مہناز اختر

آپ کے اندر ایک زندگی تخلیق کے مراحل سے گزر رہی ہے یا یوں کہہ لیں کہ انسانی تخلیق کے لیئے فطرت چند مہینوں کے لیئے آپ کی محتاج ہے، یہ احساس کسی بھی حاملہ خاتون کے اندر تفاخر پیدا کردیتا ہے، لیکن اس جمالیاتی احساس کا ادراک وہی خواتین کرسکتی ہیں جو ایک سازگار ماحول میں زندگی کو جنم دینے جارہی ہیں۔ 

ہم معاشی طور پر پسماندہ ملک میں رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں نصف سے زائد حاملہ خواتین معاشی یا جسمانی پسماندگی کی حالت میں حمل کی مدت گزارتی ہیں۔ مناسب خوراک و آرام کی کمی اوپر سے گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ عام گھرانوں کی حاملہ خواتین سے ہر طرح کا جمالیاتی احساس چھین لیتے ہیں۔ حمل ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ اس مدت میں خواتین کئی طرح سے طبی و نفسیاتی مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ اس مدت میں خواتین کو مناسب خوراک، آرام اور خلوت یعنی پرائیوسی، جی “پرائیوسی!”  کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔  

سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف ممالک کی ثقافت اور طرز زندگی کو جاننا اور سمجھنا میرا شوق  ہے۔ اس لیئے مختلف ممالک کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی حاملہ خواتین کے میٹرنٹی شوٹ بھی نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ ہندوستانیوں میں گود بھرائی کی رسم جو کہ سات ماہ کے حمل کے دوران ادا کی جاتی ہے، کا رواج ہے۔ مگر اب ہندوستان میں ہی گود بھرائی کی رسم کو میٹرنٹی شوٹ کے نئے رجحان نے پرانا اور آؤٹ ڈیٹیڈ یا اولڈ فیشن بنا دیا ہے۔ میٹرنٹی شوٹ کا رجحان ایک طرف مگر اب مقابلہ اس بات کا ہے کہ کون سی خاتون خود کو اس شوٹ میں زیادہ سے زیادہ عریاں کرتی ہے۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی اداکاراؤں کے کئی میٹرنٹی شوٹ نظر سے گزرتے ہیں، کچھ میرے جمالیاتی ذوق پر پورے اترتے ہیں کچھ نہیں، اور یہاں جمالیاتی ذوق سے میری مراد یہ ہے کہ وہ میٹرنٹی شوٹ  ممتا یا پیرنٹ ہڈ کا اظہار ہو ناکہ بلاوجہ کی نیوڈٹی اور ایروٹکا کا اظہاریہ۔

بھارتی فلم اسٹار بپاشا باسو نے دوران حمل تین میٹرنٹی شوٹ کروائے اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی۔ بپاشاباسو کے آخری شوٹ نے میرے اندر کئی سوالوں کو جنم دیا اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ جمالیاتی اظہاریہ اور شہوت انگیزی میں کیا فرق ہے؟ کیا ان دونوں کے درمیان فرق یا اعتدال کی  باریک سی لکیر موجود ہے یا پھر یہ صرف اور صرف دو مختلف زاویہ نگاہ ہیں۔ یا اگر سادہ اور آسان لفظوں میں اپنے سوال کو آپ کے سامنے رکھوں تو کیا جمالیاتی اظہار اور ناظرین کو جنسی طور پر مشتعل کرنے کے لیئے دعوت نظارہ دینے میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

بپاشا باسو

یہ سوال ابھی میرے اندر جواب کھوجنے میں مصروف ہی تھا کہ میں نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداکارہ ارمین خان کا میٹرنٹی شوٹ دیکھا اور ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ یہ شاید بپاشا کے شوٹ سے متاثر ہے کیونکہ مغرب میں تو شوبز سے تعلق رکھنے والی مشہور خواتین کے میٹرنٹی شوٹس نے نیوڈٹی اور جمالیات کو خلط ملط کردیا ہے، ارمین نے بظاہرتو کچھ لحاظ رکھا ہے مگر ہمیں حاملہ خواتین کے بدن اور نشیب و فراز کو اس طرح دیکھنے یا دکھانے کی عادت نہیں ہے۔ 

