فخرعالم قریشی

عورت معاشرے کا اساس ہے، عورت ذات خدا  انبیا کرام اور صحابہ کے بعد کرہ ارض پر موجود تمام رشتوں میں سب سے افضل معتبر اور  بااعتماد رشتہ  ہے۔ عورت ماں کی شکل میں خدا تعالٰی کی ایک بہترین نعمت اور حقیقی رشتوں کی بنیاد ہے۔ بہن کی شکل میں بھائیوں کا بہترین خیال رکھنے والی اور بھائیوں کا مان ہوا کرتی ہے  جبکہ بیوی کے طور پر  دکھ سکھ کا ایک بہترین ہمسفر اور ہمراز ہے۔ 

یوں تو دنیا بھر میں عورتوں کے ساتھ امتیازی  سلوک حقوق کی بجا آوری میں لیت لعل سماجی ناہمواری اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کو نظر انداز کیے جانے کے آئے روز کئی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ مگر “الحمداللہ” میرا ملک عورتوں کے حقوق کی بجا آوری میں ان ممالک سے بھی دو قدم آگے ہے، پاکستان دنیا بھر میں عورتوں کے ساتھ ہر طرح کے مظالم ڈھائے جانے غیرت کے نام پر قتل کرنے اور جنسی ہراسگی  میں نمایاں پوزیشن رکھتا ہے ہر چوک چوراہا گلی محلہ عورتوں کے ساتھ ہونے والی بد ترین تشدد ناروا سلوک اور غیرت کے نام پر جاری بہیمانہ قتال کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

المیہ مملکت خداد کے دیگر حصوں سے ضلع دیامر میں مزید المناک ہے، یہاں عورت نام کے مقدس رشتوں کو روز اول سے شدید سماجی معاشی مذہبی و معاشرتی کھٹن دشواریوں  کا سامنا ہے کائنات  کی اس مظلوم مخلوق خدا کو گھر میں اپنے خاندان کے افراد کے مابین اپنے ہی گھریلو معاملات میں بھی کسی مناسب رائے کا حق حاصل نہیں۔ یہاں بہنوں اور پھوپیوں کو انکا  حق بلا کسی روک ٹوک اسلام کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ادا کرنے کے بجائے ان کو طرح طرح کی طعنہ زنی شوہر کے روبرو بے آبرو کیے جانے اور انکو اپنے جائز حق کے حصول کیلئے عدالتوں کے چکر کٹوائے جاتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ میراث کا اسلامی حق دینے کے بجائے لینے والی بہنوں اور پھوہیوں کو میراث خور کے نام سے پکارا جاتا ہے اور انہیں اپنا دشمن ٹھہرایا جاتا ہے۔ ان کو اپنے گھر آنے جانے پر پابندی سمیت ،ازلی دشمن ٹھہرا کر اس مقدس رشتے کا گلا گھونٹ کر سر عام قتل کر دیا جاتا ہے۔  

اس المناک اور خوفناک سماجی  صورت حال، حقوق العباد کی سنگین خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لئے علما کرام کا حق وراثت کی واضح  اسلامی تشریح اور معاشرے میں اس کی بجا آوری کے لئے فعال کردار وقت کا عین تقاضا ہے۔ دیامر میں عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے مذکورہ سلسلے میں تیزی دیامر ڈیم کے معاوضہ جات کی ادائیگیوں کے بعد سے دیکھنے میں آئی ہے۔ یہاں حق وراثت کے علاوہ بھی عورتوں کے  معاشی  مذہبی و دیگر حقوق کے معاملے میں انتہائی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا رہتا ہے جس میں کمی کیلئے علمائے کرام اور سول سوسائٹی کا کراد انتہائی لازمی ہے۔ وگرنہ جبر کا یہ بھیانک سیلاب کائنات کا یہ خوبصورت رشتہ بہا لے جائیگا اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے

اسلام تو عورتوں کوحصول تعلیم کا پورا حق دیتا ہے مگر ہمیں بدقسمتی سے وہ اسلام پسند نہیں جو اسلام کے متعین کردہ حق سے ٹکراتا ہو۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 70 سالوں سے دیامر کے خواتین تعلیمی میدان میں دیگر اضلاع کے مقابلے میں ہمیشہ پیچھے رہیں ،جس کی بنیادی وجہ کبھی مذہبی طبقہ بنے تو کبھی نام نہاد طالبانی گروہ جن کی بدولت دیامر کا معاشرہ عورت کو وہ مقام نہیں دے سکا جو اسلام نے وضع کیئے اور ایک مہذب معاشرے میں دیئے جاتے ہیں۔ اگر دیامر میں عورتوں کی تعلیمی  مشکلات پر روشنی ڈالی جائے تو اندازہ ہوگا کہ کس قدر ایک ایسے معاشرے میں عورت تعلیم حاصل کرسکتی ہے، جہاں گھر سے باہر نکلنے پر پابندی تو ہے مگر میراث سے محروم اور کھیتی باڑی سمیت جنگل سے لکڑیاں بغرض تجارت لانے میں  کوئی روک ٹوک یا ممانعت نہیں نہ تو پابند ہیں۔

