سعید احمد

ہمارے ملک میں آج کل سوشلزم کا بہت چرچا ہے بہت سارے سیاسی لیڈران پاکستان میں سوشلزم لانا چاہتے ہیں۔ بہت سارے طلباء سوشلزم کو اس ملک کے گونا گوں مسائل کا حل سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ سوشلزم سے ہی ان ملکی مسائل کا حل ممکن ہے۔ آخر سوشلزم ہے کیا چیز؟

ہر شخص سوشلزم کو اپنے طور پر سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سوشلزم غریبی کو دور کرنے کا سب سے کارآمد طریقہ ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سوشلزم جمہوریت اور مذہب کے خلاف تحریک ہے۔ کچھ لوگ اسے کمیونزم سمجھتے ہیں توکچھ لوگ اسے غیر ملکی تحریک گردانتے ہیں۔ مختصرا ً یہ کہ کچھ لوگ ہمارے ملک میں سوشلزم کو اچھا سمجھتے ہیں اور کچھ انتہائی برا آخر یہ سوشلزم ہے کیا؟ اچھا ہے یا برا یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ سوشلزم ہے کیا؟

آغازِ تاریخ سے پہلے شکار کے دور کا انسان ایک مجموعی اشتراکیت کا پابند رہا ہے۔ تاریخ ِانسانی بتاتی ہے کہ جب انسان غاروں اور پتھروں کے دور سے آگے بڑھا اور اس نے اوزار بنانا لیئے تو وہ شکار کو بھونتے وقت دائرے کی شکل میں پورے قبیلے کے ساتھ خوشی سے ناچتا تھا پھر سب مل کر اس شکار کو کھاتے، یہ اشتراکیت کی ابتدائی صورت تھی۔ گویا یہ ایک بغیر کلاس کے معاشرہ تھا جس میں وسائل کی  منصفانہ تقسیم تھی جس میں کسی بھی فرد کا استحصال نہ ہوتا تھا۔

سوشلزم کی تعریف بھی کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ شخصی ملکیت کے تصور اور اجتماعی ملکیت کا فلسفہ جس میں معاشرے کے افراد میں ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو سوشلزم کہلاتا ہے۔ ہوسِ زر، خود غرضی اور ملکی وسائل پر قبضے کی خواہش اشتراکی فلسفے کے عملی نفاذ کے راستے میں ہمیشہ رکاوٹ رہے ہیں۔ زرعی اور صنعتی انقلاب میں تمیز بندہ و آقا ہمیشہ برقرار رہی ہے۔ مزدور صنعتکار کے ہاتھوں، مزارعہ جاگیردار کے ہاتھوں استحصال کا شکار رہا۔ قوموں کو سیاسی آزادی تو مل گئی لیکن اکثر اقوام ابھی تک معاشی آزادی کے لیئے ترستی ہیں اور معاشی شکنجے میں اس طرح سے جکڑی ہوئیں ہیں کہ ان کا نکلنا محال ہے۔ سوشلزم کا نام اٹھارویں صدی میں یورپ میں فرانسیسی انقلاب سے رائج ہوا۔ اس وقت بہت سارے مفکرین نے سوشلزم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن سوشلزم کی جامعہ وضاحت پہلی بار کارل مارکس نے 1848میں اپنی مشہور کتاب ‘”کمیونسٹ مینوفیسٹو“ میں پیش کی۔ مارکس کا یہ نظریہ سائنٹیفک سوشلزم کہلایا۔ اس نظریے کا ایک پہلو طبقاتی جدوجہد آج زیر بحث ہے۔ طبقاتی جدوجہد پر بحث کرنے سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ طبقات کیا ہیں؟

