وقاص احمد

“عمران خاں نیک نیت انسان تھا”،”عمران خاں مخلص انسان تھا”،”عمران خاں ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا”،”عمران کے پاس بس صرف تجربہ اور اچھی ٹیم نہیں تھی ورنہ اس سسٹم کو بدلنے کی لگن پورے پاکستان میں صرف اس میں تھی”،”عمران خاں پاکستان کے عوام کی آخری امید ہے”،”عمران بےچارہ اپنی عادت اور دعوے کے برخلاف اس دو ٹکے کی قوم کی خاطر ملک ملک بھیک مانگ رہا ہے”،”مافیاز عمران کو ناکام بنا رہے ہیں”،”عمران ہماری واحد امید ہے جس کا کوئی متبادل نہیں” وغیرہ وغیرہ۔ 

اگر کچھ  جملے باقی رہ گئے ہوں جو خاں صاحب کی شان میں قصیدہ گوئی کرتے لوگ استعمال کرتے ہیں تو انہیں بھی شامل کر لیجیے لیکن ذرا رکیے!  کیوں ناں ان جملوں کا غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کرلیں؟ خاں صاحب کو نیک نیت اور مخلص قرار دینے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن کوئی یہ تو سمجھائے کہ یہ نیک نیتی اور اخلاص رنگ کیوں نہیں لاتے؟ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ صرف لیڈر نیک نیت اور مخلص ہونا چاہیے باقی سب کچھ خودکار طریقے سے ہوتا جاتاہے، ہے ناں!

  کیا کہا؟ مافیاز خاں صاحب کو ناکام کر رہے ہیں!   کون سے مافیاز؟. چینی، آٹا، ادویات وغیرہ والے مافیا!  مگر وہ تو خاں صاحب کے ساتھ شریک اقتدار ہیں، ہے ناں! کیا کہا؟ وہ مافیاز زرداری اور نوازشریف کے ساتھ بھی اقتدار میں شامل تھے؟  بالکل درست، تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسی مافیا نے نواز و زرداری سمیت ہر حکمران کو ناکام کیا، قصور حکمران کا نہیں مافیاز کا ہے؟ دیکھیے اب ہم مفروضات میں دہرے معیار تو نہیں رکھ سکتے۔ جو معصومانہ رعایت خاں صاحب کو حاصل ہے وہی بقیہ سب کو دیں۔

کیا کہا؟ خاں صاحب سسٹم تبدیل کرنے آئے تھے؟  تو پھر مافیاز سے ہاتھ نہ ملاتے، سسٹم تبدیل کر لیتے، کس نے روکا تھا؟. کیا کہا؟ مافیاز کے بغیر اقتدار میں آنا ممکن نہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں، اگر اقتدار ہی آپ کی منزل تھی تو پھر زرداری و نواز پر طعن و تشینع کی وجہ سمجھا دیں، یا یہ بتا دیں کہ آپ میں اور ان میں فرق کیا ہے؟

کیا کہا؟ لیڈر مخلص اور ایماندار ہو تو نیچے سب ٹھیک ہوجاتا ہے؟ چلیں وہ جو “سب ٹھیک”  ہو رہا ہے اس کی کوئی ایک یا آدھی مثال ہی دکھا دیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہی خسرو بختیار پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں برسر اقتدار تھا لیکن چینی اور آٹے کی گنگا میں اشنان کرنے کے لیئے اسے کرپٹ چوروں کے دور میں ہمت نہ ہوئی بلکہ “مخلص اور ایماندار”  خاں صاحب کا انتظار کرنا پڑا، کیوں؟