اللہ اس کو کروٹ کروٹ جنت عطا کرے آج سے 15 سال قبل یہاں کے ایک مقامی سیاستدان حاجی عبدالقدوس مرحوم اندھیروں کے اس سفر میں کمی کے لئے سربکف چلاس کے وسط میں  پہلے گرل ہائی سکول کی بنیاد رکھ گئے ان کی تعلیم دوست پالیسیوں اور علم و عرفاں کے بیانیے کو وقتی مشکلات کے ساتھ مقامی لوگوں کو دیرپا زنانہ تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرواگئے یہ امر حقیقت ہے ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا انجینئر بنے ڈاکٹر بنے، اسی طرح ہر ماں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس بیٹی پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے ٹیچر بنے اور علاقہ سمیت والدین کا سر فخر سے بلند کرے۔

لیکن میرے معاشرے کا افسوس ناک پہلو یہ رہا ہے کہ عورت کو گھر سے باہر نکلتے ہی غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے شک بھری نظروں سے گھورا جاتا ہے  یعنی مختصرا عورت کی جائز نقل و حرکت کو بھی معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ گھریلو معاملات میں رائے دینے پر انہیں ہفتوں تک بھوکا سونا پڑتا ہے۔ مہینوں تک شوہر کی محبت اور پیار کی راہیں تکتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں میراث کے حق سے بھی یکسر محروم رکھا جاتا ہے۔ ایسے میں اس معاشرے کو مزید اندھیرے میں دھکیلنے اور عورت کو تعلیم سے دور رکھنے کے لئے تعلیم دشمن طالبانی گروہ نے بھی اپنے دھونس دھمکیوں کے ذریعے انہیں ڈرانے میں کسر نہیں چھوڑی۔ سال قبل جب ایک طالبانی گروہ نے چلاس گرل ہائی اسکول کو فحاشی کا اڈہ قرار دے کر بند کرنے کی نہ صرف کوشش کی  بلکہ  طالبات سمیت عملہ کو بھی جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ یہاں حوصلہ افزاء امر یہ ہے کہ ان دھمکیوں کے باوجود دیامر کی وہ خواتین جن کو صنف نازک کا مقام حاصل ہے نے صنف آہن کا لبادہ اوڑھ کر تمام رکاوٹوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہوکر اپنی تعلیمی سفر کو جاری رکھا۔

 اور والدین بھی میدان میں کود پڑے اور تعلیمی سفر کا یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا جن کی قربانیوں کی بدولت آج شہر چلاس سمیت دیامر کے نالہ جات میں گرلز ہائی اسکول کے علاوہ گرلز ڈگری کالج چلاس، اور کئی گرلز پرائمری اور ہوم سکولز درس و تدریس سے آباد نظر آرہے ہیں۔ شرپسندوں کا بس چلے تو شاید  وہ آج بھی ان تمام اسکولوں کو نذر آتش کردیں اور تعلیمی میدان میں اب بھی رکاوٹیں کھڑی کردیں لیکن اب ان کا خواب شاید پورا نہ ہو کیونکہ دیامر اب جاگ رہا ہے۔

 

اگست 2017 کی بات ہے جب دیامر کی بیٹیوں نے تعلیمی اداروں کا رخ کرلیا، والدین نے اپنے بچیوں کو اسکول بھیجنا شروع کر دیا۔ تو کچھ مقامی و غیرمقامی تعلیم دشمن شرپسند طالبانی گروہ نے 4 اگست 2018 کی بدقسمت رات کو اندھیروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ضلع بھر کے 14 اسکولوں کو نذر آتش کردیا۔ اس دن کو تاریخ کے اوراق میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائےگا۔

لیکن حکومتی نااہلی تو دیکھئے کہ ان شرپسندوں نے اس سے قبل اس سانحہ سمیت 7 سالوں میں تقریباً 35 سے زائد تعلیمی اداروں پر حملہ کیئے تھے۔

