عابد حسین

حافظ حمد اللہ صبور صاحب کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ آپ جمیعت علماء اسلام (ف)  کے ممبر اور سینیٹر ہیں۔ سنہ 2002 میں متحدہ مجلس کے پلیٹ فارم سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے  اور صوبائی وزیر صحت کی حثیت سے 2002 سے 2005 تک خدمات انجام دیئے۔ بعدازاں مارچ سنہ 2012 کے سینٹ انتخابات  میں جمیعت علماء اسلام (ف) کے مخصوص نشست پر ممبر سینٹ منتخب ہوئے اور اس دوران سینیٹ کے مذہبی امور کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، شپنگ اور پورٹس کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ جمیعت علماء اسلام اور فضل الرحمان صاحب کا سیاسی کردار جیسا بھی ہو لیکن حافظ حمداللہ صاحب وہ مرد حق و راست ہیں جنہوں نے ہر جگہ حق و سچ کا ساتھ دیا ہے اور کھبی بھی کسی کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا۔ آپ اگر سینیٹ میں ان کی تقاریر سنیں یا کسی ٹی وی ٹاک شو میں حافظ حمداللہ نے ہمیشہ حق بات کہی ہے۔ خواہ وہ اسٹیبلشمنٹ ہو، کوئی آمر ہو یا کوئی حکمران ہمیشہ  آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہے۔

حافظ صاحب وہ مرد حق ہیں کہ سینیٹ میں کھڑے ہوکر انہوں نے فوجی جرنیلوں اور آمروں کو للکارا ہے۔ انہوں نے ہر جگہ برملا کسی کا بھی نام لینے سے گریز نہیں کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ  دوانیاں ہوں یا فوجی جرنیلوں اور عسکری و خفیہ اداروں کی سیاست اور انتخابی عمل میں مداخلت سب کے بارے میں بات کی ہے۔ حافظ حمد اللہ ہی ہے جس نے اے پی ایس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا، ناموس رسالت کا دفاع بھی کیا تھا اور فوجی آمروں کی   سزائے موت کی بات بھی کی ہے تھی۔ حافظ صاحب ہی ہیں کہ گزشتہ عام انتخابات میں ببانگ دہل فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی بات کی ہے۔ مسنگ پرسنز پر بھی بھرپور اسٹینڈ لیکر عدالتوں سے انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ حافظ حمداللہ نے پشتونوں اور بلوچوں کے ساتھ زیادتیوں پر بھی بات کی ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیریٹی اتھارٹی (پیمرا)  نے تمام ٹی وی چینلز کے لیئے ہدایت نامہ جاری کردیا کہ حافظ حمد اللہ کو کسی بھی ٹی وی چینل پر کسی بھی ٹاک شو میں مدعو نہ کریں اور نہ ان کا کوئی انٹرویو نشر کریں۔ نوٹیفیکیشن میں انکو ایلین یا غیر ملکی کا لقب دے کر انکا مذاق بھی اڑایا گیا۔ حمداللہ صبور کا شناختی کارڈ منسوخ کردیا گیا ہے وہ ایک ایلین یا غیر ملکی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب نادرا نے بھی نوٹیفیکیشن کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ حافظ حمداللہ صاحب کا شناختی کارڈ منسوخ کردیا گیا ہے کیونکہ وہ افغان ہیں پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ مطلب حافظ صاحب کو زبردستی غیر ملکی قرار دے دیا گیا۔ پر سوال یہ بنتا ہے کہ 2002 سے لیکر2005 تک وہ صوبائی اسمبلی کے ممبر رہے اور صوبائی وزیر کی حثیت سے خدمات سرانجام دیئے، سینٹر رہے۔ اس دوران کیا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سورہا تھا؟  کیونکہ حافظ صاحب نے اس دوران بیرونی ممالک کے کئی سفر بھی کیئے تھے۔ کیا اب تک نادرا والے کومہ میں تھے اور کیا الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل سے پہلے حافظ صاحب کی اسکروٹنی نہیں کی تھی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کی ساری ذمہ داری نادرا، امیگریشن، وزارت داخلہ و خارجہ اور الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ سینٹ آف پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ 

اصل میں حافظ صاحب کو ان کی راست گوئی، حق کا ساتھ دینے کی سزا دی گئ ہے۔ مسنگ پرسن کے مسئلے پر بات کرنے کی سزا دی گئ ہے۔ مظلوم پشتونوں اور بلوچوں کے حقوق میں بات کرنے کی سزا۔ سینٹ سے لیکر کسی بھی جلسے جلوس اور ٹی وی ٹاک شوز میں حافظ صاحب نے ملک کے اندر غیر آئینی قوتوں کے خلاف بات کرنے کی سزا پائی ہے۔ آج  ایک معزز پاکستانی شہری کو اسکی راست گوئی کے بناء پر غیر ملکی قرار دیا گیا ہے۔ ایک جانب تو حافظ صاحب کو اب اپنے آپ کو پاکستانی شہری ثابت کرنا پڑے گا دوسری جانب ان کو سینیٹر کی حثیت سے بھی کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور اب ریاست کی طرف سے ملنے والی تنخواہ اور ملنے والی مراعات بھی منسوخ کردی جائے گی۔ حکومت وقت اس وقت بے اختیار ہے  بس اوپر سے جو حکم آتا ہے وہ بغیر سوچے اور سوال کیئے پورا کردیتی ہے۔

کیا یہاں سچ بولنے کی اتنی بڑی سزا دی جاتی ہے؟  کیا مقتدر مقدس گائے کے خلاف، ان کے چنتخبوں کے خلاف بات کرنا انہیں برداشت  نہیں ہوتا ؟ کیا بحیثیت قوم ہمیں ایک مخصوص ٹولے کی غلامی تسلیم کرنی ہی ھوگی؟ 

حافظ حمداللہ کے ساتھ کی گئی ناانصافی پر بغلیں جھانکنا اور چپ سادھ لینا جرم ہے اور اس جرم میں ادارے اور حکومت دونوں فریق ہیں۔

Previous articleموت کا کاروبار اور ہمارا مستقبل
Next articleWin Win Situation بعد از انتظار آگیا وہ شاہکار