عابدحسین

صحافت کی ڈگری لینا کوئی مشکل کام نہیں لیکن  صحافی بننا، صحافت کرنا، سچ لکھنا اور بولنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ بعض دفعہ آپ کی رپورٹ یا آرٹیکل اس وجہ سے نہیں شائع کیا جاتا کہ میڈیا فورم یا گروپ کو اپنے بزنس، اشتہارات یا کسی طاقتور کا ڈر ہوتا ہے۔ کہتے ہیں “ہمیں مروانا ہے کیا؟”  “ہماری روزی بند کروانے کا ارادہ ہے؟ ” آج کل فری لانسنگ اور انڈپینڈینٹ جرنلزم کا دور ہے ملٹی میڈیا جرنلزم میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر آج کل بہت ہی عجیب و غریب قسم کے رویوں کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف القابات, گالی گلوچ اور فتووں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کے دور میں خصوصی طور پر پاکستان میں اگر آپ کسی سیاسی جماعت کی کوتاہی، نا اہلی یا مس مینجمنٹ پر بات کرتے ہیں تو اس جماعت کے سپورٹرز کسی طور پر بھی وہ برداشت نہیں کرپاتے بلکہ اسی سیاسی جماعت کے سیاسی مخالفین کو سب اچھا لگتا ہے۔ جبکہ اس وقت وہ آپ کو ہی صحافت اور سچ کا علمبردار گردانتے ہیں لیکن دوسری جانب اگر کہیں دوسری سیاسی جماعت پر بات کرتے ہیں تو وہی سیاسی کارکنان جو دوسری پارٹی پر تنقید کرتے وقت ساتھ دیتے ہیں، اپنے پسندیدہ سیاسی رہنما یا جماعت پر تنقید برداشت  نہیں کرپاتے۔

اسی طرح اگر آپ کسی فرد یا ادارے کے بارے میں لکھتے ہیں، کسی ادارے کی نااہلی، ظلم یا غیر قانونی فعل پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تب آپ کو غدار، ملک دشمن، لفافہ صحافت، زرد صحافت جیسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔ پاکستان کے عام سیاسی کارکن کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی خاص نظریے کی تقلید کرنے کے بجائے شخصیت پرستی کے سحر میں گرفتار ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنا لیڈر یا کوئی بھی شخصیت جس سے وہ متاثر ہوں صرف وہی سچا اور اچھا معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ باقی سب ان کو بے ایمان، چور اور نا اہل نظر آتے ہیں۔ شخصیت پرستی کے بجائے اگر سیاسی کارکنان اور ووٹرز اپنے سیاسی لیڈران اور منتخب لوگوں کے غلط کام یا نا اہلی پر ان سے سوال کرنے کی جرأت کریں، اپنے سیاسی لیڈر یا پسندیدہ پارٹی کی غلطی کو غلطی ماننے کی جرأت کریں، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہیں اور مانیں تو بہت کچھ بدلا جاسکتا ہے۔

بدقسمتی سے یہاں یہ کلچر ہے کہ اپنے منتخب کردہ نمائندوں، سیاسی جماعت اور لیڈر کو وہ خدا سمجھ بیٹھے ہوتے ہیں کہ نہ تو وہ غلطی کرسکتا ہے، نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ ہی جھوٹ بول سکتا ہے۔ اب اگر آپ کہیں کہ ملک کا معاشی نظام ابتر ہوتا جارہا ہے تو وجوہات پر بات کرنے کے بجائے آگے سے جواب ملے گا ہندوستان کی معیشت بھی تو اچھی نہیں ہے اور تو اور آج کل فوجی ترجمان اور عسکری سربراہان تک کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ہماری معیشت اگرچہ کمزور ہے لیکن ہمارے ہمسائے ملک کی معیشت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ جب اس سطح پر اس قسم کی سوچ موجود ہو تو گلہ کرنے کا جواز ہی باقی نہیں رہتا۔

Previous articleکرونا وائرس اور طلباء کے مسائل
Next articleبرصغیر کے مسلمانوں پر ڈرامہ سیریل ارتغرل غازی کے منفی اثرات