مگر افسوس کہ یہ حکومتی غفلت کہیں یا سازش؟

ایسے میں جب تعلیمی درسگاہیں جلائے جانے کے واقعات سامنے آئے تو پولیس نے تانگر کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا۔ جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں تانگیر میں دو تین پولیس اہلکار بھی شہید ہوگئے۔ جب ان پولیس شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے سیشن جج ملک عنایت الرحمٰن تانگیر جارہے تھے تو راستے میں اچانک دہشت گردوں نے ان پر بھی قاتلانہ حملہ کیا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ جس پر مقامی افراد اور سماجی تنظیموں کے ارکان نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے افواج پاکستان ور اداروں سے مدد مانگی شہریوں کی بڑی تعداد چوک چوراہوں پر سراپا احتجاج رہے۔ نہ تو دہشت گرد پکڑے گئے نہ اسکولوں کی دوبارہ تعمیر ہوسکی۔ بس یہی سمجھ لیں تعلیم دشمن عناصر جیت گئے تعلیم دوست معاشرہ ہار گیا۔ 

عورتوں کے تعلیمی حقوق پر ڈالے جانے والے ڈاکوں پر طویل بحث ہو سکتی ہے مگر آئیے مختصراً  انکے وراثتی حقوق پر بھی سرسری نظر دوڑا لیتے ہیں۔ 

 ملک کا میگا منصوبہ دیامر بھاشہ ڈیم کے متاثرین کو ان کی زمینوں اور جائیداد کے معاوضوں کی ادائیگی کی گئی تو ضلع بھر میں خواتین ماں بہنوں اور پھوپھیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے گئے۔ ڈیم معاوضوں کی ادائیگیوں سے قبل  بہنوں کو قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ہر ہفتے ان کے گھر جاکر احوال پرسی کی جاتی تھی، جب ادائیگیاں شروع ہوگئی تو بھائیوں اور شوہروں کا اصل چہرہ بےنقاب ہوگیا اور دوستی دشمنی میں بدل گئی۔ ہر طرف دھونس، دھمکیوں اور ہراسانی کا رویہ تیزی سے معاشرے میں گھر کرنے لگا۔ کسی نے قتل کی دھمکی دی تو کوئی میراث خور جیسے القابات سے پکارنے لگے۔ حتی کہ دیامر 50 فیصد متاثرین نے بہنوں اور پھوپھیوں  کو میراث میں حصہ دینے سے انکار کردیا۔ جبکہ 20 فیصد نے انہی دھمکیوں کی وجہ سے اپنا حق مانگنے کی زحمت تک نہیں کی۔ اور 30 فیصد خواتین نے اپنے اس جائز حق کے حصول کیلئے عدالتوں کا رخ کردیا۔ جن میں اکثر زیر سماعت کیسز بھائیوں اور بہنوں کے مابین تھے۔ اگر ان کیسز کا مطالہ کیا جائے تو اکثر خواتین کو انصاف مل چکا ہے اور بعض خواتین جن میں بیوہ عورتیں ہیں وہ آج بھی عدالتوں سے انصاف کی بھیک مانگتی پھر رہی ہیں۔

جبکہ مذہبی طبقے کی جانب سے ان خواتین کے حقوق کے لئے نہ تو منبر و محراب سے  آواز اٹھائی گئی اور  نہ ہی عملی میدان میں کوئی قدم اٹھایا گیا۔ بعد ازاں جب لاوا پک کر پھٹنے کو تیار تھا تو مذہبی طبقہ جوش میں آگیا اورمنبر محراب پر ان مظلوم اور بےسہارہ خواتین کے حق میں بولنے لگے۔ لیکن سنگدل معاشرے نے نا تو علماء کی سنی اور نا ہی بہنوں کی۔ بہنوں کے ساتھ سماجی و معاشی جبر، ناروا  و زیادتی کا یہ سلسلہ اب ملک بھر کے اندر وبائی مرض کی طرح پھیلنے لگا ہے۔ جس کے بروقت سدباب کیلئے عدالتوں کو کردار ادا کرنا چاہیئے۔

سوچ رہا ہوں عورتوں کے حقوق کے بارے میں آغاز و اختتام کہاں سے کیا جائے اس مقدس رشتے  کو روز اول سے زرعی مشینری کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ 