ارمین خان

ہالی وڈ اداکارہ ڈیمی مور پہلی اداکارہ تھیں جنہوں  1991 میں “وینٹی فیئر” نامی میگزین کے لیئے پہلی بار حالت حمل میں برہنہ اور نیم برہنہ شوٹ کروا کر نیوڈ میٹرنی شوٹ کا آغاز کیا۔ بات چاہے ڈیمی مور کی ہو، بپاشا باسو کی یا ارمین خان کی تنقید کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم بطور معاشرہ حاملہ خواتین کو عزت دیتے ہیں اور ان کے وجود یا میٹرنٹی شوٹ میں صرف اور صرف ممتا کا جمالیاتی اظہار دیکھنا چاہتے ہیں کوئی جنسی اشتعال یا دعوت نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی مذہبی یا روایتی تنگ نظری کی وجہ سے میٹرنٹی شوٹ میں نیوڈٹی کے خلاف ہوں اور جمالیاتی طور پر بدذوق واقع ہوئی ہوں۔ بلکہ میرا نکتہ یہ ہے کہ چند خواتین کی ذاتی خواہش یا اظہار نے بہ حیثیت مجموعی حاملہ خواتین کے جنسی استحصال میں اپنا حصہ ملایا ہے۔ مارکیٹ میں برہنہ اور نیم برہنہ میٹرنٹی شوٹ کے لیئے جگہ بنی ہے۔ چاہے اشرافیہ کی چند خواتین نے یہ کام اپنے شوق سے اپنے جمالیاتی اظہار کی تسکین کے لیئے کیا ہو مگر ان کے اس عمل نے حاملہ خاتون کے بدن کو بھی بازار میں بکنے والی شئے بنا دیا ہے۔ شاید اشرافیہ کی نمائندہ ان خواتین کو ان کے اس عمل سے واہ واہی، اسپانسرز اور فالورز ملتے ہوں مگر انہوں نے عام حاملہ خواتین کی مشکلات اور سماجی گھٹن میں مزید اضافہ کیا ہے۔

میری تشویش اس وقت بے جا ہوتی اگر پورنوگرافی انڈسٹری میں حاملہ خواتین کی خاص ڈیمانڈ نہ ہوتی۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے پریگننسی فیٹش ازم نے حاملہ خاتون کے بدن کو عالمی منڈی میں خرید  فروخت کی جنس بنا دیا ہے اور کہیں نہ کہیں یہ شوبز ستارے پریگننسی فیٹش ازم کے فروغ کا باعث بن رہے۔ میرا مقدمہ یہی ہے کہ اشرافیہ کو اپنے ذاتی اظہار میں محتاط ہونا چاہیے کیونکہ عام شہری کی بہ نسبت ان پر ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی لاکھ کہے کہ نیوڈ اور سیمی نیوڈ میٹرنٹی شوٹ “استھیٹک ایکسپریشن” ہیں لیکن ہمیں بطور معاشرہ “میٹرنٹی استھیٹک ایکسپریشن” اور پریگننسی فیٹش ازم کے درمیان فرق رکھنا ہوگا۔

پریگننسی فیٹش ازم کا مطلب حاملہ خواتین کو پرشہوت یا شہوت انگیز محسوس کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایک جنسی رویہ ہے، جس میں حاملہ خاتون کا پیٹ جس قدر بڑھا ہوا ہوتا ہے اس میں اتنی زیادہ جنسی کشش محسوس کی جاتی ہے۔ اس رحجان کو فروغ دینے والے کسی بھی عمل یا عوامل کو فروغ دینا۔ پسماندہ ممالک کی لاچار حاملہ خواتین کو پریگننسی پورنوگرافی اور پریگننسی پروسٹیٹیوشن کی طرف دھکیلنا ہے۔ 

میں خاص طور پر مردوں اور ایسی خواتین جو حمل کے تجربے سے نہیں گزریں، پر واضح کردوں کے حمل کی مدت ایک تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ اس دوران حاملہ خواتین ذہنی اور جسمانی بے آرامی سے گزر رہی ہوتی ہیں۔ آٹھ یا نو ماہ کا حمل لے کر پھرنا کوئی ایڈونچر یا استھیٹک ایکسپریشن نہیں ہوتا اس لیئے کسی بھی ایسے رجحان کے فروغ میں اپنا حصہ ڈال کر حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافے کا سبب نہ بنیں۔ کیونکہ ہم نے آج کی جدید دنیا میں حمل اور بچہ پیدا کرنے کے عمل دونوں کو کامیابی سے “سیکسچولائز” اور “کیپیٹلائز” کردیا ہے۔