وقاص احمد

”دیکھو! فوج ایک محب الوطن محکمہ ہے…“

ابھی ان کا جملہ نامکمل ہی تھا کہ میں ترکی بہ ترکی بولا ”تو کیا محکمہ ڈاک سے لے کر محمکہ ریلوے تک اور پولیس سے لیکر کسٹمز تک بقیہ محمکے غدار اور وطن فروش ہیں؟“

اچھی بھلی محفل تھی، اچھی بھلی گفتگو چل رہی تھی، درمیان میں یہ صاحب پھسلتے پھسلتے نجانے کس بے تکی گفتگو کی طرف نکل پڑے۔ ”مانا کہ فوج سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اس نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے اور اب وہ ملک سدھارنا چاہتے ہیں“، وہ پھر گویا ہوئے۔ میں بولا ”بھائی صاحب! اول تو ملک سدھارنا ان کا کام نہیں، انہیں صرف اپنے آپ کو سدھارنے کی ضرورت ہے، دوم آپ کو یہ کیسے پتہ ہے کہ انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھ لیا ہے؟ باقی کس نے اپنی غلطی سے نہیں سیکھا، مذید یہ کہ وہ درستگی چاہتے ہیں تو کیا باقی سب بگاڑ چاہتے ہیں؟“ وہ صاحب تنک کر بولے آرام دہ ڈرائنگ رومز اور ائیرکنڈیشنڈ آفس میں بیٹھ کر تبصرے کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن زمین پر کام کرنا مشکل“۔

میں نے کہا ”اول تو آپ نے غالباً کبھی کسی جنرل کا آفس نہیں دیکھا ورنہ آرام دہ اور ائیرکنڈیشنڈ جیسے الفاظ کا استعمال نا کرتے، دوم یہ کہ یقیناً آپ نے کبھی کسی کونسلر سے لیکر کسی سیاسی جماعت کے سربراہ تک کو زمین پر برادریوں/ دھڑے بندیوں میں تقسیم، سماجی اور معاشی مسائل میں گھری، تعصبات میں جکڑی عام عوام کے ساتھ تھانے کچہری کے معاملات سے لیکر گلیاں پکی کروانے کی فرمائشوں پر ڈیل کرتے نہیں دیکھا ورنہ زمین پر کام کرنے کے اصل مطلب سے آشنا ہوجاتے“

اب تو انہیں جیسے غصہ ہی آگیا ”میاں کبھی کوئی رات بارڈر پر گزار کر دکھاؤ تو پھر بات کرنا“۔

میں نے اسی لہجے میں جوابی سوال کر دیا ”کبھی کسی مزدور کو 15 منزل کی عمارت تعمیر کرتے، بانسوں یا پائپوں کے کسی عارضی اسٹرکچر پر زمین سے 150-200 فٹ اونچے کسی ایک پھٹے پر کھڑے ہوکر اینٹیں چنتے دیکھا ہے؟“

بولے ”ہاں دیکھا ہے، کیوں؟“

اب غصہ کرنے کی باری میری تھی ”حضور والا! دو الگ شعبوں کا موازنہ کرنا اگرچہ ایک بیوقوفانہ عمل ہے مگر چونکہ آپ یہ بیوقوفی کر چکے ہیں تو بتاتا چلوں کہ کسی سپاہی کی جان کو اندیشہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ اول اگر کبھی اپنی سروس کے دوران اسکی ڈیوٹی واقعی بارڈر پر لگ جائے اور دوم اس وقت جنگ چھڑی ہوئی ہو ورنہ یہ ایک عام نوکری ہے، مگر ایک مزدور اپنی ساری زندگی بنا کسی ہفتہ اتوار کی چھٹی کے، بنا کسی میڈل یا سرٹیفیکیٹ، میڈیکل سہولیات، بیوہ فنڈ، پنشن اور پلاٹوں کی سہولت کے، ہر روز بلا ناغہ پورا دن اسی پھٹے پر کھڑا اینٹیں چنتا ہے۔ جہاں اس کے اور موت کے درمیان صرف ایک غلط قدم کا فاصلہ ہوتا ہے۔ سو اگلی دفعہ اگر آپ اپنی بیوقوفی دہراتے ہوئے دو مختلف شعبوں کے occupational risk کا موازنہ کریں تو میری گزارش ہوگی کہ ذرا کسی مزدور کے ساتھ زمین سے 200 فٹ اوپر بانسوں کے عارضی اسٹرکچر پر لٹکتے ایک اکلوتے پھٹے پر چند گھنٹے گزار کر دکھائیں۔ میری گارنٹی ہے کہ اس تجربے کے بعد اگر آپ زندہ رہے تو ایسی بیوقوفانہ حرکت دوبارہ ہرگز نہیں دہرائیں گے“۔