 دیامر میں نصف صدی سے خواتین کو مذکورہ بالا تمام حقوق سے محروم رکھنے اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ان سے کچھ ایسے کام بھی کروائے جاتے ہیں، جو باقی دنیا میں مرد حضرات ان کاموں کو سرانجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک عورت کو جہاں بےشمارگھریلو ذمہ داریوں سمیت کئی ایسے معاملات جن میں اولاد کی اچھی تربیت، مال مویشی گائیں بھینسوں سے دودھ دوہنے کی زمہ داری ہے، وہیں پر اس کو کھانا پکانے اور آگ جلانے کیلئے جنگل سے کئی کلو میٹر پیدل سفر طے کرکے لکڑیاں لانے، گھاس کٹائی کروانے، آٹا پسائی کروانے، جیسے کام بھی کروائے جارہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق خواتین سے یہ سب کروانے کی وجہ سے علاقے میں قبائلی دشمنیاں اور تعلیم سے دوری ہے۔

دیامر کے تمام نالہ جات میں 50 فیصد لوگ ایسے ہیں جو ذاتی دشمنیوں کے باعث گھروں سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں اور ڈوڈشال نامی ایک علاقہ ہے جہاں دشمن ہر وقت ایک دوسروں کے باہر نکلنے کے انتظار میں مورچہ زن بیٹھے ہوتے ہیں۔ تاکہ وقت ضائع کیئے بغیر بدلہ لیا جاسکے اور سب سے بڑی وجہ دینی تعلیمات اور معاشرتی ہم آہنگی سے دوری ہے۔

 ان سب کے پیچھے وہ بھیانک چہرے ہیں۔ جو ان عورتوں کو یہ سب کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔اگر کوئی عورت مذکورہ بالا ذمہ داریوں سے خود کو مبرا ٹھہرائے  یا کام کرنے سے انکار کرے تو اس کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں طعنے دیئے جاتے ہیں جملے کسے جاتے ہیں۔ حتی کہ بعض گھروں میں کھانا تک نہیں دیا جاتا ہے،  مہینوں تک شوہر کے قریب نہیں آنے دیا جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی احکامات کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟

 کیا یہ مہذب معاشروں کے منافی نہیں کہ ایک تو صنف نازک سے ہر وہ کام لیا جائے جو ناجائز ہو معاشرہ اور اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ حقوق کی اس جنگ میں عورت نامی مظلوم، خلق خدا اپنا حق رائے دہی بھی اپنی مرضی سے نہیں دے پاتی۔ دیامر سیاسی اعتبار سے گلگت بلتستان میں انتہائی اہمیت کا حامل ضلع ہے۔ جس کی آبادی ساڑھے تین لاکھ ہے اور یہ ضلع چار حلقوں میں تقسیم ہے۔ جن میں حلقہ 1 تھک نیاٹ گوہرآباد، حلقہ 2 چلاس، حلقہ 3 داریل، حلقہ چار تانگیر ہے۔ ان چاروں حلقوں سے نمائندے مختلف وفاقی پارٹیوں کے ٹکٹ سے الیکشن لڑتے ہیں۔

لیکن قابل غور اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ دیامر حلقہ 4 تانگیر کے علاقے میں خواتین گزشتہ 70 سالوں سے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کرسکتی ہیں۔ ان کو پولنگ اسٹیشن جانے پر قتل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ حتی کہ گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت تک نہیں ملتی۔ اس علاقے میں باہر کی ذمہ داریاں اکثر مردوں کے کندھوں پر ہیں۔ 

خواتین کو ان کے حقوق سے دور رکھنے پر کئی دفعہ مقامی سماجی تنظیموں اور ان کے ہم خیال کارکنوں نے آواز اٹھائی ہے مگر سیاسی مفاد پرست پنڈتوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی الٹا ان کو بھی قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی۔ وہاں کے پڑھے لکھے طبقے کے لوگ ان کی دھمکیوں کو جوتی کے نوک پر رکھ کر آواز حق بلند کرتے رہے تاہم 

201

 مقامی سیاسی نمائندوں نے مجبوراً متفقہ فیصلہ کر لیا کہ آمدہ انتخابات میں یہاں کے خواتین مخصوص پولنگ اسٹیشن پر مخصوص ووٹ کاسٹ کریں گی۔ ہر امیدوار کو برابر ووٹ کا حق حاصل ہوگا۔ جب گلگت بلتستان کے الیکشن سر پر پہنچے تو دیامر کے تمام سماجی تنظیموں نے پھر سے مطالبہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ یہاں کے خواتین اس دفعہ کھل کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کریں گی۔ مگر ووٹ کاسٹ ہونے کے دن سیاسی نمائندوں نے علماء کو استعمال کرکے ان کے ذریعے وہی کیا جو ان کو اچھا لگا۔ جب بات میڈیا کی زینت بنی تب اس بات کا اندازہ ہوا کہ دیامر کے علاقے تانگیر میں خواتین حق رائے دہی سے محروم ہیں؟

