مہناز اختر

امریکہ میں 9/11 حملوں کے بعد سے دنیا بھر میں ”شریعہ لاء“ کا ذکربار بار سنا جانے لگا۔ اس اصطلاح کو القاٸدہ،طالبان اور بعد میں داعش کے ساتھ منسلک کرکے امریکہ سمیت پوری مغربی دنیا میں اسلامی قوانین کے خلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز کیا گیا اور یہ تاثر دیا جانے لگا کہ شریعہ لاء ظلم و بربریت پر مبنی ایک جبری نظام ہے۔ مسلم دنیا کے اندر بھی اس نظام کو لے کر غلط فہمیاں بڑھنے لگیں اور مسلم دنیا دوحصوں یعنی شریعہ لاء کی حمایت کرنے والے اور مخالفت کرنے والوں میں تقسیم ہوگٸی۔ اسی دوران دنیا بھر میں ایک عالمگیر بحث کا آغاز بھی ہوگیا کہ سیکولر نظام ہی دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسکے مقابلے میں اسلامی نظام اور قوانین میں وہ مطلوبہ لچک ناپید ہے جو کہ اسے جدیدیت سے ہم آہنگ کرسکے۔

اسلامی شدت پسندی کے تناظر میں اس حقیقت کو بھی نظر انداز کیا گیا کہ امریکہ نے ہی لبرل افغانستان میں اپنے دو اتحادیوں سعودی عرب اور پاکستان کی مدد سے مجاہدین اور طالبان کے ذریعے ایک نام نہاد شدت پسند ” طالبانی اسلام“ کی بنیاد ڈالی اور اپنے مفادات کے لیۓ اسکی آبیاری کرتا رہا۔ دوسری جانب ماضی میں برطانیہ نے عثمانیوں کے خلاف آل سعود کی پشت پناہی کرکے سرزمین حجاز کو ” سعودی اسلام“ تحفے میں دیا۔ جسکی بنیادوں میں مذہبی شدت پسندی موجود تھی۔

ان حالات میں ایک سوال جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے وہ یہ کہ شریعہ لاء یا اسلامی قوانین کیا ہیں اور اسکے بنیادی خدوخال کی نوعیت کس قسم کی ہے؟

کسی بھی نظام میں مروجہ اخلاقیات کے مطا بق نظم و ضبط قاٸم کرنے کے لیۓ کچھ اصول مرتب کیۓ جاتے ہیں۔ یہ اصول ضوابط ہی قوانین کہلاتے ہیں جنکا اطلاق فرد ، املاک اور دیگراشیاء پر ہوتاہے۔ اسلامی قوانین کا ماخذ قرآن و سنہ ہے۔ اسلامی معاشرت میں اصولی معروف و منکرات پہلے سے طے شدہ ہیں۔ اسلامی قوانین کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، عاٸلی قوانین اور حدود و تعزیرات۔ عاٸلی قوانین/ مسلم پرسنل لاء کے تحت نکاح، مہر، محرمات نکاح، تَعَدّدِ ازدواج ،اختلاف زوجین، نان و نفقہ، رضاعت، ضبط تولید، طلاق،خلع،عدت، ایلاء،ظہار،متنبی اور وراثت کے معاملات نپٹاۓ جاتے ہیں۔

قوانین حدود کو اللہ کا حق کہا جاتا ہے جن پر بندوں کو تصرف کی اجازت نہیں ہے۔ عربی لغت میں ”حد“ کا مطلب ”منع“ ہے ۔ شرعی اصطلاح میں حد ان مخصوص سماجی جراٸم کو کہتے ہیں جن کی سزا اللہ نے مقرر کردی ہے۔ حدود میں شامل جراٸم کے تعین میں امت کے درمیان فقہی یا نظریاتی اختلاف موجود ہے۔ بعض کے نزدیک حدود کی تعداد صرف تین ہے یعنی زنا ،تہمت زنا ( زنا بالجبر بھی حدود میں شامل ہے) اور چوری ، کیونکہ یہی وہ تین جراٸم ہیں جنکی سزا وضاحت کے ساتھ قرآن میں بیان کی گٸ ہے۔ بعض مکاتب فکر نے شراب نوشی اور فساد فی الارض یا حرب کی تعریف کے تحت ڈکیتی کو بھی حدود میں شامل کرکے حدود کی تعداد کو پانچ بتایا ہے ۔ اسی طرح بعض مکاتب فکر نے ارتداد اور بغاوت (حرب کے تحت) کو بھی حدود میں شامل کیا ہے۔ حدود کے تحت دی جانے والی سزا کے طریقہ کار پر بھی امتِ مسلمہ کے درمیان فکری اور اجتہادی اختلاف موجود ہے۔

حد کے تحت دی جانے والی سزاٸیں انتہاٸی شدید اور حتمی نوعیت کی ہوتی ہیں اس لیۓ اس کے جاری کیۓ جانے کی کچھ شراٸط ہیں۔ حد صحیح العقل ,سلیم البدن اور بالغ افراد پر جاری کی جاسکتی ہے۔ حد جاری کرنے کا اختیار صرف اور صرف ریاست اور اسکے مخصوص اداروں کو ہے۔ حد جاری کرنے کے سلسلے میں انتہاٸی احتیاط سے کام لینے کو کہا گیا ہے۔

”ایک شخص نے صفوان بن امیہ کی چادر چرا لی۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کاحکم دیا۔ صفوان نے چور پر ترس کھاتے ہوئے کہا کہ یارسول اللہ، میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، اس لیے میں اپنی چادر اس چور کو ہبہ کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے میرے پاس لانے سے قبل اسے کیوں معاف نہیں کر دیا؟ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا“ (نساٸی،ابن ماجہ)

عاٸشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے ” جہاں تک ممکن ہو مسلمان سے حد کو ساقط کردو۔ اگر تم کوٸی راہ پاتے ہو کہ وہ حد سے بچ جاۓ تو اسکا راستہ چھوڑ دو کیونکہ معاف کرنے میں حاکم کی طرف سے غلطی کا سرزد ہونا، اسکے سزا دینے میں غلطی کرنےسے بہتر ہے“ (ترمذی، بیقہی)
اس طرح عمرفاروق ؓ سے قحط سالی کے دور میں چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا پر پابندی لگانا بھی ثابت ہے۔

جراٸم اوراسلامی قوانین کے وہ علاقے جو حدود کے اندر نہیں آتے اور جو حاکم وقت کی منشاء پر چھوڑ دیۓ گۓ ہیں، تعزیرات کہلاتے ہیں۔ تعزیر کے معنی بازرکھنا،ملامت کرنا، تنبیہ و تادیب کرنا ہے۔ اسلامی ریاست زمانہ و حالات کے مطابق ان قوانین کو مرتب کرسکتی ہے۔ پاکستان میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ تعزیری قوانین برصغیر میں انگریزوں کے مرتب کردہ ہیں اس لیے یہ غیر شرعی ہیں۔ حقیقت اسکے برعکس ہے ۔ البتہ پرانی تعزیرات کو جدید زمانے کے مساٸل اور انکے بہتر حل سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اور غلط فہمی عام ہے کہ پوری اسلامی دنیا کوعرب ثقافت کے رنگوں سے رنگ دینا ہی عین اسلام ہے اور دوسری اقوام کے طریقوں کو اپنانا غیر شرعی عمل ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود رسول اللہ نے غیرعرب اور غیر مسلمانوں کی اچھی عادتوں اور حکمتوں کو اپنایا ہے۔ جیسے دوران جنگ خندقیں کھودنے کا طریقہ یا پھر رومی شلواروں کو عربوں کی تہبند کے مقابلے میں بہتر سترپوش قرار دینا اور اسکے استعمال کی نصیحت کرنا۔

اسلام میں انسانی جان کی حرمت تمام اشیاء کی حرمت سے افضل ہے اسی لیے ایک انسان کے ناحق قتل کو تمام انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ قتلِ عمد میں مقتول کی جان کا بدل قاتل کی جان کوقرار دیا گیا ہے۔ قتلِ غیرعمد یا قتلِ خطا یا پھر چند مخصوص حالات میں مسلمانوں کو قصاص/دیّت/خون بہا کی شکل میں ایک راستہ دیا گیا ہے، جسکے ذریعے مقتول کے ورثاء قاتل کو کسی معاوضہ یا معاہدے کے بدلے میں معاف کرسکتے ہیں۔ غور کیا جاۓ تو دیّت کی رعایت اسلامی قوانین کے اوصاف میں شمار ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہر دور میں امراء واشرفیہ نے اس رعایت کا غلط استعمال کیا ہے۔ قصاص کیونکہ بندے کا حق ہے اس لیۓ قتل جیسے سنگین جرم کو حدود میں شامل نہ کرکے تعزیرات کے داٸرے میں رکھا گیا ہے۔

اسلامی قوانین کے تحت دی جانے والی سزاٶں کا دارومدار شہادت، اقرار اور تفتیش پر ہے۔ شہادت یا گواہی کے لیے چند بنیادی شراٸط کو مدنظر رکھنا ضروری ہے جیسے گواہ عوام میں کاذب یا فاسق مشہور نہ ہو، سزا یافتہ یا عادی مجرم نہ ہو، ملزمان سے دشمنی نہ ہو،عاقل ہو اور اسے جسمانی طور پر ایسا عارضہ یا معذوری لاحق نہ ہو جو شہادت کی صحت پر اثرانداز ہوسکے۔

آج کل پوری دنیا میں ایک تاثر عام ہے کہ اسلامی قوانین انسانیت سوز اور ظلم و جبر پر مبنی نظام ہے جسکی مہذب دنیا میں کوٸی گنجاٸش نہیں ہے۔ اس تاثر کے پیچھے چند بنیادی وجوہات موجود ہیں۔
١- طالبان اور داعش کی طرف سے دی جانے والی انسانیت سوز سزاٶں کی وجہ سے دنیا میں جانے والا تاثر۔
٢- اسلامی قوانین کے شعبے میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق فکری اجتہاد کا فقدان۔
٣- جدید ساٸنسی طریقہ ہاۓ تفتیش سے دوری۔
٤- دورِ جدید کے مساٸل اور انکی سماجی و نفسیاتی وجوہات سے عدم واقفیت۔
٥- علماء دین کی علمی عدم توجہی، شدت پسندی اور منافقانہ رویہ۔

اسلامی قوانین کا موضوع عمرانیات کا انتہاٸی وسیع شعبہ ہے جس کے کئی پہلو ہیں اور ان پر کٸی زاویہ سے روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔ ایک مضمون میں اس موضوع کا احاطہ ممکن نہیں ہے البتہ یہ مضمون شریعہ لاء کے حوالے سے موجود خوف اور غلط فہمی کو دور کرنے کی ایک چھوٹی سے کوشش ہے۔

(متبادل مختلف موضوعات پر متنوع خیالات اور نکتہ ہائے نگاہ سے ماخوذ ہے۔ کسی مصنف کی رائے سے متبادل کا متفق یا نا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

1 COMMENT

Comments are closed.