تسمیہ شفیق 

طلباء یونین کو ایک سیاسی نرسری سمجھا جاتا ہے جو طلباء کو سیاسی عمل سمجھانے میں معاونت کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ پینتیس سال سے اِس پر پابندی عائد ہے۔ ایک پوری نسل فارغ التحصیل ہوگئی لیکن عملی سیاست سے بلکل ناواقف ہے۔ جہاں اس کی بحالی کے حق میں آواز اٹھائی جا رہی ہے وہیں اسکی محالفت بھی کی جا رہی ہے ہمارے ہاں طلبہ یونین کے بارے میں کچھ ابہام پاۓ جاتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عوام کی اکثریت موجودہ “طلباء تنظیموں” کو ہی “طلباء یونین”  سمجھتی ہے۔ “طلباء یونین” اور”طلباء تنظیموں” میں فرق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ پاکستان میں جو طلباء تنظیمیں ہیں وہ یونینز کی عدم موجودگی کی وجہ سے معرض وجود میں آئیں لیکن انہیں کوئی قانونی اور آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اِن میں کچھ دائیں بازو اور کچھ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے طلباء ونگز ہیں اور کچھ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی نہیں رکھتی ہیں۔ جیسے مختلف یونیورسٹیز کی کونسلز ہیں جو کہ زیادہ تر قومیت کی بنیاد پر قائم کی گئی ہیں۔ اِن سب کی مشترک بات یہ ہے کہ ان میں الیکشن نہیں “سلیکشن” ہوتی ہے اور “سلیکٹیڈ” کو سب کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ نمائندگی ووٹ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے جبکہ طلباء پر گزشتہ پینتیس سال سے پابندی ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنا نمائندہ منتخب نہیں کرسکتے۔

قابل حیرت بات یہ ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر کے افراد ملکی سطح پر قیادت منتخب کرنے کے اہل ہیں مگر ان کو تعلیمی اداروں میں اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اِن تنظیموں کی اکثریت کے پاس سرے سے کوئی دستور موجود ہی نہیں ہے۔ کس کے پاس کیا اختیار ہے اور باقی معاملات کیسے طے ہونگے اکثریت اس سے لاعلم ہے۔ تیسری اور سب سے اہم بات ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں پچاس فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے اور ان تنظیموں میں ان کی تعداد پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ گزشتہ پینتیس سالوں میں کوئی لڑکی ان تنظیموں کی سربراہ رہی ہو اسکا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی صورت میں طلباء گروپوں کا تصادم سامنے آتا رہتا ہے اور یونین کی بحالی اسکو مزید بڑھا دے گی۔ جی ہاں بدقسمتی سے یہ سچ ہے کہ ماضی میں نا خوش گوار واقعات سامنے آتے رہے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ایک تو یہ عام طلباء کی نمائندہ تنظیمیں نہیں ہیں دوسرا اس کو جواز بنا کے پابندی برقرار رکھنا اک بے وقوفی ہو گئی۔ فرض کریں! اگر ملکی سطح کی سیاسی جماعتوں کے کارکن آپس میں لڑ پڑیں تو کیا سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی جائے گی یا دیگر جماعتوں کو بھی الیکشن میں حصہ لینے سے منع کر دیا جائے گا؟ نہیں بالکل بھی نہیں بلکہ تصادم کے اسباب کو دیکھا جائے گا اور اس کے سدِباب کی کوشش کی جائے گی کیونکہ پابندی مسئلے کا حل نہیں ہوتی تو پھر یہی دلیل طلباء یونین پر لاگو کیوں نہیں ہوسکتی؟

ایک بات واضح رہے کہ جہاں ان طلباء تنظیموں میں سیاسی اور انتظامی خامیاں ہیں وہی ان میں خوبیاں بھی ہیں۔ سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ پینتیس سالوں کی پابندی کے باوجود خود کو کسی نہ کسی صورت میں قائم رکھنا بھی ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں جمہوریت ہمیشہ خطرات کا شکار رہتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم زبان، ثقافت کے اظہار کے ساتھ ساتھ طلباء کے مسائل، ہوسٹل، فیسوں، طلباء کی چھوٹی موٹی ناچاقیوں کو حل کرنے کے لیۓ کام کرتا ہے جو کہ  بہرحال ایک قابل تحسین کام ہے۔ یونین سازی کا حق آئین پاکستان کا آرٹیکل سولہ اور سترہ دیتا ہے۔ لہذا یہ ایک آئینی اور قانونی مطالبہ ہے۔ جہاں طلباء یونین کی بحالی ہونی چاہیے وہاں باقاعدہ قانون سازی بھی ہونی چاہیے۔ تاکہ طلباء یونین کے اصل ثمرات حاصل ہوں نہ کہ یونینز غنڈوں اور بدمعاشوں کی آماجگاہے بن جائیں۔ بغیر قانون سازی کے بحالی سے فائدے کی بجائے الٹا ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ پاکستان جہاں جمہوریت ہمیشہ سسکتی رہتی ہے ایسے ایڈونچر کا متحمل ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون سازی کے لیے چند ایک تجاویزات ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے تصادم سے بچا جا سکے:

١_ الیکشن کروانے کی ذمہ داری باقاعدہ الیکشن کمیشن کو دی جائے جہاں تمام طلباء تنظیموں کی رجسٹریشن ہو۔ چاہیں وہ خود مختار تنظیمیں ہو یا سیاسی جماعتوں کے ونگز اور یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات میں توسیع سے ہی ممکن ہو گا۔

٢_ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور انتظامیہ کا بلواسطہ یا بلاواسطہ الیکشن سے کوئی تعلق نہ ہو تاکہ مفادات کا تصادم سامنے نہ آ سکے۔

٣_ صرف سرکاری درسگاہوں تک محدود نہ ہو بلکہ نجی درسگاہوں میں بھی یونینز قائم کرنے کی اجازت ہو۔

٤_ تمام طلباء تنظیموں میں صنفی برابری کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے اور 49 فیصد لڑکیوں کی، 49 فیصد لڑکوں کی اور 2 فیصد خواجہ سراؤں کی نمائندگی کی قانونی شرط رکھی جائے۔ جو تنظیم اس شرط کو پورا نہ کرے اس کو رجسٹریشن کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

٥_ تمام طلباء تنظیموں کا رجسٹریشن کے وقت ایک معیاری دستور جمع کروانا لازمی ہو۔ جس میں اختیارات کی تقسیم، ممبرشپ، کسی ممبر کے خلاف شکایت ہو تو اس کے سدِباب کا طریقہ کار اوردیگر انتظامی امور کا تفصیلی بیان موجود ہو۔

٦_ تنظیموں کی فنڈنگ، ممبر شپ فیس اور دیگر معاشی امور پر ایک جامعہ قانون ہو تاکہ نچلا اور متوسط طبقہ بھی اس میں حصہ لے سکے۔

٧_ تمام طلباء تنظیموں کے لیئے ماہانہ رسالے کا اجراء ضروری ہو تاکہ ادبی سرگرمیوں کے ذریعے تمام طلباء تنظیموں کے درمیان ایک صحت مند مقابلے کی فضاء قائم ہو۔ اس کے لئے تمام لکھاریوں اور دیگر منتظمین کا طالب علم ہونا ضروری ہو نیز رسالے کا اجراء انگریزی، اردو کے ساتھ ساتھ تمام علاقائی زبانوں میں بھی ہو۔

٨_ احتجاج ایک جمہوری حق ہے لیکن اس کی کال دینے سے پہلے مسائل کے حل کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے جس سے گزرنے کے بعد ہی احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکے تاکہ ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔

٩_ الیکشن سے پہلے مینیفیسٹو جاری کرنا سب  پر لازم ہو جس میں اگلے پورے سال میں منعقد کروائے جانے والے پروگرامز کا خاکہ مع موضوعات اور عارضی تاریخ کے درج ہو۔ ان تمام سرگرمیوں کا مقصد طلباء کی تخلیقی، تنقیدی، انتظامی اور سیاسی تربیت ہے۔ لہذا تمام طلباء کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم 20 فیصد حاضری کو ووٹ ڈالنے سے مشروط کیا جاۓ۔

طلباء سیاست کے ثمرات کو حقیقی معنوں میں پانے کے لیے راقمہ نے چند تجاویز پیش کی ہیں جو یقینی طور پر کسی بھی صورت میں حتمی نہیں ہیں۔ اس موضوع پر باقاعدہ علمی مباحثہ ہونا چاہیے تاکہ مزید بہتر اصول مرتب کیۓ جاسکیں۔ تمام اہل علم وادب  سے گزارش ہے کہ طلباء یونینز کی بحالی کے حق میں آواز بلند کریں اور اگر کچھ خدشات ہیں تو ان سے نمٹنے کے لیۓ اصلاحات پیش کی جائے کیونکہ پابندی کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ پابندی کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے سیاسی اور علمی و ادبی شعور ہی مثبت اور دیرپا امن کا ضامن ہے۔

Previous articleمذہبی رواداری اور ہمارے رویے
Next article“مائی باپ کے مائی باپ”