راقم  اس وقت معروف ملکی الیکٹرانک میڈیا چینل جی این این ٹی وی میں بطور رپورٹر کام کررہا تھا الیکشن کوریج کیلئے ہائی اسکول چلاس پولنگ اسٹیشن چلا گیا۔ تو مجھے چینل کے ہیڈ آفس سے کال آئی کہ دیامر حلقہ 4 تانگیر میں خواتین ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتی کیا وجہ ہے؟

تو میں فوراً ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سیشن جج ممتاز سے سوال کرنے لگا کہ جو میرے دائیں جانب کھڑا ووٹر سے ان کے مسائل پوچھ رہا تھا۔

تو ڈی آر او  نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں وہاں خواتین ہر پولنگ میں ووٹ کاسٹ کررہی ہیں۔ حالانکہ ڈی آر او  کو پتہ ہونے کے باوجود جواب میں  جھوٹ ملا دینے پر اکتفا کیا

زنانہ حقوق کی اس طویل بحث کا نتیجہ آنے والا وقت ہی تعین کرے گا کہ معاشرہ ان ساری محرومیوں کے ازالے کے لئے کس سمت سفر جاری رکھے گا۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ دیامر میں خواتین کے حقوق کے علمبردار، تھور یوتھ آرگنائزیشن کے چیئرمین فدااللہ راج جو ہمیشہ خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں۔ انہوں  نے حالیہ دنوں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب ووٹ کاسٹ کرنے، تعلیم حاصل کرنے، اولاد کی اچھی تربیت کرکے ایک اچھے اور پائیدار معاشرے کی بنیاد رکھنےسے یا اسکول اور کالج جانے سے فحاشی پھیلتی ہے، اور میراث اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کو حقوق سے محروم رکھنے سے معاشرے میں آپ کی حوصلہ آفزائی ہوتی ہے، یا آپ کو ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے تو میں بحثیت باسی خطہ بےآئین ایسے معاشرے سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں کہا کہ مذکورہ بالا تمام حقوق سے اگر عورت کو محروم رکھا جاتا ہے تو پھر ان سے کھیتی باڑی کیوں کروائی جاتی، ان کے نازک کندھوں پر جنگل سے لکڑیاں کیوں سپلائی کروائی جاتی ہے ، میرے نزدیک اصل میں غیرت کا تقاضا تو یہی ہے کہ عورت کو اسلام نے جو حقوق عطا کیے ہیؔں انکو اس سے محروم نا رکھیں۔ ان کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیں۔ مگر افسوس ان درندہ صفت مردوں پر ، جن کے نزدیک عورت کا وہ مقام ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے عرب معاشرے  میں تھا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ معاشرہ ہمیں کچھ بھی کہے ہم معاشرے کی مظلوم اور بیوہ ماں بہنوں کے حقوق کے لئے تب تک آواز اٹھاتے رہیں گے۔ جب تک دیامر کے اندر خواتین کو ان کے پورے حقوق اور جائز مقام نہیں ملتا۔ 

قارئین کرام  خواتین کا معاشرے میں ایک اہم کردار ہے۔ ایک عورت کا بنیادی کردار اس کے گھر سے شروع ہوتا ہے جہاں وہ ایک بیوی اور ایک ماں کی حیثیت سے عمل کر رہی ہوتی ہے یا مستقبل کی ماں کی حیثیت سے اگر ابھی شادی نہیں ہوئی۔ جب وہیں سے مذکورہ بالا حقوق غضب ہونا شروع ہوں گے تو پھر آگے جاکر وہ ایک اچھی خاندان کی بنیاد کیسے رکھ سکے گی۔

لہذا اس المناک اور خوفناک سماجی  صورت حال میں سماجی تنظیموں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں،اور معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ میری دھرتی کے خواتین ہر شعبے میں کسی سے کم یا پیچھے نہیں ہیں۔ ہماری خواتین ذہانت، پختگی، شائستگی، مہمان نوازی، عزم و ہمت کی عظیم مثال ہیں۔ اگر کمی ہے تو شعور اور تعلیم و تربیت کی۔ اب بھی وقت ہے آگے بڑھیں اور پرامن پائیدارمعاشرے کی تشکیل میں اپنے حصے کا دیا جلائیں۔ وگرنہ جہالت کا یہ امڈتا سیلاب ہم سے مستقبل کا ایک متوقع امید بھی چھین جائیگا اور ہم بطور معاشرہ ایک ہجوم سے زیادہ کچھ کہلائے جانے کے قابل نہیں ٹھہریں گے۔