طبقے سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جن کا اقتصادی مفاد مشترک  ہے ہمارے ہاں عام طور پر لوگ یہ سمجھتے  ہیں کہ سب انسان خدا کے بندے ہیں اور سب مل جل کر ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ مالدار لوگ اپنی دولت خرچ کر کے زمین کارخانے اور فیکٹریاں خریدتے ہیں۔  اور دوسری طرف مزدور فیکٹریوں میں کام کرکے کسی دکان پر مزدوری کر کے کھیتوں میں مزدوری کرکے اپنی روزی کماتا ہے۔ غرض سے ہر شخص کام کرتا ہے اس طرح وہ اپنا پیٹ بھی پالتا ہے اور ملک میں ترقی بھی ہوتی ہے مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر شہری کے مساوی حقوق ہیں ہر شہری کا فرض ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے کام کرے لیکن ہم جانتے ہیں نشاط گروپ کے میاں منشاء، بحریہ ٹاؤن والے ملک ریاض وغیرہ بڑے آدمی ہیں۔ جبکہ دوسرے عام آدمی چھوٹے جو کام یہ لوگ کر سکتے ہیں جس طرح سے یہ رہتے ہیں عام آدمی نہیں رہ سکتا۔ یہ بڑے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ اپنے کام میں یکسوئی سے مشغول رہیں اور کوئی دخل اندازی نہ کرے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی ملوں اور فیکٹریوں میں مزدور اجرتوں میں اضافے کی مانگ منوانے کے لیئے ہڑتالیں کرتے ہیں تحریکیں، چلاتے ہیں اور غریب کسان زمین کا مالک بننے کے لیئے زمین ہتھیانے کی مہم میں سرگرم حصہ لیتا ہے۔ کیوں؟

اس لیئے کہ بڑے لوگ بغیر روک ٹوک کے زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں یہ خواہش ان سب بڑے یا امیر لوگوں میں مشترک ہے۔ دوسری جانب مزدور، محنت کش اور کسان اس لیئے شور مچاتے ہیں کہ ان کو بہتر اجرت اور مزدوری ملے۔ اس طرح  سے یہ خواہش سب محنت کشوں میں مشترک ہے۔ چنانچہ ان کی اس طرح مشترکہ خواہش کی بنیاد پر طبقے بنتے ہیں۔ ان دو طرح کے طبقوں میں نفاق ہوتا ہے اور ان کے درمیان ہمیشہ کشمکش ہوتی ہے۔ مختصرا ہر سماج میں دو طرح کے طبقات ہوتے ہیں۔ ایک مالک دوسرا غلام، ایک ظالم دوسرا مظلوم، ایک سرمایہ دار دوسرا محنت کش غرض کہ ایک طبقہ ذرائع پیداوار پر حاکم ہوتا ہے۔ یعنی وہ زمین جنگلوں، کارخانوں، فیکٹریوں وغیرہ کا مالک ہوتا ہے اور دوسرا طبقہ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ اپنی روزی کمانے کے لیئے ان مالکوں کے ہاتھ اپنی محنت فروخت کرتا ہے جب ان دونوں طبقوں کے درمیان مفاد کی خاطر کشمکش ہوتی ہے تو یہ طبقاتی جدوجہد کہلاتی ہےتظق۔

 انسانی سماج کے ارتقاء کے ہر دور میں یہ عمل کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا ہے چنانچہ یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی کا امیر یا غریب ہونا پیدائشی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے پیچھے ایک سائنٹیفک قانون۔ ہے اس قانون سے سماج کی نوعیت کا اچھی طرح پتہ چلتا ہے کسی کا غریب یا امیر ہونا اس سے متعین ہوتا ہے کہ ان دو طبقوں کا اثر پیداوار پر کیا پڑتا ہے اور وہ کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ غریب ہمیشہ غریب اور امیر ہمیشہ امیر ہوتا ہے وہ اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ طبقاتی جدوجہد کے ذریعے ہی طبقوں کی حیثیت اور اہمیت میں تبدیلی ہوتی ہے۔ اس میں اس سماج کے تعلقات کی پیداوار اور زرعی پیداوار یعنی اس کے اقتصادی بنیادوں پر منحصر ہوتی ہے۔ زرعی پیداوار کا مالک ان تمام لوگوں پر جو ان کے مالک نہیں ہیں استحصال کرتا ہے۔ یہ عمل ایک خاص طبقہ کو دوسرے طبقے پر ظلم و ستم ڈھا کر اور ان کی محنت سے فائدہ اٹھا کر زیادہ منافع کمانا ممکن کرتا ہے۔ دوسری طرف یہ ایک خاص طبقہ کو غربت اور تنگ حالی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتا ہے پھر یہی عوامل طبقاتی جدوجہد کو حرکت میں لاتے ہیں اور آہستہ آہستہ طبقاتی جدوجہد ان عوامل کو بے جان کر دیتی ہے۔

