عاطف توقیر

شکر ہے کہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور کمیونیکشن کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہے، ورنہ مودی کی متحدہ عرب امارات کے حکم رانوں سے بغل گیریاں، مصافحے، سرخ قالین کے ساتھ استقبال، سلامی، اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ اور قہقہے ان کے پیلٹ گنوں سے چھلنی وجود سے زیادہ ان کے دل چھلنی کر دیتیں۔

اس سے قبل مودی نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، تو وہ ویڈیوز اور تصاویر اب تک موجود ہیں، جن میں بادشاہ سلمان خود مودی کو لینے ان کی گاڑی تک موجود تھے اور پھر انہیں سلامی کے چبوترے پر لے جا کر شان دار استقبال کیا گیا تھا۔

انہیں عرب ملکوں کے رہنما کچھ عرصے قبل پاکستان آئے تھے، تو ان کا ایسا ہی شان دار استقبال کیا گیا تھا بلکہ وزیراعظم عمران خان خود ان کے لیے گاڑی چلاتے نظر آئے تھے۔ مگر جب عمران خان ان ممالک میں گئے، تو وہاں ان کے لیے کسی قسم کا کوئی استقبال نہیں تھا۔ ابھی امریکا کے دورے میں بھی عمران خان کو لینے کے لیے صرف پاکستانی سفارت خانے کے لوگ تھے اور چین میں شاہ محمود قریشی کو خدا حافظ کہنے والا ایک ہوٹل کا اسٹاف تھا۔

یہاں سوال خود سے کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا ہو کیوں رہا ہے؟ ہمارے حکم ران اور حکم رانوں کی زبان بولنے والا میڈیا کیوں قوم کو بتانے میں ناکام ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مکمل تنہائی کا شکار ہے۔ کوئی ملک نہ پاکستان کے نکتہ نظر کو اہم سمجھنے پر تیار ہے اور نہ ہی عالمی اسٹیج پر کسی معاملے میں ہماری کسی رائے کی ضرورت سمجھتا ہے؟

اس کا ایک جواب تو سطحی اور سادہ سا ہے، جو آپ اپنے آس پاس عموماﹰ سنتے بھی ہوں گے۔ وہ یہ کہ پاکستان اقتصادی طور پر نہایت کم زور ہے اور اسی لیے اس کی سیاسی قوت بھی عالمی سطح پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ شاید آپ نے یہ بھی متعدد مرتبہ سنا ہو کہ سیاست دان ملک لوٹ کے کھا گئے، اس لیے ملک اقتصادی طور پر تباہ ہو گیا۔ مگر اس سوال کا اصل جواب اس صورت حال کو باریکی سے دیکھنے میں مضر ہے۔

سیاست اور اقتصادیات دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ سیاسی بحران ہو گا، تو معیشت تباہ ہو گی اور اقتصادی بحران ہو گا تو سیاست متاثر ہو گی۔ دنیا میں ہر اس ملک کی عزت ہے، جہاں سیاسی استحکام ہو۔ جوں ہی کوئی خطہ سیاسی استحکام کی جانب بڑھے، وہاں اقتصادی سرگرمیوں خود بہ خود جنم لے لیتی ہیں۔

پاکستان میں پے در پے غلط پالیسیاں اپنائی گئی، جو پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کا سبب بنی ہیں اور بن رہی ہے۔ یہ بدقسمتی نہیں تو کیا ہے کہ ہم ماضی سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں اور بار بار غلطیاں دوہرا رہے ہیں۔

پاکستان بننے کے بعد اگر یہاں عسکری مداخلت کا راستہ روکا جاتا اور مضبوطی کے ساتھ جمہوریت پر چلا جاتا، یعنی ملک کی حاکمیت اعلیٰ عوامی نمائندوں کے پاس رہتی اور ملک کی قسمت کے فیصلے ملک کی عوام کے نمائندے کرتے، تو حالات آج سے بالکل مختلف ہوتے۔ کیوں کہ ہم نے تمام ایسے فیصلے جن کی وجہ سے عالمی سطح پر ہمیں سبکی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستانی قوم کی رائے پوچھے بغیر کیے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ہمارے ہاں سیاست دانوں، جرنیلوں اور افسروں کا ایک خاص طبقہ اپنی جیبیں تو بھر چکا، مگر دنیا میں پاکستان کو بالکل الگ تھلگ کر کے رکھ دیا گیا۔

اب حالت یہ ہے کہ ہم ایٹمی قوت ہیں، مگر بجلی نہیں ہے۔ ہم دنیا کی چھٹی ساتویں بڑی فوج ہیں، سکیورٹی نہیں۔ ہم دنیا کی بہترین زمین رکھتے ہیں خوراک نہیں۔ پانچ بڑے دریا ہیں، پانی نہیں۔ ساٹھ فیصد کے قریب نوجوان ہیں، روزگار نہیں۔ دنیا کے حسین ترین علاقے ہیں، سیاحت نہیں۔ انتخابات ہوتے ہیں، جہوریت نہیں۔ عدالتیں ہیں، انصاف نہیں۔ اسکول ہیں، تعلیم نہیں۔

آپ خود سے پوچھیے ایسے کسی ملک کو دنیا میں کس نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے؟

کشمیر میں بیس روز سے کرفیو ہے۔ وہاں کمیونیکشن اور رابطوں کا تمام نظام مفلوج ہے۔ وہاں اس کے باوجود لوگ باہر نکل کر مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کے جسم دھاتی چھروں سے چھلنی ہو رہے ہیں۔

کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف نکتہ ہائے نظر کے ہیں، کچھ آزادی کے حامی ہے، کچھ بھارت سے الحاق کے بھی حامی ہیں اور کچھ پاکستان سے الحاق بھی چاہتے ہیں، مگر اس بحث کو ایک طرف رکھ کر میں آپ سے ایک جذباتی بات شیئر کر رہا ہوں۔

کچھ روز قبل برطانیہ میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی تو سری نگر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی ہمارے درمیان آ بیٹھی۔ بولی ہم نے پوری زندگی پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھے ہیں۔ ہم نے پوری زندگی پاکستان کی طرف دیکھا ہے۔ پاکستان دکھی ہوا، تو ہم دکھی ہوئے، پاکستان خوش ہوا، تو ہم نے جشن منایا۔ پاکستان نے کھیلوں کا کوئی میدان مارا تو پرچم لے کر ہم ناچنے لگے۔ کوئی مرا تو اس پرچم کو کفن کی طرح وجود سے لپیٹا گیا۔ بولی ہم خود کو پاکستانی سمجھتے رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جب اگلی بار میں اس لڑکی سے ملوں گا، تو اسے کیا جواب دوں گا؟

کشمیریوں پر ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر ہم بہ طور ریاست کیا کر پائے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی رہنماؤں نے اس فیصلے سے پہلے تسلی کر لی ہو گی کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی حالت میں ہے کہ وہ اس کے جواب میں کچھ بھی کرنے لائق نہیں۔

بھارتی سرکار کو یہ بھی مکمل ادراک ہو گا کہ پاکستان پر عالمی سطح پر دہشت گردی کی معاونت، عسکریت پسندی کی پشت پناہی، شدت پسندی کی حوصلہ افزائی اور اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے جیسے الزامات لگ رہے ہیں، فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں ڈال کر اکتوبر تک کی مہلت دے رکھی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے، دوسری صورت میں اسے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔

اس صورت حال میں پاکستان امریکا کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں معاونت فراہم کر کے ایف اے ٹی ایف میں اپنی جان بچانے کی فکر میں ہے۔ وہ کشمیر کے لوگوں کی کیا مدد کر سکتا ہے؟

دوسری جانب بھارت میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے کہ وہاں اس وقت انسانی حقوق کی بات کرنے والوں ہی کو غیرملکی ایجنٹ اور پاکستانی اور غدار اور جانے کیا کیا کچھ کہا جا رہا ہے۔ کچھ روز قبل ایک کانفرنس میں بھارتی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی، ان سب نے اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بڑھتی شدت پسندی اور مودی سرکار کی وجہ سے ہندو قوم پرستی میں اضافے پر شدید تشویش ظاہر کی، تاہم خوف کی فضا کا عالم دیکھیے کہ ان سب نے کیمرے کے سامنے یہ گفت گو کرنے سے انکار کر دیا کیوں کہ انہیں خوف تھا کہ واپسی بھارت پہنچنے پر انہیں جانے کیا کیا القابات دے دیے جائیں گے۔

ہمیں اس سے سبق صرف یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوں؟ کیسے ملک کو مضبوط بنایا جائے کہ ہماری بات کی اہمیت ہو۔ کیسے اپنی اقتصادی قوت کو جڑ فراہم کی جائے؟

اس کے لیے ہمارے پاس چند حالیہ مثالیں موجود ہیں۔ پہلی مثال ہے انڈونیشیا کی۔ وہاں کئی دہائیوں تک جنرل سہارتو کی آمریت ختم ہوئی، تو وسیع تر اصلاحات کی گئیں، جن کے ذریعے فوج سمیت تمام اداروں کے کردار کو محدود کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی شروع ہو گئی۔ اب انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کی ایک مضبوط اقتصادی قوت ہے۔

بنگلہ دیش کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان سے آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد وہاں مارشل لا لگا دیا گیا اور پھر وہاں بھی غربت کا ناچ جا رہی ہے۔ تاہم آخر وہاں سیاسی اصلاحات کر کے فوج کو سیاست سے دور کیا گیا اور تمام اداروں کے لیے دائرے طے کیے گئے، نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والا ملک ہے اور کوئی انڈیکسز میں وہ بھارت کی معیشت کو بھی پیچھے چھوڑ رہا ہے۔

ایتھوپیا اور ترکی کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ جہاں جہاں سیاسی اصلاحات کر کے فوج کی سیاست میں مداخلت کو محدود کیا گیا ہے، وہاں سیاسی استحکام پیدا ہوا ہے اور نتیجہ تیز رفتار اقتصادی ترقی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

اب راستہ ہمارے سامنے ہے۔ آیا ہم وہی کچھ کرتے رہیں، جو پچھلے بہتر سال سے جاری ہے یا اب اپنی سمت تبدیل کر کے ایک جمہوری اور دستوری ملک کی بنیاد ڈالیں۔ اگر وہی کچھ کرنا ہے، جو ہوتا رہا ہے، تو پھر وہی کچھ ہوتا رہے گا، جو ہوتا آیا ہے اور جو اس وقت ہو رہا ہے۔

اگر وہ کچھ نہیں کرنا ہے، جو کیا جاتا رہا ہے، تو پھر سیاسی اصلاحات کرنا ہوں گی، فوج کو کاروبار، سیاست اور دیگر شعبوں سے الگ کر کے اسے اس کے دستوری دائرے میں واپس بھیجنا ہو گا اور ملک کو حقیقی جمہوریت کی جانب لے جانا ہو گا۔ یاد رکھیے اس وقت اگر کشمیر کے لوگوں کے لیے پاکستان کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے، تو کل شاید اس سے زیادہ سخت وقت بھی ہمارا منتظر ہو سکتا ہے۔