وقاص احمد

کئی سال پرانا سچا واقعہ ہے جو میرے ہی ایک عزیز سے متعلق ہے موصوف ٹریڈنگ کا کاروبار کرتے ہیں۔ میرے عزیز کے چند کاروباری تعلق والے لوگوں نے مشورہ دیا کہ اگر کاروبار کو چھوٹے اور درمیانے لیول سے بڑے لیول تک بڑھانا ہے تو بڑی پارٹیوں کے ساتھ کام کرو۔ میرے عزیز جو حد سے زیادہ محتاط اور دیکھ بھال کر کاروبار کرنے والے سیدھے سادھے شخص تھے، انہوں نے کہا کہ بھئی بڑی پارٹیوں میں رسک بھی بڑے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ مال لیکر اگر پیسے روک لیے تو ہم سڑک پر آجائیں گے مگر بہی خواہوں نے کہا کہ تمہیں کس نے کہا کہ تم  “کرپٹ اور خائن” کاروباریوں کے ساتھ کام کرو، اللہ کے کرم سے پاکستان میں ایک معزز ترین نیک نام “ادارہ” ہے جس کو وافر مقدار میں گندم اور دالوں جیسی اجناس کی ضرورت رہتی ہے۔ تم وہاں کوشش کرو۔ قصہ المختصر ٹینڈر کھلا، عزیز کا قرعہ نکلا، خوشیاں منائی گئیں۔ خود اتنی پسلی نہیں تھی کہ بڑی سپلائی دے سکتے تو دوست یار اکٹھے کیئے گئے۔ ضمانت کے لیے “ادارے” کی نیک نامی، وقار اور رعب دبدبہ ہی بہت تھا۔ سب نے انکھیں بند کرکے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر انوسٹمنٹ کی۔ مذید قصہ مختصر کہ بھرپور چاہت، لگن اور ایمانداری سے شروع کیا ہوا یہ سودا کچھ ایسا پلٹا کہ مال وصول کرلیا گیا لیکن پیمنٹ ملنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ تاخیر ہوتی گئی، انوسٹر اور قرض خواہ سر کو آنے لگے۔ معاملہ گھر بکنے تک پہنچ گیا تو کچھ  “سیانے” لوگ ملوث کیئے گئے جنہوں نے بتایا کہ فائل “صاحب” کی ٹیبل پر موجود ہے مگر صاحب کی گردن فائل کی طرف موڑنے کے لیے “مطلوبہ اقدامات” کی عدم موجودگی کے باعث نظر انداز ہورہی ہے۔ عزیز ان سیانے لوگوں کو لیکر سودا کروانے والے مڈل مین تک پہنچے اور اپنی سادگی میں پوچھ بیٹھے کہ صاحب کتنے پیسے لیں گے۔ مڈل مین نے انتہائی ناگواری اور غصے سے میرے عزیز کی طرف دیکھا اور کہا “صاحب کرپٹ نہیں ہیں نہ رشوت لیتے ہیں” اور پھر روکھے انداز میں عزیز کے ساتھ جانے والے سیانے لوگوں کو کہا کہ جائیں اس جوان کو سمجھائیں. “ایوں موڈ خراب کر دیا” صاحب کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوں گے۔

میرے عزیز حیران پریشان دفتر سے باہر نکلے تو ساتھ جانے والے سیانے نے ہنس کر کہا یار ایسے بھی کوئی بات کرتے ہیں؟ وہ دیکھو سامنے سیٹھ شاہد (فرضی نام) کے ٹرالے داخل ہو رہے ہیں۔ ان کے آف لوڈ ہونے تک ان کے چیکس تیار ہوں گے حالانکہ یہ ملاوٹ کرنے اور کم تولنے میں بدنام ترین پارٹی ہے۔ میرے عزیز نے پوچھا کہ وہ کیسے؟  بتایا گیا کہ صاحب بہت “بااصول” اور “کلین” انسان ہیں “رشوت نہیں لیتے” لیکن سیٹھ صاحب اگر ہر سال ان کی بیگم یا بچوں کی گاڑیوں کا ماڈل تبدیل کروانے پر اصرار کریں، یا ان کے لیئے کسی پنج ستارہ ہوٹل میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کا زبردستی بل دے دیں یا کسی فارن ٹور کا خرچہ اٹھا لیں تو صاحب مروت میں انکار نہیں کرسکتے اور ظاہر ہے جواب میں سیٹھ صاحب کی کنکر ملی، کم تول والی دال کی کیش میں ادائیگی کرنا صاحب کے لیے اس لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ کسی کا احسان مند نہیں ہونا چاہتے۔  اس لیئے خبردار! صاحب کے سامنے پیسے کا ذکر نہیں کرنا۔ یہ صاحب نہ رشوت لیتے ہیں اور نہ کرپٹ ہیں۔

