افتخارحسین

ہفتہ، اتوار چونکہ یونیورسٹی کی چھٹی  ہوتی ہے۔ اس لیئے میں اپنے والد صاحب کے ساتھ کوئلہ کان کا نظارہ دیکھنے درہ آدم خیل، اخوروال لیز چلا گیا۔ یہ بہت ہی منفرد اور دلچسپ تجربہ تھا، تو میں نے سوچا کہ اس کے احوال اور احساسات جو میرے ذہن میں نقش سے ہوگئے ہیں، انہیں الفاظ میں پرو کر تحریر کرلوں۔

درہ آدم خیل پشاور شہر سے 25 کلومیٹر کے مسافت پر ہے۔ یہ فاٹا کی شمولیت سے پہلے ایف ار کوہاٹ میں شامل تھا۔ یہ علاقہ اونچے اونچے پہاڑوں کے ساتھ  شروع ہوتا ہے۔ یہ پہاڑ بظاہر تو ریت اور پتھر کے ایک ڈھیر کے سوا کچھ بھی دیکھائی نہیں دیتے لیکن ان کے اندر چھپے خزانے سے یہاں کے لوگ کم جبکہ بدقسمت ضلع  شانگلہ کے لوگ زیادہ واقف ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ اگر اپ جمعے کے دن یہاں آئیں گے تو اپ کو یہاں کے بازار میں ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ شانگلہ میں ہیں کیونکہ   صرف شانگلہ سے تعلق رکھنے والے خوبرو نوجوانان اور سفید پوش بزرگ  اپنے بچوں اور گھر والوں کےلیئے زندگی کا سامان کرنے یہاں آتے ہیں، اور کیونکہ جمعہ کے دن ان کی چٹھی ہوتی ہے اس لیئے یہ لوگ اپنی تھکاوٹ دور کرنے اور ان کالی ریت اور بلیک ڈائمنڈ یعنی کوئلہ کانوں کے سنگلاخ چٹانوں سے آزادی کا جشن منانے بازار کا رخ کرتے ہیں۔

میں اپنے والد صاحب کے دوست کے ساتھ جو کہ مذکورہ لیز میں مائن اونر ہیں، ان کے گاڑی میں درہ بازار سے اخوروال لیز کے سفر پر نکل پڑا۔  مین روڈ سے لیز کی طرف جیسے ہی پانچ منٹ کا سفر کیا تو ہمارا رابطہ انٹرنیٹ اور موبائل کی دنیا سے منقطع ہوگیا۔ اب میرے سامنے کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے وہ محنت کش تھے، جن کی معصوم آنکھوں میں بہت سے خواب، سوالات اور امیدیں تھیں۔ پہاڑوں کے بیچ بڑی بڑی سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ جس کے ساتھ ہی  بلیک ڈائمنڈ یعنی کوئلے کے بڑے بڑے ڈھیر جمع تھے۔ وہاں بڑے بڑے ٹرک کھڑے تھے جن پر لوڈنگ ہورہی تھی۔ خیر پھر ہم 20 منٹ کے سفر کے بعد اپنے منزل تک پہنچے۔ وہاں دیکھا کہ کوئلہ کان میں کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپس ہیں۔ بڑے بڑے ٹینٹ لگے ہوئے تھے جس میں حد سے زیادہ ٹھنڈ کے باوجود یہ لوگ اپنی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ سڑک ایک خاص مقام تک جاکر ختم ہوجاتی ہے۔ جبکہ پہاڑوں کے بیچ جو مائن لگے ہوئے تھے، جس سے کوئلہ لفٹ کے ذریعے اتارا جاتا ہے، یہی لفٹ بوقت ضرورت مزدوروں کو اتارنے کے لیئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ والد صاحب نے اپنی یونیفارم پہنی اور پھر ہم ان مائنز کی طرف پیدل چل پڑے جہاں پر میرے بابا کی ڈیوٹی تھی۔ راستے میں چلتے ہوئے بابا نے کوئلہ کان کے بارے میں بہت سے معلومات بھی شئیر کیں۔ تقریباً بیس منٹ کے اس پیدل سفر کے بعد ہم اپنے منزل کو پہنچے۔ یہاں سارے مزدوروں کا تعلق بدقسمتی سے شانگلہ سے تھا جو اپنے زندگی خطرے میں ڈال کر اپنے لیئے روزی روٹی کمانے پر مجبور تھے۔ میں نے تین مائنز کا وزٹ کیا اور ان مائینز میں مجھے ایک بھی ایسا مزدور نہیں ملا جس کا تعلق شانگلہ سے نہ ہو۔ کالی مٹی میں لت پت یہ محنت کش مزدور پہچاننے کے قابل نہیں تھے، لیکن میرے گاؤں کے چند دوستوں نے مجھے پہچان لیا اور پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ مزدور نہ صرف اپنے گاؤں سے دور آتے ہیں بلکہ اپنی پہچان تک کو ان کالی چٹانوں کے سپرد کردیتے ہیں۔