بات کرتے ہوئے میں کچھ جذباتی ہوگیا تھا اور آواز بلند ہوگئی تھی اس لئے وہ صاحب کچھ دھیمے پڑ گئے۔ محفل میں موجود دیگر دوستوں نے میری بات پر تائید کا سر ہلایا تو صاحب نے بات دوسرے انداز میں جاری رکھی۔ ٹھیک ہے یار لیکن دیکھو یہ لوگ پاکستانی ہیں، وطن سے مخلص ہیں، وطن سے محبت کرتے ہیں اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کے بارے ایسی بدگمانی کیوں رکھتے ہو؟

میں نے کہا ”بندہ خدا! کیا پولیس، عدلیہ، ڈاک، زراعت، ریلوے، پی آئی اے، سیاست، صحافت، واپڈا، واسا وغیرہ میں بھارتی بھرتی کیئے ہوئے ہیں؟ کہ ان کے خلوص پر شبہ ہے؟ وہ نیک نیت نہیں ہیں کیا؟ کیا وہ ملک کے لیے برا چاہتے ہیں؟ میں ہرگز اپنی فوج کے لیے کوئی بدگمانی نہیں رکھتا، ایسے ہی جیسے میں عدلیہ کے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں رکھتا، آخر سبھی پاکستانی اور محب الوطن ہیں مگر ظاہر ہے اگر سیاستدانوں، پولیس، بیوروکریسی اور عدلیہ میں چند عناصر نے مایوس کیا ہے تو فوج کو بھی کوئی استثناء نہیں۔ کالی بھیڑیں ادھر بھی خوب موجود ہیں“  ان کا اصرار اب بھی جاری رہا ”مگر اگر یہ ملک کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں تو اس میں اعتراض کیا ہے؟“

میں نے عرض کی اس میں ایک نہیں کئی اعتراضات ہیں۔

بولے ”مثلاً؟“

میں نے کہا چلیں اب نوٹ کرتے جائیں:

  ١۔  ”پاکستان کی تاریخ“ یہ تاریخی طور پر ثابت کرچکے ہیں کہ انہوں نے جب کوئی دوسرا کام سنبھالنے کی کوشش کی ہے اس میں ملک کا نقصان ہوا ہے۔

  ٢۔ ”تربیت“ یہ بات طے ہے کہ چھ لاکھ افراد پر مشتمل ایک محکمہ جو اصول و ضوابط، چین آف کمانڈ میں بندھا، بنا چوں و چراں کیٸے یس سر کہنے والے، بے داغ اجلی  وردیوں میں ملبوس، کنٹونمنٹ کی قاعدے والی زندگی گزارنے اور رعایتی قیمتوں پر اشیاء خوردونوش اور ضروریات زندگی سے مستفید لوگ پاکستان کے عام عوام کے مسائل کو نا تو سمجھ سکتے ہیں نا حل کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے پیچیدہ ترین سماجی نظام اور معاشرتی اونچ نیچ کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ یقین مانو تو اپنے بیٹ مین یا بیگم کے بغیر یہ بازار سے دن کی سبزی تک نہیں خرید سکتے تو جب یہ کچھ سمجھ ہی نہیں سکتے تو کر کیسے سکتے ہیں؟