لگ بھگ 15-20 سال پرانا یہ ذاتی واقعہ اس طرح سے یاد آیا کہ وطن عزیز میں بھی ایک ایسے ہی صاحب کا چرچا ہے۔ یہ صاحب بھی ایماندار، مخلص، نیک، مسٹر کلین اور نجانے کیا کیا کہلائے جاتے ہیں اور ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ان صاحب پر براہِ راست مالی کرپشن، کک بیکس یا رشوت لینے کا کوئی الزام ہے تو میں حلفاً کہوں گا کہ  “نہیں ہے” پر ماجرا یہ ہے کہ ان صاحب کے ساتھ بھی بہت سارے سیٹھ شاہد جڑے ہوئے ہیں، کوئی ان کی شادیوں اور طلاقوں کے خرچے اٹھاتا ہے، کوئی ان کو بلٹ پروف گاڑیاں خرید کر دیتا ہے، کسی کا ذاتی جہاز صاحب کے ذاتی استعمال میں رہتا ہے، کوئی صاحب کے اہل خانہ کو ڈھائی کروڑ کا عمرہ کروا دیتا ہے، کوئی صاحب کی پوری پارٹی کی الیکشن کمپین کا خرچہ اٹھا لیتا ہے، کوئی صاحب کے نا گفتنی شوق پورے کرنے کا بیڑہ اٹھا لیتا ہے اور کوئی اربوں روپے کے ٹی وی چینلز کھڑے کرکے کروڑ کروڑ روپے ماہانہ میں صحافی بھرتی کرکے صاحب کی ٹانگوں کی مالش کرنے اور قصیدہ سرائی کے لیئے مختص کردیتا ہے۔ میں دوبارہ حلفاً قسماً دہرا دوں کہ صاحب نے ان لوگوں سے آج تک کیش میں ایک ٹیڈی پیسہ نہیں لیا کیونکہ صاحب “کرپٹ” نہیں بلکہ “ایماندار” ہیں۔

صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خوددار انسان ہیں اور کسی کے احسان کے بوجھ تلے دب کر رہنا ان کی طبیعت کے منافی ہے۔ اس لیئے صاحب نے امپورٹ کے لائسنسوں، سبسڈیوں، وزارتوں، مشاورتوں، حکومتی فنڈز، پراجیکٹس کے ٹھیکوں اور اشیائے زندگی و ادویات کی قیمتوں میں من مانے اضافوں کے منہ اپنے ان دوستوں کے لیئے کھولے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے میرے خوددار صاحب کی خودداری انہیں کہاں اجازت دیتی کہ ان لوگوں کے “معمولی تحفوں”  کے احسان مند رہیں بلکہ میرے صاحب تو احسان کا بدلہ اس سے زیادہ بڑھ کر اتارنے کے شرعی احکامات کے پابند ہیں۔ ورنہ وہ شخص جس نے صرف ان کی پارٹی کی مکمل الیکشن مہم کو چند ارب روپے سے فنانس کیا تھا اس شخص کی دیوالیہ اور بدنام کمپنی کو اپنے عہدے کی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے دوست ملک کی ایک کارپوریشن کو ذاتی طور پر چونا لگا کر بیچنے کی کوشش کیوں کرتے؟ وہ تو کسی دشمن ملک میں صاحب کا فنانسر جعلسازی کے الزام میں گرفتار ہوگیا ورنہ سودا ہو چلا تھا۔ غرض صاحب تو بس احسان کے بدلے سے متعلق شرعی احکامات کی پابندی کر رہے تھے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے ملک کے سب سے بڑے. “مذہبی عالم”  نے جس رقت “انگیز” انداز میں اللہ کے حضور گڑگڑا کر صاحب کی حمد و ثناء بیان کی ہے اس کے بعد صاحب کے ایمان کی کاملیت پر میرا یقین ایسا قائم ہوگیا ہے جیسا کہ صاحب کے کرپٹ اور بد دیانت نہ ہونے پر میرا یقین محکم ہے۔ میں سینہ ٹھوک کر کہہ سکتا ہوں کہ جس نے کبھی صاحب کو بلیک لیبل شہد کی بوتل ہمراہ ایک درجن بٹیرے جیسی معمولی شئے بھی دی ہے، میرے سخی صاحب نے اسے بھی جھنڈے والی گاڑی اور وزارت سے نواز دیا ہے۔ میرے صاحب کو تو “کچا گوشت” اور ٹیلکم پاوڈر” تک سپلائی کرنے والے حکومتی مشیر بن چکے چہ “جائیکہ کوئی جیٹ ترین انہیں اپنی “عظیم خدمات” کے طعنے دیتا پھرے۔

مجھے فخر ہے کہ میرا صاحب کرپٹ نہیں ہے اس لیئے میرے پاکستانیو!  قدر کرو صاحب کی! ایسا غیور، باشعور، صاف ستھرا، اجلا، نیک، پاکباز، مخلص اور ایماندار بندہ تمہیں 1000 واٹ کا بلب لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔

Previous articleکرونا کی غلط تشخیص اور اس کے نتائج
Next articleکرونا اور جدید دنیا