وقاص احمد

ایک دوست کی کال آئی، بہت پریشان تھا، پوچھا کہ کیا ہوا تو بولا کچھ نہیں یار! بس کچھ کاروباری مسائل ہیں۔ میں نے تفصیلات پوچھیں تو جو کچھ اس نے بتایا وہ آپ بھی سن لیں۔

میں نے دو تین سال پہلے ایک دوردراز علاقے میں ایک فیکٹری لگائی۔ اس علاقے میں چوری چکاری اور امن وامان کے کچھ مسائل تھے لیکن چونکہ زمین سستی مل رہی تھی اس لیئے میری مجبوری تھی کہ وہیں فیکٹری لگاؤں۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ یہ چوروں ڈاکوؤں کا علاقہ ہے۔ تم نے پلانٹ تو لگا لیا ہے اب سیکیورٹی کے انتظامات اعلیٰ درجے کے رکھنا۔ مشورہ صد فیصد درست تھا۔ میں نے ایک مہنگی سیکیورٹی ایجنسی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے مجھے انتہائی مہنگے داموں ایک سیکیورٹی انچارج دے دیا، جس کی تنخواہ میری فیکٹری کے چیف انجینئر کے برابر تھی۔ سیکیورٹی انچارج نے آتے ہی لمبا چوڑا بجٹ ڈیمانڈ کیا جس میں گارڈز کی ٹیم، ان کے جدید ہتھیار، ان کی رہائش و طعام کے اخراجات، خاردار تاروں، سیکیورٹی کیمروں اور سیکیورٹی کنٹرول سینٹر کے اخراجات شامل تھے۔ میں نے وہ پیسے بھی فراخ دلی سے دے دیئے۔ میرے اکاؤنٹنٹ اور چیف انجینئر نے میٹنگ میں مجھ سے شکوہ کیا کہ سر ”مشینوں کی مرمت، اسپئیر پارٹس کی خریداری اور دیگر پیداواری اخراجات کے لیئے میں آپ سے پیسے مانگ لوں تو آپ اتنی کٹوتیاں کرتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ کہاں خرچا کروں اور کدھر سے آنکھیں بند رکھوں، فیکٹری کا خام مال منگوانے کے پورے پیسے ہمارے پاس نہیں ہیں، ملازمین کی مکمل تنخواہوں کے پیسے بھی ہمارے پاس نہیں ہیں لیکن ادھر آپ نے بنا حساب کتاب، بنا جانچ پڑتال، بنا کسی ٹینڈر کے سب کچھ کیش میں سیکیورٹی چیف کے ہاتھ میں تھما دیا“  میں نے اطمینان سے کرسی سے ٹیک لگا کر اسے کہا  ”یار یہ لوگ رات رات بھر جاگتے ہیں تو ہی تم لوگ سکون سے یہاں کام کرتے ہو، سیکیورٹی چیف ہی ہماری آخری دفاعی دیوار ہے، اگر یہ نہ ہو تو ہم اس علاقے میں کیسے گزر بسر کریں گے“  اگرچہ مجھے نظر آرہا تھا کہ میرے اکاؤنٹنٹ اور چیف انجینئر کو یہ توجیہہ نہ تو پسند آئی ہے اور نہ سمجھ آئی لیکن ظاہر ہے کہ مجھ سے زیادہ میری فیکٹری کی سلامتی کی فکر کس کو ہونی تھی اس لیئے میں نے اس بات کو نظرانداز کردیا۔

سال دو سال ایسے ہی گزر گئے۔ میں ڈاکوؤں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ سیکیورٹی چیف کی ہر فرمائش، ہر بجٹ کو بلا جھجھک اپروو کردیتا۔ فیکٹری جیسے تیسے گھسٹ گھسٹ کر چلتی رہی۔ منافع کم سہی لیکن کم از کم میری فیکٹری، میں اور میرے ملازمین دن میں محفوظ ماحول میں کام کرتے تھے اور رات کو سکون کی نیند سوتے تھے اس لیئے میں مطمئن تھا۔ پھر وہ دن آیا جس کی وجہ سے میں تمہارے پاس بیٹھا ہوں۔ شام کا وقت تھا، میں دفتر میں ہی بیٹھا تھا، باہر سے فائرنگ کی آواز آئی۔ میں نے فوراً اپنی سیکیورٹی اسکرینز پر نظریں دوڑائیں تو باہر ڈاکوؤں کا جتھا کھڑا تھا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ وہ دن، جس دن کا مجھے خوف تھا وہ دن واقعی آگیا تھا۔ لیکن دل میں ایک اطمینان تھا کہ اسی دن کے لیئے ہی تو میں نے اپنی سیکیورٹی ٹیم پر اتنے اخراجات کیئے ہیں۔ آج ان ڈاکوؤں کو ایسا منہ توڑ جواب ملے گا کہ دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کریں گے۔ میں نے فون اٹھایا کہ اپنے سیکیورٹی چیف سے رابطہ کروں لیکن اس سے پہلے ہی کمرے کا دروازہ دھماکے سے کھلا اور سیکیورٹی چیف اندر آگیا۔