کیا کہا؟ یہ لوگ حکومت گرانے کی دھمکی سے خاں صاحب کو بلیک میل کرتے ہیں؟ تو آپ نا ہوئیے بلیک میل، کس نے کہا بلیک میل ہونے کو؟ آپ سے زیادہ جی دار تو وہ چور نواز نکلا جس کو بلیک میل کرنے کے لیئے اس کی پارٹی کی ٹانگیں اور بازو ایک ایک کر کے توڑے جاتے رہے، وہ اقتدار سے بے دخل ہوکر جیل پہنچ گیا لیکن بلیک میل نہیں ہوا۔ زیادہ پرانی بات نہیں، سب کو یاد ہے۔

کیا کہا؟ “مقتدر حلقے” دھونس جما کر خاں صاحب کو ان کی مرضی کی پالیسیاں نہیں بنانے دے رہے اس لیئے خاں صاحب کا ویژن ادھورا ہے؟. مان لیتے ہیں! تو پھر یہی رعایت سدا سے اسٹیبلشمنٹ کے زیر عتاب زرداری کو بھی دے دیں۔ پھر تو یہ رعایت اس نوازشریف کو بھی ملنی چاہیے جو اسی اسٹیبلشمنٹ کو اس کی حدود میں رکھنے کی کوشش کی پاداش میں جیل بھگت رہا ہے۔

کیا کہا؟ اعلیٰ عدلیہ تنگ کرتی ہے؟  اچھا ذرا سوچ کر بتائیے گا کہ جو افتخار چوہدری نے پی پی پی کے ساتھ کیا یا جو ثاقب نثار نے ن لیگ کے ساتھ کیا اس کا 0.1٪ بھی آپ کے ساتھ ہوا ہے ابھی تک؟ کیا کہا؟ میڈیا خاں صاحب کی ٹانگیں کھینچتا ہے؟ چلیے! ذرا 2008 سے 2018 کے ٹاک شوز کی سمری ویڈیو بنا کر خود بھی دیکھیں اور خاں صاحب کو بھی دکھائیں تاکہ آپ کو “ٹانگیں کھینچنے” کا اصل مطلب معلوم ہو۔

کیا کہا؟ پچھلے حکمران قرضہ بہت چھوڑ گئے ہیں؟ چلیں ہم قرضوں کی مقدار اور ان کے فوائد و نقصانات کی بحث چھوڑ دیتے ہیں۔ صرف اتنا بتا دیں کہ کیا یہ لولی لنگڑی دلیل ہر آنے والا حکمران اپنے سے پچھلے حکمران کے بارے میں نہیں دے سکتا کہ پچھلے لوگ بہت قرضہ چھوڑ گئے ہیں۔ آپ ناں لیتے قرضہ اور چلا لیتے یہ ملک اسی طرح جس طرح کے دعوے آپ تقریروں میں کرتے تھے۔

کیا کہا؟ بیوروکریسی کام نہیں کرتی؟  حضور والا! بیوروکریسی کام کرتی نہیں، ان سے کام لینا پڑتا ہے اور کام لینے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو خود بھی کام آتا ہو۔ یہی اصل لیڈر اور مینیجر کا کام ہے۔ آپ سے کام نہیں ہوتا تو نہ کریں مگر اپنی نااہلی کا الزام دوسروں پر مت ڈالیں۔ کیا کہا؟ پچھلے حکمران کرپٹ چور اور لٹیرے تھے، جبکہ خاں صاحب صاف، کھرے، سچے، مخلص اور ایماندار ہیں۔ 