میرے بابا نے ایک مائن میں نیچے اترنا تھا جو کہ تقریباً 1000 فٹ زمین کے اندر تک تھی۔ میرے بابا ایک ٹرالی نما چیز جسے ہالچ کہتے ہیں اس میں بیٹھ گئے اور چند سیکنڈز میں میرے نظروں سے اوجھل ہوگئے تب میرے پاس اپنے ضلع کے سیاسی رہنماؤں کی 22 سالہ سیاست کی کارکردگی کا دفاع کرنے کے لیئے کوئی دلائل  نہیں تھے۔ یہ مزدور روزانہ کی بنیاد پر اپنی پہچان اور خوبصورت چہرے انہی کالی ریت کے سپرد کرکے اپنے زندگی کو خطرے میں ڈال کر، اپنے بچوں کے مستقبل کےلیئے بہت سی امیدیں اور خواب اپنی آنکھوں میں لے کر اس کان میں اترتے ہیں اور ان کو یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ہزاروں فٹ زمین کے اندر ان کے ساتھ کب اور کیسے ایک دردناک حادثہ پیش آسکتا ہے، اور ان کی ساری امیدیں اور خواب انہی کانوں میں ہمیشہ کے لیئے یہاں دفن ہوسکتے ہیں۔ اپنے جوانوں کی حالت زار دیکھ کر مجھے دو سال قبل شانگلہ کی وہ روح کو کپکپا دینے والی شام یاد اگئی جب 7 جنازے ایک ساتھ بلیک ڈائمنڈ کی کان نے شانگلہ کو سونپ دیئے تھے۔ جس میں  ایک نوجوان ایسا بھی تھا جس کی میٹرک کی چھٹیاں تھیں اور وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا سہارا ہونے کی پاداش میں کوئلہ کان میں اپنی جان کھو بیٹھا تھا۔ پچھلی ایک دہائی میں بے شمار ایسے حادثے ہوچکے ہیں اور سینکڑوں لوگ اپنے جان گنوا بیٹھے ہیں لیکن  ارباب اختیار کو ان قیمتی جانوں سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ان کے لیئے بنائے گئے قانون پر أج تک عملدرآمد ہوا ہے۔ اور تو اور شانگلہ سے منتخب شدہ نمائندہ گان نے محض فوٹو سیشن کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیا۔ یہاں یاد دلاتا چلوں کہ شانگلہ  سابق مشیرِ وزیراعظم انجینئر امیر مقام اور موجودہ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا حلقہ ہے۔ اب اپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے نمائندہ گان ان مزدوروں کے لیئے کیا کچھ کرسکتے تھے۔

خیر میں نے دوپہر کا کھانا اپنے دوستوں جو کہ مائن نمبر تین میں کام کرتے تھے ان کے ساتھ کھایا اور پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس وقت مائن میں 16 بندے اندر ہیں۔ ان سب کا تعلق ضلع شانگلہ سے ہے، یعنی صرف اس مائن کے اندر 16 افراد کام کرتے ہیں۔ جن کے ساتھ کسی بھی وقت خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش أسکتا ہے۔ آس پاس نہ کوئی ہسپتال ہے اور نہ کوئی ڈسپنسری وغیرہ۔ حادثے کی صورت میں ایمبولینس کو یہاں پہنچنے میں تقریباً بیس منٹ لگتے ہیں۔ ان مزدوروں کی یہاں اپنی ایک چھوٹی سی دنیا ہوتی ہے جو کہ کالی ریت سے بھری پڑی ہے۔ ان کے دن کا اغاز  چائے کے ایک ٹھنڈے کے کپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جبکہ سورج کی پہلی کرن پڑنے سے پہلے یہ اپنی منزل کو کوچ کرگئے ہوتے ہیں۔ پھر دوپہر کا کھانا انہیں مائن کے اندرہی کھانا پڑتا ہے۔ شام کو جب یہ لوگ مائن سے اپنے کیمپوں کی طرف آتے ہیں تو ان کے چہرے پہچان کے لائق نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر کالی ریت کی سیاہ چادر دراصل شانگلہ کے مفاد پرست سیاستدانوں کے  سیاہ کردار کی گواہی دیتے ہیں۔ یہی مزدور ہی تو ہیں جنہوں نے ان نمائندوں کو منتخب کیا ہوتا ہے۔ اس امید کے ساتھ گاڑیاں بھر بھر کے یہ مزدور شانگلہ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں کہ شاید جس انسان کو ہم منتخب کرنے والے ہیں وہ   ہمارے حق میں أواز اٹھائے گا لیکن سب بے سود۔