 ٣۔ ”جس کا کام اسی کو ساجھے“ جس سیانے نے یہ دانش کی بات بتائی تھی اس نے اپنے تجربے، مشاہدے اور عملی نتائج کو دیکھ کر ہی ایسا کہا ہوگا۔ آپ کسی ترکھان سے اپنے دانتوں کا علاج نہیں کروا سکتے۔ مثال کے طور پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں آپ کسی الیکٹریشن سے گھر کا نقشہ نہیں بنواتے اور اگر آپ ایسا سوال کریں بھی تو وہ آگے سے آپ کو کہہ دے گا کہ بھائی میں الیکٹریشن ہوں، نقشے آرکیٹیکٹ بنا کر دے گا۔ اس میں شرم کی کوئی بات نہیں  لیکن واحد ہمارے اکثر فوجی بھائی اور ان کے چاہنے والے اس سیدھی سادھی سی عقل کی بات پر غصہ کر جاتے ہیں۔ ارے بھائی آپ کا کام نہیں ہے معیشت یا خارجہ پالیسی چلانا اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ان شعبوں کی تربیت موجود نہیں۔ اگر آپ ان شعبوں میں ٹانگ اڑائیں گے تو وہی ہوگا جو پلمبر سے جراح کا کام کروانے میں ہوتا ہے اور آپ آج تک یہی کرتے چلے آرہے ہیں لیکن پھر بھی بضد ہیں کہ ہم ہی کریں گے۔

٤۔  “چین آف کمانڈ“ یہ جملہ ایک فوجی سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے؟ کوئی نہیں۔ ایک فوجی کے لیے اس کی زندگی سے زیادہ اہم چین آف کمانڈ برقرار رکھنا ہے۔ کیوں؟ اس لیٸے کہ انہیں پتا ہے کہ ان کے محکمے کی کارکردگی اور بقا اسی چین آف کمانڈ کے احترام سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر یہ اس کا احترام نہیں کریں گے تو تباہ ہوجائیں گے۔ مگر افسوس کہ یہی لوگ اس چین آف کمانڈ کو توڑتے ہیں۔ فوج کی طرح ہر ادارے بلکہ ملک کا بھی ایک چین آف کمانڈ ہوتا ہے۔ اگر آپ اس چین آف کمانڈ کو بائی پاس کریں گے تو ملک کو تباہ کروا بیٹھیں گے۔ ایک آرمی چیف، جوائنٹ چیف آف اسٹاف کو رپورٹ کرتا ہے اور وہ آگے سیکرٹری دفاع کو رپورٹ کرتا ہے، سیکٹری دفاع وزیر دفاع کو رپورٹ کرتا ہے اور وزیر دفاع وزیر اعظم کو رپورٹ کرتا ہے۔ اب اگر کوئی آرمی چیف اپنی چین آف کمانڈ کو توڑتے ہوئے اپنے باس کے باس کے باس کے باس کو بندوق کی نوک پر رکھ کر فیصلے کرے تو اس کا مطلب ایسے ہی ہے جیسے کوئی کرنل اپنے آرمی چیف کی حکم عدولی کرے۔ اس حکم عدولی کا نتیجہ ادارے اور ملک کی تباہی ہے اور اس کا سزا بھی یکساں۔ ہم یہ حکم عدولی پچھلے 70 سال سے کر رہے ہیں اور پھر بھولے بن کر پوچھتے ہیں کہ یہ ملک ترقی کیوں نہیں کرتا؟ آپ کو وجہ مثال کے ساتھ بتا دی ہے، بقیہ آپ کی مرضی۔ 

تقریب کا وقت ختم ہورہا تھا، میں نے اٹھتے ہوئے کہا ”اور جناب! ایک بات لکھ کر رکھ لیں، آپ کو لگ رہا ہے کہ شاید غلطیوں سے سیکھ لیا گیا ہے اور درستگی کی کوشش چل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ اس اندھے پروپگینڈا سے ایک قدم باہر نکل کر حالات کو دیکھئے، درستگی کی کوشش تو دور ابھی تک تو غلطیوں کا ادراک اور اقرار ہی نہیں کیا گیا“۔