ٹھیک ہے، ہم دونوں “مفروضات” مان لیتے ہیں۔ چاہے ہمارے پاس ثبوت نام کی ایک دھیلی بھی نہ ہو لیکن مان لیتے ہیں کہ پچھلے تمام حکمران چور تھے اور خاں صاحب ولی اللہ ہیں۔ بس اتنا سمجھا دو کہ اگر کسی چور کے دور میں مجھے روٹی روزگار ملتا تھا، ملک کا پہیہ چلتا تھا، خوشحالی صاف نظر آنا شروع ہوگئی تھی، جی ڈی پی عروج پر تھا، اسٹاک مارکیٹ عروج پر تھی، اچھے مستقبل کے دھندلے خواب نظر آنا شروع ہونے ہی تھے، ترقیاتی منصوبے عروج پر تھے، لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوتا جارہا تھا اور مہنگائی کم ہوتی تھی تو کیا مجھے اور میرے ملک کو وہ لائق چور وارے کھاتا ہے یا وہ نااہل ونالائق مخلص، نیک، ایماندار، باکردار، صالح اور صاف نیت خاں صاحب؟  جن کے دور میں بے روزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر، قرضے لینے کی اوسط بلند ترین سطح پر، شرح سود بلند ترین سطح پر، مہنگائی بلند ترین سطح پر، کاروبار بند، معیشت ٹھپ، مافیاز کے کھلے کھانچے، اقرباء پروری اپنے عروج پر اور نااہلیت اپنی معراج کو چھو رہی ہے۔

جواب سوچ سمجھ کر دیجئے گا کیونکہ اگر اب بھی آپ کا جواب خودساختہ مخلص و ایماندار کے حق میں ہے تو اس کی وجوہات پوچھنا ہمارا حق ہے کیونکہ آپ کی طرح یہ ہمارا بھی ملک ہے۔

آخری بات ان جغادری صحافیوں اور سستے ملاؤں کے لیے جن کی زبانیں آج بھی “مخلص, دردمند و ایماندار” کی تسبیح کرنے سے نہیں رکتیں کہ اگر شیخ چلی کی ڈینگیں کسی بندے کے ویژن، عظمت، اخلاص، درد، کمٹمنٹ، تبدیلی کا نشان، اینٹی اسٹیٹس کو کی علامت ہوتی ہیں تو راوی کے پل کے نیچے بیٹھے کسی بھنگی چرسی کو وزیراعظم بنا دیں۔ وہ بھی عالم مدہوشی میں اس سے بڑی بڑی ڈینگیں مارے گا۔ وہ چار سو ارب ڈالر باہر سے لانے، 200 ارب روپے روزانہ کی کرپشن روکنے اور 40 ہزار ارب روپیہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے دعوے بھی کر دے گا۔ کیا آپ اس چرسی کو وزیراعظم بنانے اور مخلص ایماندار دردمند ویثنری اور آخری امید سمجھنے کو تیار ہو جائیں گے؟  اگر نہیں تو سمجھ جائیں کہ شیخ چلی کی طرح ڈینگیں مارنے اور زمینی حقائق کے مطابق ملک چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جب سر پر پڑتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دال کس بھاؤ پڑتی ہے، قرضہ کیوں لیتے ہیں، پیسے کدھر خرچ ہوتے ہیں، بجٹ کیسے بنایا جاتا ہے اور بڑا حصہ کون چھین کر لے جاتا ہے، پریشر گروپس کو کیسے ترلے کرکر کے رام رکھا جاتا ہے، مافیاز کو کیسے من مانی سے روکا جاتا ہے، تعمیراتی منصوبے کیوں اہم ہوتے ہیں، ٹیکس کس مشکل سے اکٹھا ہوتا ہے، بیوروکریسی سے کیسے کام لینے پڑتے ہیں، دوسرے ممالک سے معاہدے کس طرح طے کیئے جاتے ہیں کیونکہ جب تک آپ کو یہ سب خود بھگتنا نہیں پڑتا، اس وقت تک کوئی ڈھکن چور نشئی بھی کنٹینر کے سنگھاسن پر چڑھ کر اپنے آپ کو امت مسلمہ کا لیڈر، ریفارمر، درد مند، مخلص ریاست مدینہ ثانی کا والی اور تبدیلی کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا ملے گا پر عوام سرتاپا عرض گزار رہتی ہے کہ راجہ جی اب سنگھاسن سے اترو بھی ناں! 

Previous articleکرونا اور جدید دنیا
Next articleپراپرٹی ڈیلروں کا المیہ