وقاص احمد

میں ایک مشہور شاپنگ سینٹر گیا۔ شیشے کی دکانوں سے جھلکتے دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے جوتے، کپڑے، گھڑیاں، سامان آرائش، بیش قیمت ہیروں سے مزین جیولری دیکھ دیکھ کر میرے ”جذبات“  قابو سے باہر ہورہے تھے۔ کھانے پینے کی شاندار انٹرنیشنل چینز سے اٹھتی ہوئی اشتہا انگیز خوشبو میری بھوک بھڑکا رہی تھی۔ دکانداروں کی اس دیدہ دلیری، انتہائی بے شرمی سے اپنے اپنے مال کی کھلے عام نمائش سے میرے جذبات بھڑک رہے تھے اور ملک میں مسلسل ہونے والی ڈکیتی کی وارداتیں دعوت گناہ دے رہی تھیں۔ میں ربوٹ تو نہیں تھا کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھ پاتا لیکن پھر بھی ہمت کرکے ان دکانوں کے بیچ سے گزرتا گیا۔ جب میری حد درجہ کمزوری، پرفیومز کی دکانوں کا سلسلہ شروع ہوا تو میرے اندر کا حیوان غالب آگیا۔ آخر میرا قصور ہی کیا تھا، یہ تو وہ دکانیں اور ان دکانوں سے اٹھتی سحر انگیز خوشبوئیں تھیں جو مجھے دعوت گناہ دے رہی تھی اور ظاہر ہے میں روبوٹ تو نہیں تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور دیوانگی کے عالم میں ایک دکان پر ٹوٹ پڑا۔ ابھی میں دکان کے دروازے تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ شاپنگ مال کی سیکیورٹی میرے سر پر پہنچ گئی، ایک زور دار تھپڑ میرے کان کے نیچے مارا اور مجھے گھسیٹتے ہوئے شاپنگ مال سے باہر لے گئے۔

میں نے انہیں بہت سمجھایا کہ میرا کوئی قصور نہیں۔ قصور ان دکانداروں کا ہے، قصور ان کپڑوں، گھڑیوں، پرفیومز کا ہے جو میرے جذبات بھڑکا رہے ہیں۔ اپنی صفائی میں میں نے کپتانِ اعظم کا ویڈیو کلپ بھی دکھایا اور سمجھایا کہ مفکر اعظم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مرد روبوٹ نہیں ہوتا، اس کے جذبات ہوتے ہیں جو اس ترسے ہوئے ملک میں باآسانی بھڑک بھی سکتے ہیں۔ اس لیئے میرے بے قابو جذبات کو فطری سمجھا جائے۔ لیکن ظالموں نے ایک نہ سنی۔ مار مار کر مجھے دنبہ بنا دیا۔ اتنا مارا، اتنا مارا کہ میری طرح کے جتنے جذباتی حضرات، جن کے جذبات بے قابو ہو رہے تھے انہوں نے شاپنگ کے ساتھ ساتھ سیلزمین کو اضافی ٹپ، مسکراہٹ اور شکریہ بھی ادا کرنا شروع کر دیا۔

خیر جب میرے جذبات اچھی طرح ”ٹھنڈے“ ہوگئے تو سیکیورٹی کے انچارج نے مجھے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا ”پتر! یہ لاہور، کراچی، اسلام آباد کی سڑکیں نہیں، ایک مشہور شاپنگ مال ہے۔ اس شاپنگ مال کا مالک تمہارا بے شرم مفکر اعظم نہیں بلکہ ایک مشہور بزنس مین ہے۔ اس نے ہمیں د و ٹوک ہدایات دیں ہیں کہ یہاں اگر کسی کے ”جذبات“ بھڑکنے کی کوشش کریں تو اس کی ایسی دھلائی کرو کہ باقی زندگی روبوٹ بن کر گزارے۔ اب دفع ہو جاؤ اور دوبارہ یہاں نظر نہ آنا“۔