مجھے اس وقت بہت خوشی محسوس ہوئی جب میں نے ان کے چہرے پر کالی ریت کے سیاہ چادر ہونے کے باوجود امید بھری مسکراہٹ دیکھی۔ ان میں آپس میں بھائی چارہ بھی دیکھنے کے لائق تھا۔ آپس میں گپ شپ، بہت سی کہانیوں اور سیاسی گرما گرمی سے ان کی محفل بھری ہوتی ہیں۔ ایک دوست نے مجھے اپنے کیمپ میں بلوایا اور کیمپ میں اپنے لیئے لائے ہوئے فروٹ میرے سامنے پیش کردئیے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ تم بہت ہی غلط ٹائم پر أئے ہو۔ ہم أپ کی اچھی طرح سے خاطر مدارات نہ کرسکے۔ ان کی اتنی محبت اور ان کی حالت زار دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو بھر أئے۔ درہ آدم خیل کی خون جمانے والی ٹھنڈ میں یہ ٹینٹوں میں رات گزارتے ہیں لیکن پھر بھی مطمئن ہیں کیونکہ یہ اپنے بچوں کے لیئے حلال رزق کمانے کے لیئے یہ سختیاں برداشت کرنا بخوشی قبول کرلیتے ہیں۔ پورے پاکستان میں جہاں بھی کوئلہ کان ہوگی وہاں کام کرنے والے مزدوروں کا تعلق شانگلہ سے ہوگا پھر چاہے وہ مائن پنجاب، سندھ، کے پی یا پھر کشمیر میں ہی کیوں نہ ہو۔  یہ ایک تشویشناک بات ہے کہ صرف شانگلہ ہی کیوں؟ میرے خیال سے شاید اس کا صرف ایک ہی ممکنہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ شانگلہ میں تعلیم کی شرح بے حد کم ہے، تعلیم بالکل نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ میٹرک کے بعد تو تعلیم کا تصور ہی نہیں۔ اس ضمن میں بھی ہمارے نمائندگان کی غفلت بھری خاموشی ایک اور ستم ہے۔ مزدوروں کے بہت سے مسائل ہوتے ہیں جبکہ ہمارا میڈیا جو کہ چوبیس گھنٹے ایلیٹ کلاس کے اردگرد گھومتا ہے، انہوں نے بھی مزدور کی آواز دنیا تک پہنچانے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ایشو پر کوئی خاطر خواہ کام کیا ہے۔ جبکہ ہمارے حکومتوں اور سیاستدانوں کا تو کیا ہی کہنا۔

شانگلہ وہ بدقسمت ضلع ہے جہاں ہر مہینے کوئلہ کانوں سے کئی جنازے اٹھائے جاتے ہیں جبکہ میرے منتخب نمائندہ گان کی کارکردگی محض  فوٹو سیشن تک ہی محدود ہوتی ہے۔ کھبی ایمبولینس کو راستے میں روک کر تو کبھی جنازے کی پہلے صف میں کھڑے ہوکر اپنی موجودگی کا احساس تو دلاتے ہیں لیکن جب ایوانوں میں مزدور کی بات کرنی ہو تب ان کے منہ پر تالے لگے ہوتے ہیں۔

Previous articleعمران خان، الماس بوبی اور روپ بہروپ
Next articleمیاں نواز شریف کا سخت بیانیہ اور ان کا سیاسی مستقبل