحید مراد’ ہیں۔ کئی عشرے گزر جانے کے بعد بھی، سیاست ان کی لازوال اداکاری کے چھوڑے انمٹ نقوش کے اثر سے تاحال نہیں نکل سکی۔ مرحوم، مملکت خداداد میں ‘مذہبی ادکاری’ کی صنف کے بانی و موجد تھے۔ ان کے وارث ان کی اس میراث کی ترویج و ترقی کے لیئے آج بھی دل و جان سے کام کر رہے ہیں۔

ریاست پاکستان میں الحمدللہ آج بھی ‘جمہوری حکومت’ ہے۔ کم از کم قوم کو بالعموم اور قوم یوط کو بالخصوص یہی معلوم ہے لیکن مائیک پومپیو سمیت دنیا بھر کے وزرائے خارجہ و سربراہان، سنجیدہ مسئلوں پر بات چیت کے لیئے وزیر اعظم یا وزیر خارجہ کو زحمت دینے کے بجائے ایک 22 گریڈ کے سرکاری ملازم، آرمی چیف کو کال کرتے ہیں۔ ہاں، اتنا ضرور ہے کہ حسب روایت، عوام کی گالیاں وہ ‘ہینڈسم’ ہی کھا رہا ہے۔ آخر اسے بھی تو کسی کام پر لگانا ہے۔

 

Previous articleاٹھارویں آئینی ترمیم اور وردی پوشوں کی خواہش
Next articleکمرے کا ہاتھی