میں اس کی اس فرض شناسی پر خوش ہو ہی رہا تھا کہ اس نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان مجھے ڈاکوؤں کے آنے کی اطلاع دی۔ میں نے کہا کہ میں اسکرین پر دیکھ چکا ہوں، آپ پروفیشنل آدمی ہیں اب آگے کے معاملات آپ دیکھئے۔ سیکیورٹی چیف نے کہا سر وہ کہہ رہے ہیں کہ فیکٹری کا دروازہ کھولا جائے۔ جتنا کیش فیکٹری میں موجود ہے ان کے حوالے کیا جائے اور وہ فیکٹری میں تیار شدہ مال میں سے جتنا مال چاہیں اٹھا کر ساتھ لے جائیں گے۔ میں نے پھر زور دے کر کہا کہ ہاں ہاں وہ تو کچھ بھی بکواس کرتے رہیں گے آپ اپنی کاروائی شروع کریں۔ سیکیورٹی چیف بولا  ”جی سر! میں کیش ہی لینے آیا ہوں تاکہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جاسکے“  میں تو چکرا کر رہ گیا۔ ذرا غصے سے پوچھا  ”یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ سیکیورٹی چیف نے جواباً کہا کہ سر ہم ایک ذمہ دار شہری کی طرح امن کو ایک موقع دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرا تو پارہ آسمان کو پہنچ گیا۔ میں نے کہا جناب میں نے یہ لاکھوں روپے کے ہتھیار، سیکیورٹی گارڈز کی پوری فوج، یہ سیکیورٹی کے اخراجات تمہیں کیا امن کو ایک موقع دینے کے لیئے دیئے تھے۔ اگر امن ہی کو موقع دینا تھا تو یہ کام تو میں خود بھی کر سکتا تھا کہ ڈاکو آتے، میں ان کو کہتا لو بھائی یہ رہے پیسے، یہ پڑا مال تم ہمیں سکون سے لوٹو اور پھوٹو۔ سیکیورٹی چیف نے آگے سے کہا  ”تو کیا میں ان سے لڑائی کروں، کیا کہہ رہے ہیں آپ؟  کچھ پتا ہے لڑائی میں کتنی مہنگی گولیاں خرچ ہوتی ہیں اور پھر اگر کسی گارڈ کو گولی لگ گئی تو ہم کیا کریں گے۔ اگر ہم امن کے ساتھ ڈاکوؤں کی ڈیمانڈ پوری کردیں تو ڈاکوؤں سے ہمارے تعلقات بہتر ہونے کی امید ہے۔ ہوسکتا ہے وہ دوبارہ ہمیں لوٹنے نہ آئیں یا کم از کم کل کے اخبارات میں ہماری دانشمندی اور عدم تشدد کی پالیسی کی کتنی تعریف ہوگی، سوچیے ذرا!“ میں نے سوچا کہ یار یہ بندہ تو بہت عقلمند ہے۔ واقعی ٹھیک باتیں کر رہا ہے۔ میں نے فیکٹری کے دروازے کھولنے کے احکامات دیئے۔ سیف میں پڑا کیش سیکیورٹی چیف کے حوالے کیا اور اس نے وہ کیش انتہائی حفاظت سے ڈاکوؤں کے حوالے کیا۔ ڈاکوؤں نے تیار مال بھی لوٹا اور چند ملازمین سمیت میرے چیف انجینئر کی ٹھکائی بھی کی جو میں نے اور میرے سیکیورٹی چیف نے امن کو ایک مذید موقع دیتے ہوئے اگنور کر دی۔

میرا دوست سانس لینے کو رکا تو میں، جو اپنے سر کے بال نوچتا اور اپنے غصے پر کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا، دانت کچکچاتے ہوئے پوچھا کہ اب تمہیں مسئلہ کیا درپیش ہے؟ سب کچھ تو ”امن و امان“ سے طے ہوگیا ہے۔ دوست بولا یار اگلے دن میرے چیف انجینئر نے انتہائی بدتمیزی سے طنزیہ طور پر مجھے کہا کہ  ”تو یہ تھا وہ سیکیورٹی چیف جس کی وجہ سے ہم رات کو سکون سے سوتے تھے؟“  بس یار مجھے بہت غصہ آیا۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا، ”شکر ہے تمہیں غصہ آیا، پھر کیا تم نے سیکیورٹی چیف کو فارغ کر دیا؟“ بولا  ”نہیں! میں نے چیف انجینئر کو فارغ کر دیا اور اب مجھے فیکٹری چلانے کو انجنئیر ڈھونڈنا ہے اسی سلسلے میں تم سے ملنا چاہ رہا ہوں“ میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور فون لائن میں شور کا بہانہ کرتے ہوئے فون کاٹ دیا۔

نوٹ:- فیکٹری ہذا میں چیف انجینئر کی پوزیشن خالی ہے، خواہشمند حضرات رابطہ کریں۔