اس طرح نئے سماج کی بنیاد پڑتی ہے لیکن اس سے سماج میں طبقاتی اختلافات دور نہیں ہوتے بلکہ محض ڈراوے کے نئے طریقے، ظلم کی نئی صورتیں اور طبقاتی جدوجہد کی نئی شکلیں پیدا ہوتی ہیں۔ قدیم قبائلی عہد کے خاتمے کے بعد آج تک یہ تمام سماجوں میں ہوتا آیا ہے۔ اس طبقاتی جدوجہد کی دوڑ میں بورژوا (جدید سرمایہ دار) مضبوط سے مضبوط ہورہے ہیں۔ دولت چند لوگوں کے ہاتھوں میں رہ گئی ہے۔ سرمایہ دار غریبوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ یہ غریب مزدور اور کسان کو کم اجرت دیتے ہیں۔ جب کہ منافع زیادہ حاصل کرتے ہیں اس طرح وہ خود تو امیر ہو رہے ہیں لیکن مزدور طبقہ پس رہا ہے۔ استحصال کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ مزدور جو کسی فیکٹری میں کپڑا بنا رہا ہے وہ وہی کپڑا پہننے سے قاصر ہے کیونکہ وہ کپڑا اس کی پہنچ سے باہر ہے۔ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کو استعمال نہیں کر سکتا۔ فیکٹریوں میں لوگ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی خوشحال نہیں ہیں۔ جبکہ سرمایہ داران کی محنت کا ناجائز فائدہ اٹھارہا ہے مزدور طبقہ زیادہ ہونے کی وجہ سے مزدور کم اجرت پر بھی کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں اور یہ سرمایہ دار ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہے۔ تو پھر سوال اٹھتا ہے کیا یہ عمل لافانی ہے؟

کیا انسان کبھی بھی طبقاتی جدوجہد سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا؟

تو اس کا ان جواب میں کچھ اس طرح سے دوں گا کہ یہ عمل نہ لافانی ہے نہ جاودانی اور انسان اس سے ضرور آزاد ہو سکتا ہے طبقاتی اختلافات کی بنیاد زرعی پیداوار کا  ذاتی ملکیت کا ہونا ہے اور استحصال اس کی شاخیں ہیں جب تک یہ بنیاد جڑ سے نہیں اکھاڑی جائیں گی استحصال کا عمل جاری رہے گا اور طبقاتی اختلاف کا وجود رہے گا۔ مارکسزم کے نقطہ نظر سے طبقاتی اختلافات اور طبقاتی جدوجہد محض عارضی ہیں اور انسان اپنی کوششوں سے ان کو ختم کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ محنت کش عوام اس مقصد کے لیئے جدوجہد کرتے ہیں۔ ایسا عملی پروگرام بناتے ہیں جس سے کہ سماج ترقی کے اس دور میں داخل ہو سکے جس میں طبقاتی جدوجہد ممکن نہ ہو اور ہر انسان کو اپنی صلاحیت اور اپنی زندگی گزارنے کے لیے سہولتیں اور آسائشیں فراہم ہوں۔