عابدحسین

ہم میران شاہ سے  بنوں کے لیئے جا رہے تھے۔ گاڑی میں ایک بچے سمیت ہم چھ سواریاں تھیں۔ آرمی چیک پوسٹ سے گزرے تو کچھ بھی نہ کہا گیا۔ بازار میں پہنچ کر دیکھا تو آرمی والوں کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ہم نے حفاظت کے تحت گاڑی سائیڈ پر کھڑی کی تاکہ فائرنگ سے محفوظ رہیں۔ ابھی کھڑے ہی ہوئے تھے کہ فوجی گاڑی ہماری طرف آئی اور ہماری گاڑی پر فائرنگ شروع کردی گئی۔ مجھ سمیت تین لوگ زخمی ہوئے اور گاڑی کا ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ مقامی ڈسپنسری میں گئے تو دیکھا ادھر کوئی نہیں تھا- ہم ادھر ہی بیٹھ گئے۔ بعدازاں ہسپتال میں فوجی اہلکار آئے اور پہلے تو ہمیں بہت ڈرایا اور پھرپوچھ گچھ کی۔ ہم نے کہا کہ ہم زخمی ہوئے ہیں آپ نے ہم پر فائرنگ کھولا تھا۔

شمالی وزیرستان عیدک میں فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے نوجوان کا بیان، اسی کی زبانی

کیا کوئی انصاف مانگنے اور سچ بولنے کی جسارت کرسکتا ہے؟ کیا کسی میں ہے جرآت کہ حق بات کرے؟ان لوگوں نے ہر مسئلے کا حل یہ نکالا ہے کہ جو بھی ہو  لیکن آپ نے بس سر کے بدلے سر پورا کرنا ہے اور کسی کو بھی مار کر دہشت گرد قرار دے دینا ہے۔

Previous articleجلوس کی اجازت اور مساجد پر پابندی، سندھ حکومت ذمہ دار، فرقہ ورانہ نفرت کی نئی لہر
Next articleحضور والا! ایک جرنیل ادھر بھی